Revealed :America’s nefarious plan under the guise of friendship with Pakistan

لاہور(رپورٹ ؛اسد مرزا)مسئلہ کشمیر کا حل کس طرح ممکن ہو رہاہے ؟ یہ ایک دلچسپ کہانی ہے ۔ چین جو سی پیک کو اپنے لئے بڑی اہمیت دیتا ہے ، اسکی تکمیل کے لئے کسی بھی طاقت کی جانب سے رکاوٹ کے زبردست مخالف ہے ۔ چین نے امریکی رہنماﺅں پر یہ واضع کیا ہے کہ انہوں نے کبھی امریکہ کے منصوبے میں مداخلت نہیں کی ۔

امریکا نے دو بار افغانستان میں مداخلت کی لیکن چین نے وہاں کسی قسم کی رکاوٹ کھڑی کرے کی کوشش نہیں کی ۔ موجودہ حالات میں جب سی پیک پر کام تیزی سے جاری ہے امریکا کی سرپرستی میں بھارت لداخ اور مقبوضہ کشمیر میں فوجیں لے آیا۔ امریکا بھارت کے زریعے وہاں شرانگیزی پھیلانے میں ملوث ہے جسکا مقصد سی پیک کے روٹ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے ۔ چین نے امریکی حکام پر دھمکی کے انداز میں واضع کیاہے کہ آپکو اب سمجھ لینا چاہئے کہ چین کے بڑے منصوبے میں مداخلت کی بھاری قیمت چکانا ہو گی ۔

بتایا گیاہے کہ امریکیوں نے چین کے منطقی انداز کو بہتر طریقے سے سمجھ لیا ہے اور وہ مذاکرات کی ٹیبل پرآنے کے لئے تیار ہو گئے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں خطے میں چین ایک اہم کھلاڑی ہے اسے ناراض کر کے یا اسکے منصوبے میں رکاوٹیں کھڑی کر کے صورتحا ل بہتر نہیں ہو سکتی ۔چین کے رہنماﺅں کے ساتھ امریکی خارجہ پالیسی کے ماہرین طویل بات چیت کے بعد معاملات سلجھاﺅں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

چین نے امریکی حکام پر یہ بھی واضع کیا کہ اگر انکے منصوبے پر بھارتی ایجنسی’ را ‘نے ڑوڑے اٹکانے کی روش نہ چھوڑی تو چینی فورسزز مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوجائیگی اسطرح مقبوضہ کشمیر انڈیاکے ہاتھ سے نکل جائیگا اور چین مقبوضہ کشمیر میں امن فورسزز کے حوالے کریگا۔ ایک اہم پہلوﺅ یہ ہے کہ کشمیر کا ایک اہم حصہ لداخ میں بدمت مذہب کے لوگ بھی آباد ہیں نسلی اعتبار سے چین کے قریب ہیں اور جغرافیائی اعتبار سے چین کے ساتھ باآسانی جا سکتا ہے۔ اس تمام جغرافیائی اور نسلی پوزیشن کی وجہ سے امریکیوں کو یہ بات سمجھ آگئی کہ وہ کشمیر میں اہم کامیابی حاصل نہیں کر سکتے اس لئے انہوں نے افغانستان سے انخلاءکے ساتھ ساتھ کشمیر کے بارے چین کے نکتہ نظر کو سمجھنا شروع کر دیا اور یہ معاملہ تیزی سے حل کی جانب جا رہاہے ۔ اس میں چین ،پاکستان امریکہ اور بھارت اہم رول ادا کر رہے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.