Mufti Muneeb and other TLP supporters Ulama likely to be placed on fourth schedule

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج کی حمایت کرنے پر حکومت نے مفتی منیب الرحمان سمیت دیگر علماءکرام کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالنے کی تیاری پکڑ لی۔

تفصیلات کے مطابق کالعدم تحریک لبیک کے احتجاج او ملک گیر ہنگامہ آرائی کے تناظر میں منفی منیب الرحمان و دیگر کئی علماءکرام کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں ایک فہرست میں تیار کر لی گئی ہے جس میں حاجی رفیق پردیشی، غلام غوث بغدادی، مولانا ریحان امجد نعمانی، علی محمد اسلم اور عامر چھوٹانی و دیگر کے نام شامل ہیں۔

کراچی میں ضلع شرقی کے تھانوں سے فورتھ شیڈول میں نام ڈالنے کے لیے تفصیلات طلب کی گئی ہیں اور اس حوالے سے سفارشات بھی تیار کی جا رہی ہیں۔فورتھ شیڈول انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ءکے تحت ایک لسٹ ہے جس میں ایسے افراد کے نام شامل کیے جاتے ہیں جو دہشت گردی او فرقہ واریت کے حوالے سے مشکوک ہوں۔واضح رہے کہ مفتی منیب نے 19اپریل کو کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران لاہور یتیم خانہ چوک واقعے پر ملک گھر میں شٹرڈاﺅن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی نے بھی مفتی منیب کی ہڑتال کی کال کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے کالعدم تحریک لبیک کے گرفتار کارکنوں کو فوری طور پر رہا کرنے اور ان کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

KARACHI – Former Ruet-e-Hilal Committee chairman Mufti Muneeb-ur-Rehman along with other supporters of the banned outfit are likely to be placed on the fourth schedule under the Anti-Terrorism Act (ATA) 1997.

Recommendation of the persons newly enlisted in the fourth schedule includes many religious scholars including Mufti Muneeb-ur-Rehman, Haji Rafique Pardesi, Ghulam Ghaus Baghdadi, Maulana Rehan, Amjad Noomani, Ali Muhammad Aslam, Aamir Chootaani.

The authorities in this regard have sought details from the police stations of Karachi’s district east for the placement of the above-mentioned names in the fourth schedule, reports in local media suggest.

Meanwhile, documents are being compiled by the provincial law enforcer and would be sent to the Counter-Terrorism Department (CTD) shortly.

Earlier this month, the Government of Punjab placed the name of Hafiz Saad Rizvi, chief of the banned Tehreek-e-Labbaik Pakistan (TLP), on the list of the Fourth Schedule after the violent clashes across Punjab.

The Fourth Schedule is a list of proscribed individuals who are suspected of terrorism or sectarianism under the Anti-Terrorism Act (ATA), 1997.

Leave A Reply

Your email address will not be published.