EU Parliament lacks understanding of blasphemy laws in Pakistan, says FO

پاکستان نے یورپی پارلیمنٹ میں منظور کی گئی قرارداد پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یورپی پارلیمنٹ میں توہین رسالت قوانینﷺ سے متعلق قرارداد پرمایوسی ہوئی، یورپی پارلیمنٹ میں گفتگو سے پاکستان میں توہین رسالتﷺ قوانین اور مذہبی حساسیت سے لاعلمی کا اظہار ہوتا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھاکہ پاکستان کے عدالتی نظام اور قوانین سے متعلق غیرضروری تبصرہ قابل افسوس ہے، پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت، فعال سول سوسائٹی، آزاد میڈیا اور خودمختار عدلیہ موجود ہے۔

دفترخارجہ کے مطابق تمام شہریوں کے بلاامتیاز انسانی حقوق کا تحفظ اور فروغ کیلئے پرعزم ہیں، اپنی اقلیتوں پرفخر ہےجن کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور اقلیتوں کو آئین کے مطابق ان کی بنیادی آزادیوں کا مکمل تحفظ ہے۔

دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی صورت میں عدالتی و انتظامی میکانزم موجود ہے، پاکستان نے تحمل اوربین المذاہب ہم آہنگی کے پرچار میں اہم کردار ادا کیا ہے، ضرورت ہےکہ عالمی برادری زینوفوبیا، عدم برداشت اور تشدد کے خلاف مشترکہ عزم کا اظہار کرے۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق پاکستان اوریورپی یونین میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پربات چیت کیلئے کئی میکانزم ہیں، جمہوریت، قانون کی حکمرانی، گورننس اور انسانی حقوق پر بات ہوسکتی ہے، باہمی دلچسپی کے امور پر یورپی یونین سے مثبت روابط جاری رکھیں گے۔

یورپی پارلیمنٹ نے پاکستان کے خلاف قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کی گئی ہے، 6 کے مقابلے میں 681 ارکان نے قرارداد کی حمایت کی۔

قرارداد میں پاکستان کیلئے جی ایس پی پلس پر نظر ثانی کرنے اور اقلیتوں سے متعلق امتیازی قوانین کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ارکان پارلیمنٹ نے فرانس اور پاکستان کے تنازع میں فرانس سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔

FO says discourse in European Parliament reflects a lack of understanding in the context of blasphemy laws in Pakistan.
Says unwarranted commentary by European Parliament about Pakistan’s judicial system and domestic laws was regrettable.
FO statement comes a day after European Parliament adopted a resolution against Pakistan for a review of country’s GSP Plus status.

Leave A Reply

Your email address will not be published.