Pakistan;s government has agreed to introduce new regulations to meet the remaining requirements of the FATF

اسلام آباد(این این آئی)حکومت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی باقی شرائط کو پورا کرنے کیلئے نئے ضوابط متعارف کروانے کیلئے رضا مند ہوگئی ،ان میں اینٹی منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) سے متعلق املاک اور اثاثوں کو ضبط کرنا، انتظام سنبھالنا اور نیلامی کے علاوہ پولیس، صوبائی انسداد بدعنوانی اسٹیبلشمنٹس (اے سی ای) اور دیگر چھوٹی ایجنسیوں سے اے ایم ایل کے مقدمات کی تفتیش اور قانونی چارہ جوئی خصوصی ایجنسیوں کو منتقل کرنے کے حوالے سے ضوابط شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ قوانین کے دو سیٹس کا ایک حصہ ہے جس میں اے ایم ایل(ضبط شدہ پراپرٹیز مینجمنٹ) رولز 2021 اور چند روز قبل وفاقی کابینہ کے اجلاس سے منظور شدہ رقم کی پیروی کے بارے میں قومی پالیسی کے بیان کے تحت اے ایم ایل (ریفیرل) رولز 2021 شامل ہیں۔اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 (اے ایم ایل اے) کے موجودہ شیڈول میں چند تبدیلیوں کے لیے یہ قواعد اور متعلقہ نوٹی فکیشن فوری طور پر نافذ ہوجائیں گے جس پر عمل درآمد کے لیے منتظمین اور خصوصی سرکاری استغاثہ کا تقرر ہوگا۔ان اقدامات کی بنیاد پر ایف اے ٹی ایف اس نتیجے پر پہنچے گا کہ پاکستان نے ایکشن پلان کے 27 میں سے باقی 3 نکات پر پر عمل کر لیا ہے یا نہیں، جس کی بنیاد پر رواں سال فروری میں اس کا نام نام نہاد ‘گرے لسٹ’ سے نہیں نکالا گیا تھا۔

ایف اے ٹی ایف کے جائزے کے متعدد اجلاس جون کے دوسرے ہفتے میں شروع ہونے والے ہیں جس کا اختتام 21 سے 25 جون کو ایف اے ٹی ایف کے اگلے مکمل اجلاس میں ہوگا۔ایکشن پلان کے جن 3 نکات پر عملدرآمد ابھی باقی تھا ان میں یہ ظاہر کرنا کہ دہشت گردوں کی مالی اعانت (ٹی ایف) کی تحقیقات اور استغاثہ ان افراد اور اداروں کو نشانہ بناتا ہے جو افراد کی طرف سے یا نامزد افراد کی ہدایت پر کام کرتے ہیں، یہ ظاہر کرنا کہ ٹی ایف قانونی کارروائیوں کے نتیجے میں مؤثر اور متناسب پابندیاں عائد ہوتی ہیں، تمام نامزد دہشت گردوں، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے یا ان کی طرف سے کام کرنے والے افراد کے خلاف ٹارگٹڈ مالی پابندیوں کے مؤثر نفاذ کا مظاہرہ۔اب حکومت نے ضبط، وصول، انتظام، کرایہ، نیلامی، منتقلی یا اے ایم ایل 2010 قواعد یا عدالتی احکامات کے تحت ضبط کرنے کے اختیارات کے ساتھ درجنوں منتظمین کے تقرر کا فیصلہ کیا ہے۔فیصلے کے تحت انسداد منشیات فورس کے ریجنل ڈائریکٹرز کو اے این ایف کے ایڈمنسٹریٹر، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے کسٹم کلیکٹرز، آئی آر ایس کے لیے ان لینڈ ریونیو سروس کے ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹرز، ایف آئی اے کے زونل ڈائریکٹرز اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے ریکوری، ڈسپوزل اور ایسیٹ مینیجمنٹ سیلز کے ایڈیشنل ڈائریکٹرز کو منتظمین مقرر کیا جائے گا۔

اے ایم ایل (ضبط شدہ پراپرٹیز مینجمنٹ) رولز 2021 میں یہ بتایا گیا ہے کہ کیسے نیلامی کے لیے انوینٹریز کی پیمائش، وضاحت یا تعریف، حفاظت اور تشخیص ہوگی، نیلامی کمیٹیوں کی تشکیل سمیت اس کے تمام عمل کیسے مکمل کیے جائیں گے اور جائیدادوں کی تعداد یا درجہ بندی کس طرح کی جائے گی جیسے پراپرٹی رہائشی، تجارتی یا صنعتی نوعیت کی ہے اور اس کی مارکیٹ ویلیو یا فروخت کی قیمت کتنی ہونی چاہیے۔مثال کے طور پر ایک لاکھ روپے سے زیادہ کی منقولہ جائیداد کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے لاکر یا والٹ، ضلع یا تحصیل خزانے یا کسی بھی قومی بینک میں رکھا جائے گا۔ایسی منقولہ جائیدادوں کے انخلا کے لیے متعلقہ ایجنسی گریڈ 17 یا اس سے زائد کے دو افسران کو نامزد کرے گی اور ایجنسی کے اگلے نگران افسر کی پیشگی تحریری اجازت درکار ہوگی۔ہر ایجنسی ضبط شدہ جائیداد کی اثاثوں کی بازیابی اور انتظام کو یقینی بنانے کے لیے ایک مرکزی اثاثہ بازیابی کا دفتر قائم کرے گی اور وزارت خزانہ کے زیر انتظام اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس ایک مرکزی اکاؤنٹ رکھے گی جہاں جائیداد کی رقم کو عدالتی احکامات کے تحت ضبط کرنے کے حتمی فیصلے کے بعد تمام ایجنسیاں بھیجیں گی۔اے ایم ایل اے 2010 کے تحت ضبط کرنے کے عمل میں تیزی کے لیے تمام تفتیشی اور استغاثہ ایجنسیاں دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ جائیداد کے بارے میں مالی انٹیلی جنس اور معلومات کا تبادلہ کریں گی۔

