Ring Road Scandal: Hundreds of Kennels Land of Shaikh Rasheed also involved

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)نجی ٹی وی پروگرام میں سینئر تجزیہ کار ئوف کلاسرا کا کہنا تھاکہ مجھے کسی نے کہا کہ شیخ رشید آجکل کس کے گھر رہ رہے ہیں نہ لال حویلی رہتے ہیںاور نہ ہی منسٹر انکلیو میں رہتے ہیں یہ آجکل کہاں رہ رہے ہیں ۔ سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ شیخ رشید صاحب سے پوچھا جانا چاہیے کہ آپ کہا رہ رہے ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ میں رہتا کہاں آپ کا مسئلہ نہیں ہے ،میں زمین کسے بیچتا ہوں آپ کو کیا مسئلہ ہے ، میں رنگ روڈ سے کتنی دور رہتا ہوں یہ آپ کا مسئلہ نہیں ہے، یہ میرا مسئلہ ہے ، میں کتنے ریٹ پر بیچی ہے آپ مجھے سے یہ سوال پوچھنے والے کون ہوتے ہیں ۔ رئوف کلاسرا کا کہنا تھا کہ شیخ رشید نے نواز شریف اور زرداری فیملی سے بے شمار سوالا ت کیے لیکن یہ ایک سوال کا سامنا نہیں کر سکے ، شیخ رشید سے سوال پوچھا گیا کہ آپ کا رنگ روڈ میں نام آرہا ہے ، آپ کی زمین ہے ، اس کا جواب دے دیں ۔

اس کے جواب میں شیخ رشید کا صحافی کو کہنا تھا کہ آپ کو ٹی وی پر آنے اور اپنی شکل دیکھانے کا شوق ہے اس لیے آپ نے مجھے یہ سوال کیا ہے ۔ صحافی کا مزید کہنا تھا کہ ایک وقت جب شیخ رشید کی تقریر چل رہی ہوتی تھی تو ہر ٹی وی چینل ان کی تقریر دکھاتا تھا کیونکہ ریٹنگ اچھی آتی تھی ۔ آج ایک صحافی نے آپ سے سوال پوچھا لیا تو آپ اس پر غصے ہو گئے ہیں نجی ٹی وی جی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شیخ رشید نے فتح جنگ میں اپنی زرعی زمین فروخت کرنے کا اعتراف کر لیا ہے ، وفاقی وزیر داخلہ نے نجی ٹی وی پروگرام مدمقابل میں بریک کی گئی رنگ روڈ کے قریب زمین کی ملکیت کا بھی اعتراف کیا ، شیخ رشید نے رنگ روڈ اسکینڈل آنے سے کچھ روز قبل اپنی زمین مارکیٹ ریٹ سے مہنگی پیچی تھی ۔ نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ سو کنال فروخت کرنے کے بعد بھی کئی سو کنال اب بھی وزیر داخلہ شیخ رشید کی ملکیت ہے ۔ اس حوالے سے ریزیڈینشیا کے مالک ملک تحسین نے کہا ہے کہ ہم نے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید سے ایک ماہ پہلے ڈیڑھ سو کنال زمین مارکیٹ ریٹ پر خریدی ہے ۔

ملک تحسین نے کہا ہے کہ شیخ رشید کے پاس 1100سو کنال کے قریب قیمتی اراضی اب بھی فتح جنگ روڈ پر موجود ہے ۔دوسری جانب گزشتہ روزوفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سندھ کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی صوبے میں کوئی گورنر راج آرہا ہے تاہم سندھ میں ڈاکوراج ختم کرکے رہیں گے، ڈاکوں کے خلاف آپریشن میں پولیس کے ساتھ سندھ رینجرز بھی کام کرنے کو تیار ہے ۔سندھ حکومت کی صوابدید ہے کہ وہ رینجرز کو جہاں چاہے استعمال کرے۔امن صوبہ سندھ اور وفاق کا مشترکہ مسئلہ ہے، سندھ کے مسائل کے حوالے سے وزیراعظم کو رپورٹ دوں گا۔عمران خان پانچ سال پورے کریں گے اور کوشش ہے کہ اگلے الیکشن میں بھی عمران خان کی حکومت آئے۔ایم کیو ایم کے ساتھ بچپن سے اچھے تعلقات ہیں۔ نادرا کراچی میں کرپٹ افسران پر جھاڑو پھیرا جائے گا۔ نادرا کراچی کے کچھ کرپٹ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے جمعرات کومقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم نے سندھ میں امن و امان پر رپورٹ تیار کرنے بھیجا تھا ۔وزیر اعلی سندھ ، ڈی جی رینجرز اور دیگر اداروں کے سربراہان سے ملاقات کی ۔سوشل میڈیا پر ڈاکو راج کا طوفان اٹھایا گیا۔وزیر اعلی سے اتفاق ہوا کہصوبہ اور وفاق مل کر ڈاکوئوں سے نمٹیں گے۔سندھ حکومت چاہے تو پورے صوبے میں رینجرز مہیا کرنے کے لیے تیار ہیں ۔جہاں سندھ حکومت چاہے وہاں رینجرز کی خدمات حاصل کرے ۔پولیس کو ڈرون بھی دینے کو تیار ہیں۔وزیر اعلی سے طے پایا کہ اغوا برائے تاوان اور قتل میں ملوث ڈاکوئوں کی خلاف دہشت گردی کی دفعات لگائی جائیںگی۔انہوںنے کہا کہ انسانی جانوں کے مسئلے پرصوبے یا مرکز میں کوئی فرق نہیں ہے ۔امن صوبے اور مرکز کا مشترکہ مسئلہ ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سے ہر مہینے میں ایک ملاقات ہوگی ۔شیخ رشید نے کہا کہ صوبے میں گورنر راج کی باتیں غلط ہیں۔عمران خان مرکز کی طرف سے صوبے میں کوئی مداخلت نہیں چاہتے ہیں ۔آپریشن کی اطلاعات غلط ہیں ۔کچے کے علاقے میں سیاسی دلچسپی بھی ہے۔سیاست سے آزاد ہوکر غیر جانبدار لوگوں کو صلاحیت کیبنیاد پر افسران کی تقرری ہوگی ۔سندھ حکومت نے ڈی آئی جی اور ایس ایس پی کو تبدیل کردیا ہے ۔آپریشن مکمل ہونے کے بعد کچے کے علاقے کا دورہ کروں گا۔ڈاکو راج کے خاتمے کے لیے تمام ادارے ایک لائن پر ہیں ۔انہوںنے کہا کہ پاکستان میں نہاری والے کے باہر بھی اسلحہ لے کر بیٹھا ہوتا ہے۔اسی لیے کچے کے علاقے کو صاف کرنا چاہتے ہیں۔کراچی میں اسٹریٹ کرائم کا معاملہ ہے ۔کراچی میں آپریشن کی ضرورت نہیں ہے ۔شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں پی ٹی آئی کو شکایت ہیں وزیراعظم کو بتاں گا تاہم جہانگیر ترین کے معاملے کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں۔عمران خان کی حکومت سے متعلق انھوں نے کہا عمران خان 5سال مکمل کرینگے میں ساتھ کھڑاہوں،

