اے پی سی میں آصف زرداری اور نواز شریف کے خطاب کیا کچھ کہہ رہے ہیں ؟ کیا پاکستان میں واقعی کوئی بڑا کام ہونے جا رہا ہے ؟ حامد میر کے اہم انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) نواز شریف نے اپنی چُپ توڑنے کا فیصلہ کیا تو کھلبلی مچ گئی۔ مخالفین نے ایسی چیخ و پکار کی کہ ہم نے بھی اپنا دل تھام لیا اور آگے پیچھے دیکھنے لگے کہ کہیں کوئی شیر مارگلہ کی پہاڑیوں سے اُتر کر شاہراہ دستور پر تو نہیں آ گیا؟ شکر ہے سب خیریت تھی۔

نامور کالم نگار حامد میر اپنے تازہ ترین کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔نواز شریف نے صرف وڈیو لنک پر اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کے اجتماع سے خطاب کا فیصلہ کیا تھا۔ خطاب کی یہ دعوت اُنہیں پاکستان پیپلز پارٹی کے نوجوان سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے ٹیلی فون پر دی تھی اور جب بلاول نے ایک ٹویٹ کے ذریعہ یہ اعلان کیا کہ اُنہوں نے نواز شریف کو آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کی دعوت دی ہے تو اربابِ اختیار حیران رہ گئے۔ وہ تو روزانہ یہ دعوے کر رہے تھے کہ اپوزیشن کی قیادت اُن سے این آر او مانگ رہی ہے لیکن نواز شریف کی تقریر کا مطلب تو اعلانِ لڑائی تھا اور اس لڑائی میں شہباز شریف اور مریم نواز بھی نواز شریف کے سنگ سنگ تھے۔تقریر سے پہلے تقریر کی دھوم نے حکومت کے اُن وزراء کو پریشان کر دیا جو نون میں سے شین کو نکال رہے تھے اور دعوے کر رہے تھے کہ بہت جلد نواز شریف اور شہباز شریف کے راستے جُدا ہو جائینگے۔اتوار کو بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں ایک طرف نون اور شین یک جان دو قالب تھے، دوسری طرف ایک زرداری بھی حکومت کیلئے مزید بھاری بھاری سا لگ رہا تھا۔ بہرحال زرداری صاحب نے اس اے پی سی کے شرکاء کو اپنی پارٹی کی طرف سے خوش آمدید کہتے ہوئے ایک ایسی تقریر کی جو دراصل استقبالیہ کلمات تھے لیکن ان کلمات کا لہجہ کچھ بدلا بدلا تھا کیونکہ اُنہوں نے اپنی تقریر کا اختتام سیف الدین سیف کے اس شعر پر کیا؎میری داستانِ حسرت وہ سنا سنا کے روئے۔۔مرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے

