The screams of Islamabad journalists By Syed Talat Hussain

:سید طلعت حسین

طاقتور پر ہاتھ ڈالنا بھڑوں کے چھتے کو چھیڑنے کے مترادف ہے۔ اگر طاقتور قانون سے بالا اپنی ذات میں گم بپھرے ہوئے سانڈ کی طرح دندناتے پھر رہے ہوں تو پھر ان کو روکنا بدترین نتائج پر ہی منتج ہو گا۔ مگر صحافی کا کام ہی ایسا ہے کہ تمام تر احتیاط کے باوجود اس کا پاؤں کسی نہ کسی کی دُم پر پڑ ہی جاتا ہے۔

ٹرمپ کا امریکہ ہو یا پیوٹن کا روس، فلپائن ہو یا میانمار، غلطیوں کی نشاندہی کرنا اور عوام کے جذبات کو سامنے لانا جرم ہے۔ ہم میانمار نہیں ہیں اور دنیا کے ان چند خوش قسمت ممالک میں سے ہیں جہاں پر جمہوریت پر عوام کا اعتماد کسی نہ کسی صورت میں قائم ہے۔

یہاں پر آئین اور جمہوریت کے خلاف بدترین سازشیں بھی جمہوریت کا چوغا اوڑھ کر کی جاتی ہیں۔ آئین کو پامال کرنے والے آئینی عہدے سنبھالنے کی جلدی میں ہوتے ہیں۔ انتخابات چرانے والے خود کو جمہوریت کا سب سے بڑا مداح قرار دیتے ہیں۔ درباریوں کے جھرمٹ میں بیٹھ کر قانون کی اطاعت اور سربلندی کی بات کرتے ہیں مگر اتنی ہمت نہیں کر پاتے کہ اپنے جمہوریت شکن رویوں کی تفصیل سن پائیں۔

تو بظاہر ہم ایک جمہوریت ہیں۔ یہاں پر سینکڑوں چینلز، آزاد اخبارات، صحافیوں اور مدیروں کی تنظیمیں منتخب نمائندگان اور سول سوسائٹی کی مدد سے آزادی رائے کو سر آنکھوں پر رکھتی ہیں۔ اعداد و شمار کچھ اور کہانی بتاتے ہیں۔

فریڈم نیٹ ورک نامی ایک تنظیم نے اپنی 2021 کی رپورٹ میں ایک سال میں 148میڈیا کُش واقعات کا ذکر کیا ہے۔ جو اس سے پچھلے سال میں ہونے والے واقعات سے 40 فیصد زیادہ ہیں۔ ستائیس مقدمات درج کیے گئے اور اس ملک کا دارالحکومت اسلام آباد صحافیوں کے لیے خطرناک ترین شہر قرار پایا۔

یہ حقیقت بالخصوص پریشان کن ہے کیوں کہ اسلام آباد پاکستان کے تمام شہروں کی نسبت رقبے اور آبادی کے اعتبار سے درد سر پیدا کرنے والا شہر نہیں ہے۔ یہاں پر شہریوں اور پولیس کا تناسب سب شہروں سے زیادہ ہے۔ یہاں تمام انٹیلی جنس ایجنسیز کے دفاتر ہیں۔ افسر شاہی اپنے مکمل جاہ و جلال سے ہر روز اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔ پارلیمان، عدالت عظمی، متحرک وکلا، سکیورٹی کیمرے، شہریوں کی حفاظت اور قانون کی بالادستی کے لیے چاک و چوبند ہیں۔

سفارت کاروں کی بھرمار ہے۔ ان کی اپنی سکیورٹی کا انتظام اور ان کے لیے کیے گئے خصوصی تدابیر اس خطہ پاکستان کے چپے چپے کو ہر وہ تحفظ فراہم کرتی ہیں جس کا دوسرے شہروں کے رہائشی خواب میں بھی مطالبہ نہیں کر سکتے۔

مگر اس آہنی حصار کے باوجود بلوچستان، خیبرپختونخوا، جنوبی و مغربی پنجاب، اندرون سندھ اور کراچی کے مضافاتی علاقے اسلام آباد کی نسبت صحافت کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ یہ ذہن میں رکھیں کہ اسلام آباد میں کام کرنے والے صحافی اور مالکان اتنے اثر و رسوخ کے مالک سمجھے جاتے ہیں کہ تجزیاتی طور پر ان پر حکومتیں بنوانے اور گروانے کا الزام بھی اکثر عائد کیا جاتا ہے۔

