Why Punjab Police want to arrest Gogi Butt ? Asad Mirza’s Exclusive Inside Story

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے دورہِ لاہور میں ایسی کیا بات کہ دی کہ پنجاب پولیس لاہور کے بدنام زمانہ بدمعاش خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ کو دوبارہ گرفتار کرنے کے بے چین ہے ۔ اسد مرزا کی رپورٹ کے مطابق پنجاب پولیس میں گوگی بٹ کے” دوستوں “یا سہولت کاروں کی موجودگی کے باعث پولیس کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ یہی وجہ ہے کہ گوگی بٹ جیل میں خود کو محفوظ تصور کر کے بیٹھا ہے، اس نے پولیس کی نئی حکمت عملی کی خبر ہونے پر انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ضمانت ہونے کے باجود مچلکے جمع نہیں کروائے۔ اس لیے وہ جیل میں بیٹھا ہے اورجیل انتظامیہ اس کی خدمت میں مصروف ہے جب کہ لاہور پولیس کی دو شفٹوں میں ڈی ایس پی کی قیادت میں دن رات پولیس گوگی بٹ کو دوبارہ گرفتار کر نے کے لیے جیل کے باہر تعینات ہے بلکہ عید الفطر کے موقع پر بھی پولیس کیمپ جیل کے باہر ڈیوٹی کر رہے ہیں۔ لاہور پولیس کے ماتحت افسران حیران ہیں کہ عیدالفطر کی چھٹیوں میں جیل میں بند ملزم باہر نہیں آ سکتا تو جیل کے باہر ڈیوٹی کیوں ؟

ناظرین ماتحت افسران نہیں جانتے اس لیے ایسی باتیں کر رہے ہیں کیوں کہ اصل کہانی کچھ اور ہے۔ لاہور پولیس کی قبضہ مافیا اور بدمعاشوں کی فہرستیں عرصہ دراز سے مرتب کی جا رہی ہیں لیکن اس پر کارروائی صرف لاوارث ملزمان کے خلاف ہوتی ہے۔ جب بھی اعلٰی افسران کی جانب سے دباﺅ آتا تو گوگی بٹ کو چھاپہ مارنے سے قبل اطلاع دے دی جاتی ، پھر اس کے گھر یا ڈیرے پر ریڈ کر کے حکام کو رپورٹ دی جاتی کہ گوگی بٹ موجود نہیں تھا ۔ اس میں گوگی بٹ کا بھی کوئی قصور نہیں بلکہ قصور ان پولیس کے اعلی افسران اور ماتحتوں کا ہے جو ملازمت تو پنجاب پولیس اور سرکار کی کرتے ہیں لیکن وفادار گوگی بٹ کے ہیں بلکہ بہت سے پولیس افسر گوگی بٹ کے بزنس پارٹنر بھی رہ چکے ہیں۔ ایک سابق سی سی پی او لاہور گوگی بٹ کو کال کر کے دفتر مدعو کرتا رہا لیکن گوگی بٹ نے اپنے مخصوص سٹائل میں اسے بڑا تحفہ دینے کا کہ کر ٹالتا رہا کیونکہ وہ سابق سی سی پی او گوگی بٹ سے مل کر پراپرٹی کا کام کرنا چاہتا تھا گوگی بٹ نے اس بارے علم ہونے پر ایک اعلی سرکاری افسر سے سابق سی سی پی او کو فون کال کروا کے اپنی جان چھڑائی۔

اب ہم چلتے ہیں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے ایک جملے ، گوگی بٹ کی گرفتاری ،ضمانت اور پولیس میں موجود اس کے سہولت کاروں کے کارناموں کی جانب ۔ لاہور پولیس گوگی بٹ کا نام بدمعاشوں کی فہرست میں سرِفہرست ہونے کے باوجود اسے کبھی گرفتار نہیں کر سکی یا اسے کبھی گرفتار کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ یہ وہی گوگی بٹ ہے جس کے گھر سابق چیف آف آرمی سٹاف اور سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف بھی بسنت منانے آئے تھے جس کے بعد بہت سے اعلی افسران کا بھی گوگی بٹ کے گھر آنا جانا تھا۔ مسلم لیگ ن کا حمایتی گوگی بٹ کی قیادت سے ناراضی بھی ہوئی لیکن بعد ازاں کسی حد تک رابطے بحال بھی ہو گئے۔ تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد گوگی بٹ نے تحریک انصاف بھی جائن کر لی لیکن پولیس کی فہرست سے اس کا نام خارج نہ ہو سکا کیونکہ اس کے کارناموں کی گونج حکومتی شخصیات کے کانوں تک پہنچتی ۔ سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی تعیناتی پر بدمعاشوں کی فہرست کو اپڈیٹ کیا گیا جس کے بعد پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع ہوا وہ بھی ماضی کی طرح دوسرے درجے کے بدمعاش پکڑے گئے اور میڈیا پر شور شرابا ڈالا لیکن کسی کو نہیں علم تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اگر اپنے قریبی ساتھیوں کی کرپشن یا دیگر شکایت پر سخت کارروائی کا حکم دے رکھا ہے تو یہ بڑے بدمعاشوں کو کیسے کھلا چھوڑ سکتے ہیں ؟

