After Bail of Lahore’s Top 10 Gangster Gogi Butt, Police trying to arrest Him again on other Cases

لاہور میں ٹاپ ٹین بدمعاشوں کی فہرست میں بڑے بدمعاش خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ اور انکے ساتھیوں کی ضمانت کے بعد گوگی بٹ کی دیگر مقدمات میں گرفتاری کے لئے پولیس حکام نے کیمپ جیل لاہور کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر لیڈیز پولیس بھی تعینات کر دی۔ جس پر جیل انتظامیہ کے علاوہ گوگی بٹ کی گرفتاری کے لئے آنے والی بااثر شخصیات ،خواتین اور جیل انتظامیہ نے پولیس حکام کو نفری جیل کے باہر سے ہٹانے کی درخواست کر دی ۔

جیل انتظامیہ کے ساتھ گوگی بٹ کے اہم سفارشی اور پولیس کے اعلی حکام بھی حیران تھے کہ جیل کے باہر لیڈیز پولیس کی تعیناتی پر حیران ہو تھے ۔ گوگی بٹ کو گرفتار کرنے والے ڈی ایس پی سی آئی اے میاں شفقت نے افسران کو اہم راز سے پر دہ اٹھا کر حیران کر دیا ۔ یہ راز کیا تھا جس کی وجہ سے سب پریشان تھے ۔ ڈی ایس پی سی آئی اے میاں شفقت نے افسران کو بتایا کہ گوگی بٹ ضمانت کے باوجود جیل سے باہر نہیں آرہا ۔

جیل انتظامیہ جس کی ملی بھگت سے سارا دن گوگی بٹ کی جیل کے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ کے دفتر میں ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا جبکہ گوگی بٹ جیل کے سرکاری پی ٹی سی ایل فون سے کالیں بھی کرتا رہا ہوتی رہی جس کے بعد گوگی بٹ کی فیملیز اور کئی خواتین برقعیںپہن کر بیش قیمت گاڑیوں میں جیل آئیں ۔ انہیں اطلاع ملی ہے کہ گوگی بٹ برقعہ پہن کر جیل سے نکل سکتا ہے اس لئے جیل کے تمام دروازوں پر پولیس کی نفری کے ساتھ ساتھ لیڈیز اہلکار بھی تعینات کر دی گئیں جو جیل سے باہر آنے والی تمام گاڑیوں کی تلاشی کے ساتھ ساتھ خواتین کے چہروں سے نقاب ہٹا کر چیک کرتی ہیں ۔

تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ گرفتار ہو کر حوالات میںرہا اور پھر جیل میں ۔ لیکن جیل میں آکر اسے اتنا پروٹوکول ملا اسکے ساتھ گرفتار تمام ملزمان حیران رہ گئے۔پولیس ریکارڈ کے مطابق خواجہ عقیل کو سابق پولیس انسپکٹر نوید سعید نے ایک مقدمے میں گرفتار کیا لیکن مسلم لیگ ن کے مقامی رہنماﺅں کی سفارش پر اسے رہاجو اگلے روز گوگی بٹ نے ضمانت کروالی دوسری بارسابق ایس ایس پی چوہدری شفقات نے گرفتار کروایا جو سفارش آنے پر چند گھنٹے بعد ہی اسے رہا کر دیا لیکن سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر اور ایس ایس پی سی آئی اے خرم جانباز کے حکم پر ڈی ایس پی سی آئی اے میاں شفقت کی قیادت میں پولیس پارٹی نے گوگی بٹ پر ہاتھ ڈالا تو پھر اسے حوالات اور جیل کا منہ دیکھنا پڑا ۔ڈی آئی جی مرحوم کے سسر ، پولیس کے بعض افسران ، سیاسی و دیگر اہم شخصیات جو بڑے بڑے دعوے کرت تھے سی آئی اے پولیس حراست میں گوگی بٹ سے ملاقات نہ کر سکے جس کے باعث انکے عہدے اور کھوکھلے دعوے ریت کی دیوار ثابت ہوئے ۔بتایا گیاہے کہ حکومت پنجاب کی اہم شخصیات نے لاہور پولیس کو اس بڑی کارروائی کو سراہا اور بدمعاشوں کی فہرست میں دیگر ملزمان کے خلاف بلا تفریق آپریشن کرنے کی ہدایت جاری کیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.