Israel-Gaza conflict: What are the strengths and weaknesses of Hamas weapons? BBC Explained

اگرچہ اسرائیل اور غزہ پٹی میں فلسطینی عسکریت پسندوں کے درمیان حالیہ کشیدگی میں دونوں جانب تباہی اور ہلاکتیں ہوئی ہیں مگر اس لڑائی میں دونوں فریق برابری کے نہیں ہیں۔

اسرائیل کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ اس کے پاس فضائیہ ہے، مسلح ڈرون ہیں، انٹیلیجنس جمع کرنے کے نظام ہیں اور وہ جب چاہے غزہ پٹی کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ صرف ان مقامات کو نشانہ بناتا ہے جو عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں تاہم فلسطینی علاقوں کی گنجان آبادی کی وجہ سے عام شہریوں کی اموات نہ ہونا تقریباً ناممکن ہے۔

حماس اور اسلامک جہاد اگرچہ اس تنازع میں کمزور فریق ہیں تاہم ان کے پاس اسرائیل کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ہتھیار ہیں۔ اسرائیلی فورسز نے حال ہی میں ایک ڈرون مار گرایا ہے جو کہ ممکنہ طور پر مسلح ہو سکتا تھا۔ اس کے علاوہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایک الیٹ حماس یونٹ نے غزہ پٹی کے جنوبی حصہ سے ایک سرنگ کے ذریعے اسرائیل میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر اسرائیل کے پاس اس کی پیشگی اطلاع تھی اور انھوں نے اس سرنگ کو تباہ کر دیا۔

فلسطینی عسکری گروہوں کے پاس جو سب سے اہم ہتھیار ہے جو مختلف زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل ہیں۔ ان میں سے کچھ جیسے کہ کورنٹ گائڈڈ ٹینک شکن میزائل کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مصر سے سرنگوں کے ذریعے لائے جاتے ہیں۔

مگر حماس اور اسلامک جہاد کے ہتھیاروں کی بڑی تعداد غزہ کی پٹی کے اندر واقع ایک ہتھیار ساز فیکٹری سے آتے ہیں۔ اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ اس فیکٹری کو بنانے میں ایرانی ماہرین کی مدد لی گئی تھی۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ ہتھیار بنانے اور رکھنے کے مقامات کو نشانہ بناتا ہے۔

حماس کے پاس کتنے ہتھیار ہیں اس بات کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔ اسرائیلی فوج کے پاس اس کے اپنے تخمینے ہیں مگر وہ عام نہیں کیے جاتے۔ ان کے ترجمان صرف اتنا کہتے ہیں کہ ان کے مطابق حماس اس حد کی کشیدگی کافی عرصے تک جاری رکھ سکتی ہے۔ بظاہر فلسیطنی کئی اقسام کے راکٹ استعمال کر رہے ہیں مگر ان میں سے کوئی زیادہ نئے یا پیچیدہ ڈیزائن کے نہیں ہیں۔ مگر زیادہ تر یہی رجحان ہے کہ ہتھیاروں کی رینج اور پےلوڈ دونوں بڑھ رہے ہیں۔

میزائلوں کے نام اور ماڈل تو کئی قسموں کے ہوتے ہیں مگر حماس کے پاس چھوٹی رینج کے کئی میزائل ہیں جیسے کہ قسام (6 سے 10 کلومیٹر رینج) یا القدس 101 (16 کلومیٹر رینج)۔ اس کے علاوہ گریڈ سسٹم (55 کلومیٹر رینج) اور سیجل 55 (55 کلومیٹر رینج) بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سب سے کم رینج کے لیے مارٹر گولے استعمال ہوتے ہیں۔

مگر حماس کے پاس طویل رینج کے سسٹم بھی ہیں جیسے کہ ایم-75 (75 کلومیٹر رینج)، الفجر (100 کلومیٹر تک)، آر-160 ( 120 کلومیٹر تک) اور کچھ ایم-302ایس جو کہ 200 کلومیٹر رینج کے ہیں۔ تو یہ واضح ہے کہ حماس کے ہتھیار تیل آبیب یا یروشلم کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور اسرائیل کے ساحلی علاقے جہاں پر اس ملک کی زیادہ تر آبادی اور اہم ترین تنصیبات ہیں، اس کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ تین روز میں ان پر فائر کیے گئے 1000 کے قریب راکٹوں میں سے تقریباً 200 غزہ کی پٹی کے اندر ہی گر گئے جو کہ شاید دیسی ساختہ راکٹ بنانے یا مختلف مقامات پر مختلف حصے بنا کر جوڑنے کے عمل کی وجہ سے آنے والے مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔

اسرائیلی فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ داغے گئے راکٹوں میں سے 90 فیصد کو ان کے آئرن ڈوم سسٹم نے انٹرسیپٹ کر لیا ہے۔ مگر آئرن ڈوم کا ایک حصہ جو کہ ایشکیلون شہر کا دفاع کر رہا تھا تکنیکی خرابی کی وجہ سے حالیہ کشیدگی میں آف لائن تھا۔ یہ مکمل طور پر 100 فیصد کامیاب میزائل شکن نظام نہیں ہے۔
میزائلوں کے خلاف اپ کے پاس بہت محدود آپشنز ہوتے ہیں۔ آپ میزائل شکن نظام کا استعمال کر سکتے ہیں، آپ میزائل بنانے اور رکھنے کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں، اور کہنے کو آپ زمینی آپریشن کر کے میزائل لانچرز کو پیچھے دھکیل سکتے ہیں۔ مگر ایسا کرنا اس معاملے میں ممکن نہ ہوگا۔

فلسطین کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس سٹرٹیجک ڈیپتھ نہیں ہے اور جانے کوئی جگہ نہیں ہے۔ زمینی آپریشن سے میزائل حملے کم ہوجاتے ہیں۔ مگر جیسا اسرائیل کے 2014 کے پچھلے آپریشن میں ہوا تھا، 2251 فلسطینی جن میں سے 1462 عام شہری تھے مارے گئے تھے اور 67 اسرائیلی فوجیوں سمیت 6 عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔

راکٹ حملوں اور اسرائیلی حملوں کا یہ سائیکل کسی بھی فریق کو کامیابی نہیں دیتا۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہوتا ہے کہ اس کے بعد کچھ عرصے کے لیے امن ہوتا ہے اور پھر وہی کہانی۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ یروشلم میں کشیدگی اس مرتبہ لڑائی کی وجہ بنی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس تنازع کو آپ نظر انداز نہیں کر سکتے۔

مگر جیسے جیسے عرب حکومتیں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کر رہی ہیں، فلسطینیوں میں داخلی طور پر اتحاد نہیں ہے اور یہ معاملہ اسرائیلی قیادت کے ایجنڈے پر بھی نہیں ہے تو مشکل ہی ہے کہ امن کی طرف معاملات بڑھیں۔ اس کے لیے آپ کو فریقین میں امن کے لیے حقیقی چاہ اور بیرونی طاقتوں کی طرف سے زوردار اور دیرپا کوششیں درکار ہوں گی۔ ابھی بظاہر ان میں سے کوئی بھی حالات موجود نہیں ہیں۔ بشکریہ بی بی سی اُردو

Source BBC
Via BBC Urdu
Leave A Reply

Your email address will not be published.