آئی جی پولیس پنجاب انعام غنی نے پنجاب بھر میں بدمعاشوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کا حکم دیا تو لاہور پولیس کی قیادت پریشان تھی کہ گوگی بٹ پر ہاتھ کون ڈالے گا کیونکہ اس کے محکمے کے مخبر پل پل کی رپورٹ کر تے ہیں تب گوگی بٹ کو گرفتار کرنے کا ٹاسک ڈی ایس پی سی آئی اے علامہ اقبال ٹاﺅن میاں شفقت کو سونپا گیا۔ میاں شفقت نے بھی گوگی بٹ کو گرفتار کرنے سے قبل اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بھی گوگی کو گرفتار کر چکا ہے لیکن وہ چار گھنٹے کے بعد رہا ہو گیا ۔ اس کے نیٹ ورک میں حکومتی سیاسی شخصیات ، پولیس ، اہم سرکاری افسران بھی شامل ہیں آپ پر بہت دباﺅ آئے گا اگر اسے بعد ازاں رہا کر دینا ہے تو وہ ایسا نہیں کرے گا۔

لاہور پولیس کی اعلی قیادت سے ڈی ایس پی میاں شفقت کو گو ہیڈ دے دیا ۔ڈی ایس پی نے 24 گھنٹے کا ٹائم لیا اور اپنی ٹیم کے ساتھ 8 گھنٹے کے بعد گوگی بٹ کو مبینہ طور پر مقابلے کے بعد ساتھیوں سمیت گرفتار کر کے سی آئی اے علامہ اقبال ٹاﺅ ن لایا گیا۔پولیس قیادت اور ڈی ایس پی پر سخت دباﺅ آیا لیکن انہوں نے کسی دباﺅ کے بغیر گوگی بٹ کیس کی تفتیش مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں گوگی بٹ کو ساتھیوں سمیت پیش کر کے دو روز کا ریمانڈ لیا ۔ اگلے روز وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا دورہِ لاہور تھا ۔ وزیر اعظم کی آمد پر انہیں بتایا گیا کہ لاہور میں دہشت کی علامت سمجھے جانے والے قبضہ مافیا کے ڈان گوگی بٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔

ذرائع کا دعوی ہے کہ وزیر اعظم نے تاریخی جملہ بولا کہ اگر گوگی بٹ ضمانت پر رہا ہو گیا تو وہ سمجھیں گے کہ پولیس گوگی بٹ کے ساتھ ملی ہوئی ہے ۔ وزیر اعظم کا جملہ سچ ثابت ہوا ۔اگلے روز ہی گوگی بٹ اور اس کے ساتھیوں کا جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر پولیس نے انہیں عدالت پیش کیا تو عدالت نے تمام ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ، تب وکلا نے ملزمان کی ضمانت کی درخواست دی۔ پولیس قیادت کو جب حالات کا علم ہوا تو انہوں نے گوگی بٹ کو دوبارہ گرفتار کرنے کے لیے دو مقدمات میں تفتیش کے لیے طلبی لگوائی لیکن عدالت کی جانب سے اجازت تو نہ ملی البتہ اگلے روز گوگی کے وکلا کا پینل ضمانت کے لیے عدالت پیش ہوا تو عدالت میں تمام ملزمان کی ضمانت منظور کر لی گئی ۔ اس طرح طنزیہ جملہ سچ ثابت ہوا کہ لاہور پولیس کی قیادت گوگی بٹ کے ساتھ ملی ہوئی ہے ۔ تب پولیس نے گوگی بٹ کو ضمانت پر رہائی کے بعد گرفتار کرنے ک

Leave A Reply

Your email address will not be published.