Iran confirms talks with Saudi Arabia, promises best efforts

ایران نے سعودی عرب سے حال ہی میں ہونے والی بات چیت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے اپریل کے اوائل میں سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے ادوار کی پہلی بار تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی یا نتائج کے حوالے سے ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔

اس حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ کا نیوز کانفرنس میں خطے میں قیام امن اور ترقی کے لیے ہر قسم کے مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہنا تھا کہ خطے کے دو اہم مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے حق میں بہتر ہے تاہم ایران ابھی بات چیت کے نتائج کا انتظار کر رہا ہے۔
مذاکرات کے حوالے ترجمان خطیب زادہ نے مزید کہا کہ انہوں نے کہا تھا کہ اپریل میں ہونے والی بات چیت کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے۔

سعودی عرب کو امن کے قیام کے لیے ضمانت چاہیے جب کہ ایران نے پابندیوں کے خاتمے پر بھی بات کی تھی۔5 سال سے سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے وفد کے درمیان بغداد میں اہم ملاقاتوں کا انکشاف برطانوی نے کیا تھا تاہم دونوں ممالک نے پہلے ردعمل کے طور پر خبر کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔ مذاکرات کے بارے پہلی بار عوامی سطح پر بات ولی عہد محمد بن سلمان نے اپریل کے آخر میں العربیہ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کیا تھا جس میں انہوں روایتی حریف ایران سے اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

ولی عہد کے اس بیان کے بعد ایران نے مفاہمانہ انداز کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ دونوں ممالک کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں قیام امن کے لیے مل کر کام کریں گے۔مذاکرات کے مندرجات کے بارے میں دونوں ممالک ابھی احتیاط سے کام لے رہے ہیں اس لیے مذاکرات کا ایجنڈا سامنے نہیں ا?سکا ہے تاہم عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب نے یمن میں جنگ بندی کے لیے حوثی باغیوں پر ایران سے اپنا اثر رسوخ استعمال کرنے پر زور دیا ہے۔

Iran confirmed publicly for the first time on Monday that it is in talks with its regional arch-rival Saudi Arabia, saying it would do what it could to resolve issues between them.

“De-escalation of tensions between the two Muslim countries in the Persian Gulf region is in the interest of both nations and the region,” foreign ministry spokesman Saeed Khatibzadeh said in a televised weekly news conference.

Iran was waiting for the outcome of the talks, he said: “We welcome resolving of the issues that have existed between the two countries […] We will use our best efforts in this regard.”

Ambassador Rayed Krimly, head of policy planning at Saudi Arabia’s foreign ministry, last week told Reuters that talks between Saudi Arabia and Iran were aimed at reducing regional tensions. He said it was too early to judge the outcome and Riyadh wanted to see “verifiable deeds”.

Iran and Saudi Arabia have been locked in a rivalry that has played out in proxy conflicts across the region, from Yemen to Syria to Iraq. The two countries cut diplomatic ties in 2016. Middle East officials and sources said last month that they had held two rounds of talks.

The arrival of President Joe Biden in the United States has altered the diplomatic calculus across the Middle East. Washington aims to restart a nuclear deal with Iran that Biden’s predecessor Donald Trump abandoned, and has called for Saudi Arabia to end a war against Yemen’s Iran-aligned Houthi forces.

Some sources told Reuters last month that Tehran had promised to use its influence to halt Houthi attacks on Saudi Arabia, in return asking Riyadh to support the nuclear talks.

Nuclear talks in Vienna between Tehran and world powers aim to bring Washington and Iran back into full compliance with the nuclear deal. In retaliation for sanctions reimposed since 2018 by Trump, Iran has breached nuclear restrictions under the pact.

Leave A Reply

Your email address will not be published.