Musa became famous all over the world due to the jokes of his schoolmates on wearing glasses

برطانیہ میں عینک پہننے پر اسکول میں مذاق اڑنے پر ننھے طالب علم موسیٰ کا اعتماد بری طرح مجروح ہوا اور اس نے عینک پہننے سے انکار کردیا، بیٹے کے عینک پہننے سے انکار پر برطانیہ میں مقیم پاکستانی والد نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جس کے بعد دنیا بھر سے محبت بھرے پیغامات کا ڈھیر لگ گیا۔

موسیٰ کے والد نے ٹوئٹر پر لکھا کہ اسکول میں بچے موسی کو چڑاتے ہیں کہ وہ عینک پہن کربہت برا لگتا ہے، اب موسیٰ چشمہ لگانے میں ہچکچارہا ہے،چلو دنیا والوں سے پوچھیں موسیٰ گلاسز میں کیسا دکھتا ہے؟

اس پوسٹ پر دنیا بھر سے لوگوں کے محبت بھرے پیغامات کا ڈھیر لگ گیا اور سوشل میڈیا پر موسیٰ کا نام ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

کسی نے کہا سوپر مین، تو کسی نے آئرن مین، کسی نے ہیری پوٹر تو کسی نے Dexter سے ملا دیا اور موسیٰ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

لوگوں نے کہا کہ موسیٰ تم اسٹار ہو، بل گیٹس، سندر پیچائی، اسٹیو جابز اور دنیا کے ذہین اور کامیاب ترین افراد عینک لگاتے ہیں۔

پاکستانی اداکار عدنان صدیقی نے عینک پہننے کو کتابیں پڑھنے کے شوق رکھنے کی نشانی قرار دے دیا اور کہا کہ میں تمہارے گلاسز کا فین ہوں، تم کتنے پیارے دکھتے ہو، گلاسز پہن کر میرا ساتھ دو۔

علی گُل پیر نے بھی یہی جذبات ظاہر کیے اور کہا چشمہ پہننے والے تو زیادہ ہینڈسم ہوتے ہیں، اب مجھے ہی دیکھ لو۔

فاسٹ بولر محمد عامر نے کہا کہ تم عینک میں مزید ہینڈسم لگتے ہو۔

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلی عمر عبداللہ بھی موسیٰ کی حوصلہ افزائی کے لیے سامنے آگئے۔

بالی وڈ اداکارہ پوجا بھٹ نے لکھا کہ موسیٰ کو نہیں پتا ہوگا کہ میں کون ہوں لیکن اسے بتائیں کہ لڑکے بھی عینک میں اچھے لگتے ہیں جیسے لڑکیاں اچھی لگتی ہیں۔

ان کے علاوہ وفاقی وزیر زرتاج گل، کرکٹر امام الحق ، گلوکارہ میشا شفیع سمیت دنیا بھر سے سیکڑوں افراد نے موسیٰ کے لیے پیغامات بھیجے،والدین نے چشمہ پہننے والے اپنے بچوں کی تصاویر لگائیں اور انٹرنیٹ پر عینک لگانے والے بچوں کا کلب بھی بن گیا۔

ایک ٹوئٹ کے جواب میں موسیٰ کے والد نے بتایا کہ اس نے اسکول جانے سے پہلے یہ ٹوئٹ دیکھی ہیں اور خوشی سے کہہ رہا تھا کہ میں مشہور ہوگیا ہوں۔

بعد ازاں ایک ویڈیو پیغام میں ننھے موسیٰ نے سب کا شکریہ ادا کیا اور اعتماد سے گلاسز لگانے کی یقین دہانی کرائی۔

موسیٰ کے والد کے پیغام نے ‘Bullying’ کے مسئلے کی نشاندہی کی، جس کا دنیا بھر میں جانے کتنے بچے شکار بنتے ہیں،کسی کو کالا، موٹا، چھوٹا کہہ کر چڑایا جاتا ہے اور بچے خود پر اعتماد کھو بیٹھتے ہیں،عملی زندگی میں کسی قابل نہیں سمجھتے۔

جب بھی بچوں کو تضحیک کا سامنا ہو تو اساتذہ اور والدین کو ان کے ساتھ نہایت شفقت سے سے پیش آنا چاہیے، انہیں احساس کمتری سے باہر نکالیں اور کامیابی کا اعتماد دیں،ویسے ہی جیسے والد کے مثبت رویے نے موسیٰ کا کھویا اعتماد واپس لوٹا دیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.