اگلے الیکشن میں بھی کوشش کرینگے عمران خان کی حکومت آئے۔اپوزیشن کے حوالے سے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کیا آپ کو اس وقت نون سے شین نکلی ہوئی نظرنہیں آرہی، شاہدخاقان نے کہا پیپلز پارٹی واپس آئیتو استعفیٰ دیدوں گا۔لاپتہ افراد سے متعلق شیخ رشید نے کہا ہم مسنگ پرسن کیلئے قومی اسمبلی میں قانون لارہے ہیں، بجٹ کیساتھ مسنگ پرسن کا قانون بھی اسمبلی لارہے ہیں۔فوجی اڈا دینے خبر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی موجودگی میں کسی کو کوئی فوجی اڈا نہیں دیاجائے گا ، کوئی ایئر بیس نہیں دیا جا رہا،پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے، افغانستان میں امریکا،چین،روس ،ایران اور پاکستان متفقہ میکنزم رکھیں گے۔وفاقی وزیر نے مہنگائی سے متعلق کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں مہنگائی ہوئی ہے پوری دنیا میں ہوئی ہے، سرکاری ہویا نجی ، تنخواہ دارلوگوں کی تنخواہیں بڑھنی چاہئیں۔شیخ رشید نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت سندھ حکومت کے اختیارات کیخلاف نہیں جائیں گے ۔نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن سینٹر (نادرا)سے متعلق بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا نادرا کراچی میں کرپٹ افسران پر جھاڑو پھیرا جائے گا۔ایسے لوگوں کے بھی جعلی کارڈ بنے جو بعد میں دہشت گردی میں ملوث پائے گئے ۔انہوں نے کہا کہ جعلی اور غلط شناختی کارڈ بنانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی، نادرا کراچی کے کچھ کرپٹ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ تمام اسکینڈلز کے خلاف تحقیقات ہوگی۔انہوںنے کہا کہملک کے معاشی حالات میںبہتری آرہی ہے ۔سیمنٹ سریا گاڑیاں بک رہی ہیں۔میںنے تنخواہ پیشہ لوگوں کی اجرت بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے ۔شوکت ترین سے بھی کہا کہ مہنگائی کا حل تنخواہ بڑھانا ہے۔انہوںنے کہا کہ تمام اسکینڈلز کے خلاف تحقیقات چل رہی ہیں ۔میرا کوئی مسئلہ نہیں۔زمین کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فل بینچ نے مجھے کلیئر کیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ میرے ایم کیو ایم سے بچپن سے اچھے تعلقات ہیں۔اسٹوڈنٹس سیاست کے دور سے ایم کیو ایم سے تعلقات ہیں۔ایم کیو ایم کے ساتھ اچھے تعلقات تھے، ہیں اور رہیں گے۔انہوںنے کہاکہ سائبر کرائمز کی شکایات کے حوالے سے کام جاری ہے۔اتفاق کرتا ہوں کہ سائبر کرائم کو ٹھیک کرنا ہے ۔جو آدمی بجٹ میں ووٹ نہیں ڈالتا تھا ڈی سیٹ ہوجاتا ہے۔اسمبلی میں اکثریت ہے ۔جو بجٹ میں ووٹ نہیں دے گا وہ ڈی سیٹ ہوجائے گا

Leave A Reply

Your email address will not be published.