میں اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوں اور ۔۔۔۔ اے پی سی سے خطاب کے دوران میاں نواز شریف نے تہلکہ خیز اعتراف کرلیا ، پوری قوم دنگ رہ گئی

لاہور (ویب ڈیسک) اسلام آباد میں ہونیوالی متحدہ اپوزیشن کی اے پی سی سے پہلا خطاب آصف زرداری نے کیا جبکہ انکے بعد لندن سے میاں نواز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہوئے ، اپنے خطاب میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس حکومت نے 2 سالوں میں پاکستان کو تباہی کے دھانے پر پہنچا دیا ہے ۔ ملکی معیشت تباہ ہو چکی ہے ،پاکستان روپیہ افغانستان اور نیبپال کی کرنسی سے بھی زیادہ بے قدر ہو چکا ہے ۔ غریبوں کے لیے 2 وقت کی روٹی محال ہو چکی ہے ۔ آئے روز پریشان کن خبریں آرہی ہیں ۔ لاہور سیالکوٹ موٹروے پر جو کچھ ہوا ، اس نے دل دہلا دیے ، اس پر ایک پولیس افسر کی شرمناک باتیں ، کیا اب بھی کوئی کسر باقی ہے ۔ میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی تنہائی کا شکار کیوں ہو چکاہے ۔

ہمارے دوست اور بھائی کیوں روٹھ گئے اور کوئی پاکستان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ، اس پر غور کرنا چاہیے ، ایجنسیوں کے افسران پر بنی جے آئی ٹی نے ہمیں غدار اور چور قرار دیا ، آپ کو یاد ہو گا سی پیک کو ناکام بنانے کا سلسلہ دھرنوں کے دنوں میں شروع ہوا تھا جب چینی صدر کا دورہ پاکستان دھرنے کے ذریعے ملتوی کروا دیا گیا ۔ میاں نواز شریف نے اعتراف کیا کہ ایک ڈکٹیٹر کے بنائے ادارے (نیب ) کو برقرار رکھنا ہماری غلطی تھی جو اب آکر سیاسی انتقام کا واحد ذریعہ بن چکا ہے ۔

چیئرمین نیب جاوید اقبال اپنے اختیارات کا شرمناک استعمال کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا مگر کیا ہوا ، عمران خان کے سر پر جوں تک نہ رینگی ۔ بہت جلد ان سب کا یوم حساب آئے گا ۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ یاد ہے نہ آپ کو جب ہم حکومت چھوڑ کر گئے چینی 50 روپے کلو تھی ، مگر اب حال دیکھ لیجیے ، وزیراعظم دن رات لوٹ مار اور احتساب کی باتیں کرتے ہیں پوری قوم کو لوٹنے والی اس واردات پر کیوں چپ ہیں ،۔عمران خان کی ہمشیرہ حلیمہ خان دن رات خیراتی اداروں کے لیے فنڈ ریزنگ کرتی ہیں کبھی ان سے پوچھ گچھ کرنے کا سوچا گیا ، کیا بنی گالہ میں زمین خریدنے کی ٹریل کبھی کسی نے مانگی ۔ عمران خان نے اربوں کی جائیداد پر صرف 2 لاکھ 70 ہزار ٹیکس دیا ہے ، ریاست مدینہ تو بہت بڑی مثال ہے ۔ قوم اس تضاد پر کب تک خاموش رہے گی ، آج فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں ؟ نہیں نہیں ہرگز نہیں کبھی نہیں ؟ میں تو اسکے بالکل خلاف ہوں ۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...