زرداری صاحب کی تقریر کا اختتام دراصل یہ اعلان کر رہا تھا کہ اب اُن سب کو رُلانے کا وقت ہوا چاہتا ہے جن کے خلاف یہ اے پی سی منعقد کی گئی۔ پھر نوجوان بلاول نے نواز شریف کو تقریر کی دعوت دی۔ خیال تھا کہ میں یہ تقریر سوشل میڈیا پر سنوں گا لیکن ٹی وی اسکرین کی طرف دیکھا تو وہاں نواز شریف اپنی تقریر کے آغاز میں آصف علی زرداری اور بلاول کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کیونکہ کل حکومت کے وزراء نے ایک پریس کانفرنس میں بڑے بارعب انداز میں یہ اعلان کیا تھا کہ نواز شریف ایک سزا یافتہ مجرم ہے اور اگر کسی ٹی وی چینل نے اُن کی تقریر نشر کی تو پیمرا اُس کے خلاف کارروائی کرے گا۔جب میں نے یہ پریس کانفرنس سُنی تو مجھے نواز شریف کے دور حکومت میں پیمرا کا وہ حکم یاد آ گیا جب ٹی وی چینلز کو کہا گیا کہ وہ ایک سزا یافتہ مجرم ممتاز قادری کا جنازہ نہیں دکھا سکتے اور پھر اسی دور میں پیمرا نے فیض آباد دھرنا کے دوران اُن چینلز پر بھی پابندی لگا دی جو اس دھرنے کی کوریج بڑے محتاط انداز میں کر رہے تھے۔بہرحال 20ستمبر کی دوپہر جب تقریباً تمام پرائیویٹ ٹی وی چینلز نے ایک سزا یافتہ جج ارشد ملک کی طرف سے سزا یافتہ نواز شریف کی تقریر دکھانا شروع کی تو ایسا لگا کہ پاکستان میں کوئی بہت بڑی تبدیلی آ گئی ہے۔ لگ رہا تھا سب ٹی وی چینلز حکومتی احکامات کی خلاف ورزی پر اُتر آئے اور پیمرا کی کارروائی کا سامنا کرنے کے لئے تیار تھے۔ نواز شریف کی تقریر میں ایک پیغام بڑا واضح تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں بلکہ عمران خان کو حکومت میں لانے والوں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اوپر سےچلایا جارہا ہے اور پھر جب اُنہوں نے ایک حالیہ اسکینڈل پر گفتگو شروع کی تو یہ محسوس ہوا کہ بلاول صاحب کی اے پی سی پیچھے رہ گئی ہے اور نواز شریف کی تقریر بہت آگے نکل گئی ہے۔تقریر ختم ہوئی تو مسلم لیگ (ن) کے کچھ رہنما ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ یہ تقریر کس نے لکھی ہے؟ اے پی سی ہال کے اندر سے باہر موجود ساتھیوں کو پوچھا جا رہا تھا کہ اب کیا ہوگا؟ جب انہیں بتایا گیا کہ یہ تقریر سب ٹی وی چینلز نے دکھا دی ہے تو اے پی سی کے شرکاء کو یقین نہیں آیا۔ یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ کل کچھ وزراء نے یہ اعلان تو کر دیا تھا کہ نواز شریف کی تقریر دکھانے کی اجازت نہیں ہوگی لیکن جب چینلز نے تقریر دکھانا شروع کی تو حکومت کی طرف سے چینلز کو تقریر روکنے کے لئے ہدایات نہیں آئیں۔شاید وزیراعظم نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ اگر نواز شریف کی تقریر چینلز پر دکھا دی جائے تو حکومت کو نقصان نہیں ہوگا بلکہ مسلم لیگ (ن) کو نقصان ہوگا کیونکہ نواز شریف کا نشانہ عمران خان کم اور ریاستی ادارے زیادہ ہوں گے اور اگر نواز شریف کے خیالات عام پاکستانیوں تک پہنچ جائیں تو اُنہیں پتا چل جائے گا کہ نواز شریف کی لڑائی تحریک انصاف کے ساتھ نہیں بلکہ ریاستی اداروں کے ساتھ ہے۔جب نواز شریف یہ فرما رہے تھے

کہ آج پاکستانی میڈیا کی آواز دبائی جا رہی ہے تو شاید وہ نہیں جانتے تھے کہ اُن کی تقریر پاکستانی ٹی وی چینلز پر آن ائر جا رہی ہے لہٰذا اگر حکومت کی طرف سے یہ تقریر دکھانے والے ٹی وی چینلز کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی تو پھر حکومت کو یہ کریڈٹ دینا چاہئے کہ اُس نے نواز شریف اور آصف زرداری دونوں کی تقاریر پر پابندی نہ لگا کر ایک طرف دنیا کو بتایا کہ پاکستان میں میڈیا پر اتنی پابندیاں نہیں جتنا شور مچایا جاتا ہے اور دوسری طرف اس تقریر سے بالواسطہ فائدہ بھی اٹھانے کی کوشش ہوگی۔اطلاع یہ ہے کہ نواز شریف کی تقریر وزیراعظم عمران خان کی مرضی سے دکھائی گئی۔ اس تقریر پر نواز شریف کے حامی بہت خوش ہیں اور عمران خان کے حامی اس بات پر خوش ہیں کہ اب مسلم لیگ (ن) کے لئے مشکلات بڑھ جائیں گی۔اے پی سی نے کچھ اہم اعلانات بھی کئے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اے پی سی میں شامل جماعتوں کی قیادت نے اپنی سیاست پاکستان میں کرنی ہے، کیا نواز شریف کی دھواں دھار تقریر کے بعد پاکستان میں موجود اپوزیشن کی قیادت حکومت پر وہ دبائو ڈالنے میں کامیاب ہو سکے گی جس کا اعلان اے پی سی کے فیصلوں میں کیا گیا؟ اے پی سی میں شامل جماعتوں کا سب سے بڑا امتحان آنے والے دنوں میں اپنا اتحاد برقرار رکھنا اور اسے مزید وسیع کرنا ہے۔اگر اپوزیشن اس امتحان میں کامیاب رہی تو حکومت پر دبائو بڑھ جائے گا لیکن اگر اپوزیشن کا اتحاد قائم نہ رہا تو فائدہ عمران خان اٹھائیں گے اور اس فائدے کی وجہ نواز شریف کی وہ تقریر ہو گی جس پر پابندی نہیں لگائی گئی۔آخر میں گزارش صرف اتنی ہے کہ سیاستدان یہ مت دیکھیں کہ اُن کے فیصلوں سے اُنہیں ذاتی طور پر کتنا فائدہ، کتنا نقصان ہو رہا ہے وہ یہ دیکھیں کہ پاکستان کے عام آدمی کو ان کے فیصلوں سے کوئی فائدہ ہو رہا ہے یا نہیں؟

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...