"ہاتھ نہیں ملانا لیکن لڑکی سے فیشل کرانا ہے” شاہد آفریدی کی دہری پالیسی پر پاکستانی غصے سے لال پیلے ہو گئے

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کو ایک خاتون سے فیشل کرانے پر تنقید کا سامنا ہے۔

پاکستانیوں کی جانب سے خاتون سے فیشل کرانے پر شاہد آفریدی کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ وہ دہری پالیسی رکھتے ہیں۔ ایک وقت تو وہ تھا کہ جب شاہد آفریدی نے میچ کی تقریب میں ایک خاتون سے ہاتھ ملانے سے انکار کردیا تھا۔ ان کی یہ ویڈٰو اج بھی "لالہ کی شرافت” کا "منہ بولتا ثبوت” کے طور پر پیش کی جاتی ہے لیکن اب ان کی خاتون سے فیشل کرانے کی تصاویر نے لالہ کی "بے گناہی” پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پیپل آف پاکستان نامی ٹوئٹر ہینڈل نے لالہ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ” ایک کرکٹ میچ کی تقریب میں ایک عورت نے رسمی طور پر شاہد آفریدی سے ہاتھ ملانا چاہا تھا تو کیمروں کے سامنے انکار نہیں کر دیا تھا۔”

یاسمین خان نے بھی یہی بات دہرائی اور کہا ” یہ وہی شخص نہیں ہے جس نے کیمرے کے سامنے عورت کے ساتھ ہاتھ ملانے سے انکار کیا تھا۔”

جواد ارشد نے آفریدی کے مبینہ سیاسی مستقبل پر انگلی اٹھاتے ہوئے کہا ” افسوس کیسے کیسے ڈرامے کرنے پڑتے ہے ایک کٹ پتھلی کو تیار کرنے کیلئے۔”

ڈاکٹر بتور نے کہا اگر منافقت کا کوئی چہرہ ہوتا تو یہ ہوتا، یہ ہے شاہد آفریدی جو عورتوں سے ہاتھ ملانا پسند نہیں کرتا۔

ایک اور صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لڑکی سے ہاتھ ملانا حرام ہے لیکن لڑکی کے ہاتھ چہرے پر لگوانا حلال ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...