Decision to set up Sufism and Science and Technology Research Centers across Punjab

لاہور(این این آئی)خاتون اول بشریٰ عمران کی خصوصی دلچسپی پر پنجاب بھر میں صوفی ازم اور سائنس و ٹیکنالوجی ریسرچ مراکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں شیخ ابوالحسن شازلی صوفی ازم اور سائنس و ٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر کا لاہور میں آغاز کیا جائے گا۔ اس ریسرچ سینٹر میں اسلام، صوفی ازم، مذہبی افکار، رواداری، سائنس و ٹیکنالوجی اور جدید علوم پر تحقیق و تدوین ہو گی۔ خاتون اول کے غریب و تعلیم دوست اقدامات کا سلسلہ جاری ہے جس کے تحت معاشرے کے پسماندہ اور لاچار طبقات کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کئے جائیں گے۔

قبل ازیں خاتون اول مختلف شہروں میں قائم پناہ گاہوں، لنگر خانوں، دارالامان اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے انتظامات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ان کی نمایاں بہتری کے لئے کوشاں ہیں۔ شیخ ابوالحسن شازلی ریسرچ سینٹر کو غریب و نادار طلبہ و طالبات، پسماندہ طبقات اور تعلیم دوست افراد کے لئے ہمیشہ کھلا رکھا جائے گا۔ ریسرچ سینٹر کو دارالامان، چائلڈ پروٹیکشن بیورو، پنجاب بھر میں قائم جیل خصوصاً بچوں اور خواتین کی جیلوں کے علاوہ سکول، کالج، یونیورسٹیز اور سرکاری و نجی مذہبی تعلیمی اداروں سے منسلک کیا جائے گا۔ ریسرچ سینٹر کو عالمی سطح پر جدید تحقیق کے مسلمہ اداروں جے سٹور اور آکسفورڈ، کیمرج اور ہاورڈ جیسے ممتاز تعلیمی اداروں کی ای لائبریریز سے منسلک کیا جائے گا اور اس کی صوبہ بھر میں ریموٹ رسائی دی جائے گی تاکہ لوگ گھر بیٹھے اس سے مستفید ہو سکیں۔ ریسرچ سینٹر میں طلباوطالبات کو ملکی و غیر ملکی جامعات میں داخلہ اور سکالر شپ کے لئے راہنمائی فراہم کرنے کے لئے ہائیرایجوکیشن کے تعاون سے آن لائن راہنمائی مرکز پورٹل قائم کیا جائے گا

جبکہ تمام سنٹرز میں راہنمائی مرکز کاؤنٹرز بھی قائم کئے جا رہے ہیں جس سے لاکھوں طلباو طالبات مستفید ہو سکیں گے۔ پہلے مرحلے میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، جامعہ نعیمیہ، اوقاف ریسرچ سنٹرز کے ساتھ جدید تحقیق کے لئے منسلک کرنے کے لئے ایم او یو کئے جا رہے ہیں۔ جبکہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں اسلامی تعلیمات پر تحقیق کے لئے شیخ ابوالحسن شازلی ریسرچ سینٹر کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔ اس سنٹر میں بین المسالک اور بین المذاہب امور کے علاوہ صوفی ازم،اسلامی فلسفہ، روحانیت اور صوفیانہ روایات پر ملکی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر تحقیق کی جائے گی۔ اس سنٹر کے زیراہتمام اسلامک فلسفہ اور صوفی ازم پر بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام بھی لانچ کیا جائے گا۔ جبکہ رحمت العالمین سکالرشپ کو اس کا حصہ بنایا جائے گا۔ گیارہویں صدی عیسوی میں مراکش کے شاہی خاندان میں آنکھ کھولنے والے معروف صوفی سکالر شیخ ابوالحسن شازلی نے تمام عمر دین اسلام اور تصوف کے نام کی۔ ریسرچ سینٹر کو شیخ ابوالحسن شازلی کے نام سے منسوب کرنے کا مقصد خطے میں مذہبی رواداری اور علم دوستی کو فروغ دینا ہے۔ خاتون اول کے وژن کے مطابق ریسرچ سینٹرز کا دائرہ کار پنجاب بھر میں بڑھایا جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.