- Advertisement -

اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت ہوتی رہتی ہے، فواد چودھری

- Advertisement -

سابق وزیراطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ ایک طرف تحریک انصاف اوردوسری طرف اشرافیہ ہے،اسٹیبلشمنٹ ملک کے نظام کا حصہ ہے، اس کے ساتھ بات چیت ہوتی رہتی ہے،ایکس اور وائی کو چاہیے کہ وہ کچھ نہ کریں۔
اپنے ایک بیان میں فواد چودھری نے کہا کہ اشرافیہ انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہے،چاہتے ہیں ووٹ سے قوم انقلاب کی طرف گامزن ہو،ہم نے عوام کو حکمرانوں کے محلات کی طرف جانے سے روکا ہوا ہے اور ملک کو سری لنکا نہیں بننے دیا۔
فواد چودھری نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں دھاندلی کا مکمل بیانیہ سامنے آرہا ہے،یاسرجتوئی کے حامیوں کو ہراساں کیا گیا،پولیس نے پی ٹی آئی کی کارنر میٹنگ پر دھاوا بولا،کئی جگہوں پر دھاندلی حکومت نے خود کی ہے،مظفر گڑھ میں ہمارے رہنما کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
مسلم لیگ ن کے ورکرز ان الیکشن میں حصہ نہیں لے رہے، الیکشن مہم چلانے کیلئے آدھی کابینہ کو مستعفی ہونا پڑا،پری پول ریگنگ سے متعلق پٹیشن عمر ایوب نے سپریم کورٹ میں فائل کی ہے۔
عوام کا سونامی ہے ،22تاریخ کو حمزہ شہباز وزیراعلیٰ نہیں ہوں گے،حمزہ شہباز کس طرح وزیراعلیٰ ہیں؟انہیں خود بھی شرم آنی چاہیے۔
فواد چودھری نے کہا کہ پیٹرول قیمت میں کمی کردیں تو ہمیں خوشی ہوگی، سمجھتے ہیں کہ پیٹرول کی قیمت 150روپے کی سطح پر لے آنی چاہیئے۔