دوسرا یہ کہ انسداد منی لانڈرنگ (ریفرل) رولز 2021 کو متعارف کرایا جارہا ہے تاکہ ان معاملات کو تفتیشی ایجنسیوں کے ایک سیٹ سے دوسرے سیٹ میں منتقل کیا جاسکے۔کیس میں اگر پولیس، اے سی ای یا دیگر سرکاری تنظیمیں اے ایم ایل اے کے تحت تفتیشی اور پروسیکیوشن ایجنسی کے علاوہ کسی تفتیش یا کسی جرم کی تحقیقات کرتے ہوئے معلوم کرتی ہے کہ اے ایم ایل اے 2010 کے تحت کسی جرم کا ارتکاب ہوا ہے یا اس کا امکان ہے اور ایسی ایجنسی اس پر کارروائی کا دائرہ اختیار نہیں رکھتیں تو اس طرح کے ایجنسی کے سربراہ یا مجازی نمائندہ تحقیقات کے کسی بھی مرحلے میں معاملے کو تحقیقات کے لیے دائرہ اختیار رکھنے والی ایجنسی کے سربراہ کے پاس بھیجے گا۔مجاز تفتیشی اور استغاثہ ایجنسی کی جانب سے کیس کی منظوری کے بعد پولیس یا اے سی ایز وغیرہ مکمل ریکارڈ، جن میں مقدمات کی فائلیں، کارروائی کا ریکارڈ اور ضبط کی گئی یادداشتوں کے ساتھ متعلقہ شواہد، ضبط کی گئی جائیداد اور دیگر مواد اور زیر حراست ملزم کو حوالے کرے گی۔اسی طرح اے این ایف اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے لیے کئی خصوصی سرکاری استغاثہ مقرر کیے جائیں گے، اس کے علاوہ کسٹم کے لیے وکلا کا ایک الگ پینل اور ایف بی آر کے آئی آر ایس بھی شامل ہوں گے جبکہ ایف آئی اے اور نیب کے لیے خصوصی سرکاری استغاثہ کے لیے اسسٹنٹ ڈائریکٹر قانون کے عہدے کے برابر یا اس سے زائد کے قانونی افسران کو بھی مقرر کیا جائے گا۔

اب تک پاکستان نے فروری اور اکتوبر 2020 اور فروری 2021 میں تین ایف یو آرز جمع کروائے ہیں،ان ایف یو آرز میں اے پی جی کے ذریعے صرف ایک رپورٹ منظور کی گئی تھی جس میں پاکستان کو جزوی طور پر تعمیل سے تعمیل کرنے میں دوبارہ درجہ بندی کی گئی تھی۔باقی دو ایف یو آرز میں پاکستان نے 27 سفارشات میں دوبارہ درجہ بندی کی درخواست کی تھی جس کا تجزیہ اے پی جی کر رہا ہے اور اسی ماہ (مئی) کے اندر ہی اس کو اپنایا جائے گا۔پاکستان نے’رقم کا پیچھا کرنے کے لیے قومی پالیسی بیانیہ (این پی ایس ایف ایم)’ سے متعلق قومی پالیسی بیان بھی جاری کرنا ہے۔اس بیانیے اور مذکورہ بالا قواعد کی وجہ سے پوسٹ آبزرویشن پیریڈ رپورٹ (پی او پی آر) میں ایف اے ٹی ایف کی سفارشات کے ساتھ پاکستان کی تعمیل ایف اے ٹی ایف کے متعلقہ فوری نتائج کی درجہ بندی مزید بہتر ہوگی۔این پی ایس ایف ایم تحقیقات، استغاثہ اور اس کے بعد منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی اعانت اور اعلیٰ خطرے کے جرائم میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کو ترجیح دینے کے عزم کا اظہار کرتا ہے۔

اس پالیسی کے ذریعے حکومت مضبوط مالیاتی نظام کے ذریعے پاکستان میں مالیاتی نظام اور وسیع تر معیشت کو جرائم سے بچانے کا بھی عہد کرتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ کالا دھن مالیاتی نظام میں اپنے راستے تلاش نہیں کرسکے۔اس سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی اعانت کی تحقیقات اور اس مقصد کو حاصل کرنے میں متعلقہ اداروں کی مدد سے مجرمانہ اثاثوں کی ضبطگی اور انتظام کے لیے ایک شفاف، مضبوط اور موثر انداز کو یقینی بنایا جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.