ان کی ذاتی دوستیاں ہیں۔ تعلقات ہیں۔ طاقتوروں کے گھروں میں آنا جانا ہے۔ مگر پھر بھی نہ اپنی جان بچا سکتے ہیں اور نہ مسلسل دھمکیوں کو روکنے کی سکت رکھتے ہیں۔ ایسی کسمپرسی تو دور دراز متعین نوکریوں کے بغیر صرف تنظیم کارڈ رکھنے کے عوض کام کرنے والے نمائندے بھی محسوس نہیں کرتے ہوں گے جس میں اسلام آبادی صحافی ان اعداد و شمار کی روشنی میں پھنسے ہوئے نظر آتے ہیں۔

اس تناظر میں ابصار عالم پر ہونے والا قاتلانہ حملہ مزید اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔ بنیادی شخصی آزادیوں کی بدترین مثال ہونے کے ساتھ ساتھ یہ واقعہ اسلام آباد میں صحافت کے خطرات کو پریشان کن انداز سے سامنے لایا ہے۔

ابصار عالم اپنے گھر سے سینکڑوں میل دور پہاڑی علاقوں میں خاموش یا تاریک گزرگاہوں میں گھومتے ہوئے قاتلانہ حملے کا شکار نہیں ہوئے۔ وہ چمکتی شام، سینکڑوں پڑے لکھے شہریوں کی موجودگی میں گھر سے چند گز کے فاصلے پر ایک پارک میں دو فٹ کے فاصلے سے گولی کا نشانہ بنے۔ اگر اسے اپنی عمر رسیدہ والدہ کا خیال نہ ہوتا تو وہ چل کر دہلیز تک بھی پہنچ سکتا تھا۔ وہ گھر کے اتنا قریب تھا۔

حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار نہیں تھا۔ دیدہ دلیری یہ ہے کہ وہ اپنے ہدف کے پارک میں داخل ہونے کے 20 منٹ بعد اسی فلیٹ پر اس کے ساتھ تین چکر لگا چکا تھا۔ اس نے درخت کے پیچھے سے چھپ کر وار نہیں کیا۔ کھلے آسمان کے نیچے، سب کے بیچ ہاتھ سیدھا کر کے گولی چلائی اور پھر اپنی ٹانگوں پر بھاگتا ہوا ایسے نکل گیا جیسے مکھن میں سے بال۔

قسمت ابصار کے ساتھ تھی خدا ترس گاڑی سوار جوانوں نے اس کو بروقت ہسپتال منتقل کر دیا اور وہ گولی جس نے اس کو اگلے جہاں پہنچانا تھا اس کی آنت میں سوراخ کیے بغیر اپنی حدت سے اپنے دیے ہوئے زخم کو وقتی طور پر مندمل کرتی ہوئی جسم کے دوسری جانب سے نکل گئی۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ عموما بڑی آنت کو نشانہ بنانے والی گولی درجن سے زائد جگہوں پر اپنے جان لیوا زخم چھوڑتی ہے۔ اگر یہ سب نہ ہوتا تو حالات ایک اور بدترین سانحے کو جنم دے چکے ہوتے۔

اس واقعے پر چند نام نہاد صحافیوں نے نیم خوشی کے عالم میں جس طرح شکوک و شبہات کا اظہار کیا وہ ابصار عالم پر ہونے والے قاتلانہ حملے سے کم نہیں۔ ان افواہ سازوں کے معیار کے مطابق جب تک خون آلودہ چھلنی کی ہوئی لاش نظر نہ آئے تب تک حملہ حملہ نہیں ہوتا۔ وہ حملے کی زد میں آئے ہوئے شخص سے کفن کی ضمانت حاصل کیے بغیر اس کے زخموں کو اہمیت دینے پر تیار نہیں ہوتے۔

حملہ آور کی گولی اور ان کے ٹویٹ اور تجزیے اسی نفرت میں ڈوبے ہوئے ہیں جس نے اسلام آباد کی دلکشی میں چھپے ہوئے بدصورت عنفریتوں کو بے لگام کر دیا ہے۔ اسلام آباد سے دور جگہوں پر صحافیوں کو لاحق خطرات کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ مگر یہاں پر مارنے والے ہاتھ درجنوں ہیں اور تحفظ فراہم کرنے والا نظام اتنا ناکارہ کبھی کسی مجرم کو پکڑ نہیں پایا۔

جبھی تو ہر قاتلانہ حملے کو غیر نصابی سرگرمیوں کے رجسٹر میں درج کر کے کھاتا بند کر دیا جاتا ہے۔ نہ جانے تمام غیرت مند گولیاں مزاحمتی صحافیوں کی سمت ہی کیوں چلی آتی ہیں؟

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے اور ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.