No matter how much money is given to Israel, the Palestinians are not going anywhere. American members of Congress also Spoke out

نیویارک (ویب ڈیسک) فلسطین میں جاری صیہونی بربریت پر مسلم امریکن خواتین اراکین کانگریس رشیدہ طلیب اور الہان عمر نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

رشیدہ طلیب کا کانگریس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا دوستوں کو یاد دلا دوں کہ فلسطینی بھی وجود رکھتے ہیں، وہ بھی انسان ہیں، انہیں بھی خواب دیکھنے کی اجازت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم بھی مائیں ہیں، بیٹیاں ہیں، پوتیاں ہیں، ہم انصاف کے طالب ہیں، ہر قسم کے ظلم کے خلاف لڑتے ہوئے معذرت خواہ نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپ اسرائیل کی نسلی حکومت کو خواہ جتنے پیسے بھیجیں، فلسطینی کہیں نہیں جا رہے۔

ہم عرب ملک نے اسرائیل پر “حملہ” کردیا
رشیدہ طلیب کا کہنا تھا غزہ کی ایک ماں کی تحریر آپ کو پڑھ کر سنانا چاہتی ہوں، غزہ کی ماں کہتی ہے وہ بچوں کو اپنے بیڈروم میں سلاتی ہے تاکہ مریں تو ساتھ مریں، وہ نہیں چاہتی ہےکہ کوئی زندہ رہے اور دوسرےکی موت کا غم سہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کی ایک ماں کا یہ بیان مجھے اور بھی توڑ دیتا ہے جب میں اپنے ملک کی پالیسیاں دیکھتی ہوں، اسرائیل کو فنڈنگ اس ماں کے اپنے بچوں کو زندہ دیکھنے کے حق سے انکاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اسرائیل کے لیے امداد عالمی انسانی حقوق کی پاسداری سے مشروط کرنا ہو گی، اسرائیلی کی غیر مشروط حمایت سے فلسطینیوں کی زندگیاں مٹ رہی ہیں، ہماری غیرمشروط حمایت لاکھوں پناہ گزینوں کے حقوق سے انکاری ہے۔

الہان عمر نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل فلسطین تصادم میں ہر موت ایک سانحہ ہے، عام شہریوں کو نشانہ بنانے والا ہر راکٹ اور ہر بم جنگی جرم ہے۔

ان کا کہنا تھا مجھے ہر اس بچے کے درد کا احساس ہے جو خوف کے مارے بستر میں چھپ جاتا ہے، کاش ہم بطور قوم اس درد سے مساوی طور پر نمٹیں، لیکن اس وقت ہم ایسا نہیں کر رہے۔

الہان عمر کا کہنا تھا مجحے افسوس کے ساتھ کہنا پرٹا ہے کہ انسانیت کے خلاف سنگین جرائم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی مذمت کرنے کے بجائے ہمارے بہت سے کانگریس اراکین سیلف ڈیفنس کے نام پر اسرائیل کے فضائی حملوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ فلسطین اور غزہ میں گزشتہ کئی روز سے جاری صیہونی بربریت میں اب تک خواتین اور بچوں سمیت 109 فلسطینی شہید اور 600 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.