Federal government decides to re-investigate Hudabia case against Sharif family

وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی برطانیہ میں ٹی ٹیز سمیت نئے ثبوت ملے ہیں جس کی بنیاد پر حدیبیہ پیپر ملز کیس کی نئے سرے سے تفتیش شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ ‘آج وزیر اعظم عمران خان کو قانونی ٹیم نے شہباز شریف کے مقدمات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ نئے سرے سے تفتیش کا متقاضی ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو تفتیش نئے سرے سے شروع کرنے کی بدایات دی جارہی ہیں’۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ‘حدیبیہ کا مقدمہ شریف خاندان کی کرپشن کا سب سے اہم سرا ہے، اس مقدمے میں شہباز شریف اور نواز شریف مرکزی ملزم کی حیثیت رکھتے ہیں، جو طریقہ حدیبیہ میں پیسے باہر بھیجنے کے لیے استعمال ہوا اسی کو بعد میں ہر کیس میں اپنایا گیا، اس لیے اس کیس کو انجام تک پہنچانا از حد اہم ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘کچھ نئی معلومات ملی ہیں، شہباز شریف نے برطانیہ میں ٹیٹیاں لگائیں اور اس کے ذریعے پاکستان میں پیسے لائے یہ ساری شہادت حدیبیہ سے لنک کرتی ہیں اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ایف آئی اے کو کیس دوبارہ کھولنے کا کہا ہے’۔

نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ایک سوال پر فواد چوہدری نے کہا کہ ‘عدالتوں کے سامنے پرانے ثبوت کو صحیح طریقے سے پیش نہیں کیا گیا، اس کو بھی سامنے لانے کی ضرورت ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس معاملے میں کچھ نئے ثبوت بھی سامنے آئے ہیں، خاص کر برطانیہ میں شہباز شریف نے نئی ٹی ٹیاں لگائیں اور ان کے ذریعے پیسہ یہاں آیا اور دور میں شہادتیں حدیبیہ کیس سے لنک کرتی ہیں’۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ‘یہ شہادتوں کی نئی چین ہے، جو سامنے آئی ہے اور اس کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ ایف آئی اے کو یہ ذمہ داری دی جائے کہ وہ اس معاملے کی تفتیش کرے’۔

قبل ازیں گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں شہباز شریف کی بیرون روانگی کی اجازت نہ دینے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر کی جانب سے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی درخواست پیش کی گئی اور درخواست کی اگلی ہی سماعت میں انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی گئی تاہم اس تمام معاملات میں حکومت سے کوئی مؤقف شامل نہیں رہا۔

وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ شہباز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا مطلب یہ ہے کہ ان ہزاروں قیدیوں کو حقوق کو ایک طرف رکھ دیں اور انہیں بھول جائیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے داخلہ و احتساب مرزا شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ ‘مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے عدالتی فیصلے کے بعد عوام کو گمراہ کرنا شروع کردیا ہے اور شہباز شریف کے خلاف شہزاد اکبر کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہیں اس لیے میں یہاں 55 جلد پر مشتمل ثبوت لے کر آیا ہوں جس میں 100 سے زائد گواہان کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ جلدوں پر مشتمل دستاویزی ثبوت ریفرنس کے ساتھ عدالت میں داخل ہوچکے ہیں۔

شہزاد اکبر نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ ‘یہ ہیں وہ ذرائع جو آپ بتانے سے قاصر ہیں لیکن میرے پاس ہیں اور عید کے بعد ٹرائل آگے چلے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف پر منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں جنہیں صرف نظر کردیا گیا اور اسی منی لانڈرنگ کی وجہ سے پاکستان آج فیٹف کی گرے لسٹ میں ہے، حکومت شہباز شریف کی ضمانت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا سوچ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حدیبیہ کیس میں کب کیا ہوا؟ مکمل جائزہ

ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا حکم دیا تھا، انہوں نے نیب کو مشورہ دیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف احتساب ادارے کو اپیل کرنی چاہیے۔

حدیبیہ پیپر ملز کیس
سابق وزیر اعظم نواز شریف اور اسحٰق ڈار کے خلاف نیب نے ایک ارب 20 کروڑ روپے بد عنوانی کے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس 2000 میں دائر کیا تھا، تاہم لاہور ہائی کورٹ نے یہ ریفرنس خارج کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا تھا کہ نیب کے پاس ملزمان کے خلاف ثبوت کا فقدان ہے۔

پاناما پیپرز کیس کی تحقیقات کے دوران سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کیس کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو حدیبیہ پیپر ملز کیس کا ریکارڈ جمع کرایا تھا، جس میں 2000 میں اسحٰق ڈار کی جانب سے دیا جانے والا اعترافی بیان بھی شامل تھا۔

اسحٰق ڈار نے اس بیان میں شریف خاندان کے کہنے پر ایک ارب 20 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کرنے اور جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے کا مبینہ اعتراف کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے اپنے اس بیان کو واپس لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ بیان ان سے دباؤ میں لیا گیا۔

نیب نے ریفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ نوازشریف اور شہباز شریف سمیت دیگر ملزمان کے خلاف 2000 میں جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے ایک کروڑ 48 لاکھ ڈالر مبینہ منی لانڈرنگ کی تھی تاہم نیب ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی اور لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے 2011 میں ریفرنس مسترد کردیا تھا۔

نیب نے لاہور ہائی کورٹ کے خلاف 2017 میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی لیکن عدالت عظمیٰ نے نیب کی اپیل مسترد کر دی تھی۔

سپریم کورٹ نے نیب کی جانب سے حدیبیہ پیپرملز کیس کی دوبارہ تفتیش کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے تفصیلی فیصلے میں تشویش کا اظہار کیا تھا کہ ‘ریفرنس کو بلا جواز طوالت دی گئی، حدیبیہ کیس اسی وقت مر گیا تھا جب نیب حکام اس معاملے کو کئی برسوں تک متعدد عدالتوں میں گھسیٹتے رہے’۔

سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں کہا تھا کہ ریفرنس کو غیر معینہ مدت تک زیرالتوا رکھ کر قانونی عمل کی نفی کی گی، لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے کیس کی از سر نو تفتیش کا فیصلہ کمزور بنیادیوں پر تھا، ریفرنس میں ملزمان کو دباؤ میں لانے کے سوا کچھ نہ تھا جبکہ ملزمان کو دفاع کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔

عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے تھے کہ ‘حدیبیہ کیس کی اصل موت تو احتساب عدالت میں ہی ہو گئی تھی، نیب نے 1 ہزار 2 سو 29 دن میں اس کیس کی بحالی کے لیے کوئی اپیل دائر نہیں کی اور نا ہی تعطل کے حق میں ٹھوس شواہد پیش کیے’۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.