- Advertisement -

پنجاب کو تو یہ بھی نہیں پتا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار تھا، فرح گوگی تھی یا پنکی پیرنی: مریم نواز

- Advertisement -

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پچھلے چار سال لاہور یتم اور لاوارث تھا، اگر اس نالائق کی حکومت ایک سال اور رہتی تو وہ اسے بھی کھنڈر بنا دیتا، لاہور ان لوگوں کے پاس واپس آ گیا ہے جو دن رات محنت کرکے ترقی کے ریکارڈ قائم…
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا لاہور میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 17 جولائی کو لاہور کے چار حلقوں میں انتخابات ہورہے ہیں، لاہور پہلے بھی نوازشریف کا تھا، اب بھی ہے اور آئندہ بھی نواز شریف کا رہے گا۔
مریم نواز نے کہا کہ لاہور پر بری نظر رکھنے والوں کو خبر ہو کہ 17 جولائی کو یہاں سے مایوس لوٹنا پڑے گا۔
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پچھلے چار سال لاہور یتم اور لاوارث تھا، اگر اس نالائق کی ایک سال اور حکومت رہتی تو وہ اسے بھی کھنڈر بنا دیتا، لاہور ان لوگوں کے پاس واپس آ گیا ہے جو دن رات محنت کرکے ترقی کے ریکارڈ قائم کریں گے۔
 
ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے دن رات ایک کرکے لاہور اور پنجاب کو سجایا، جگہ جگہ اس کے نشانات نظر آتے ہیں، کہیں انڈر پاس ہے، کہیں اتنی اچھی سڑکیں ہیں، کسی نے مذاق کیا کہ اگر منہ کھلا ہو اور دانتوں میں خلا تو شہباز شریف وہاں بھی پل بنادے گا۔
مریم نواز نے کہا کہ لاہور کو دوائیاں ملنا، ترقی ملنا بند ہو گئی، صبح صبح 5 بجے سڑک دھونے والے آتے تھے، مہینہ مہینہ کسی نے سڑک صاف نہیں کی، لاہور والوں گواہی دیتے ہو کہ پچھلے چار سال عید الضحی پر الائشوں کے ڈھیڑ لگے ہوتے تھے، اس بار حمزہ شہباز نے 24 گھنٹے میں لاہور نہیں پورے پنجاب کی سڑکیں صاف کر دیں۔
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ عمران خان لاہور میں اپنی مہم کا اختتام کرے گا، میں عاجزی اور فخر کے ساتھ اپنے بھائی حمزہ شہباز کے لیے مہم چلارہی ہوں، لیکن لاہور والوں اس سے پوچھنا بنتا ہے کہ تمہارا وزیراعلیٰ کہاں ہے، چار سال کٹھ پتھلی بن کر عثمان بزار بیٹھا رہا، کسی ایک بھی جلسے میں اسے دیکھا؟ اس نے لاہور کے لیے کچھ کیا ہوتا تو لاہور منہ دکھانے آتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کو تو یہ بھی نہیں پتا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار تھا، فرح گوگی تھی یا پنکی پیرنی۔
انہوں نے کہا کہ لاہور کے چار سال ضائع ہوگئے، اگر یہاں پر نوازشریف کی حکومت ہوتی تو لاہور کی ترقی کیا کہہ رہ ہوتی؟ چار سال اس لیے ضائع ہوئے کہ عمران خود کٹھ پتلی تھا اور اس نے عثمان بزدار کو کٹھ پتلی رکھا ہوا تھا، عثمان بزدار نے فرح گوگی، فرح گوگی نے ابراہیم مانیکا اور اس نے بشریٰ پیرنی کو رکھا ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسی لیے پنجاب کا یہ حال ہوا، لاہور کی سڑکیں کوڑے کا ڈھیر بن گئیں لیکن آج سوال کرنا چاہتی ہوں، عمران خان آج اس کے لیے ووٹ مانگے گا، جس کو وہ سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ بلے اور شیر کی نہیں ہے، یہ جنگ لاہور اور پنجاب کی ترقی کی ہے جو ہم ان سے چھین کر لیں گے، یہ میٹرو بس کو جنگلا بس کہتا تھا لیکن تھوک کر چاٹا اور خیبر پختونخوا میں بھی جنگلا بس شروع کی۔
انہوں نے کہا کہ اس کا پتا چلا کہ شہباز شریف قیمتیں کم کرنے کا اعلان کرنے والا ہے، سیانہ بنتا ہے، ٹی وی پر آکر بولتا ہے کہ شہباز شریف قیمتیں کم کرو، او بھائی چار سال عوام پر مہنگائی کے طوفان توڑتے رہے ہو، تمہارا قیمتیں کم کرنے سے کیا تعلق ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف نے کہا ہے کہ اگر اسی طرح عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتیں کم ہوتی رہیں تو 15 دن بعد پاکستان میں بھی قیمتوں کو مزید کم کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ شیر پر مہر لگائیں اور میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں کہ جب تک آپ کی زندگیوں میں بہاریں واپس نہ لے آئیں اس وقت تک شیر آرام سے نہیں بیٹھے گا، پی پی 168 والوں آپ کا جذبہ بتا رہا ہے کہ 17 جولائی کو شیر دھاڑے گا۔