نوازشریف کی آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی پر تنقید، وزیراعظم عمران خان نے زوردار جواب دیدیا

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف نے گزشتہ روز پاک فوج اور اس کے سربراہ کیخلاف جو زبان استعمال کی ہے جو خود جنرل جیلانی کے گھر کے اوپر سریا بناتے ہوئے وزیر بنا تھا اور ضیاءالحق کے جوتے پالش کر کے وزیراعلیٰ بنا تھا۔ نواز شریف نے آصف زرداری کو 2 سال جیل میں رکھا اور دونوں نے ایک دوسرے کیخلاف مقدمات بنوائے، جنرل باجوہ نے نہیں بنوائے، بیرون ممالک کے لوگوں نے اپنی کتابوں میں نواز شریف کو کرپٹ قرار دیا، وہ کتابیں جنرل باجوہ نے نہیں لکھی تھیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ٹائیگر فورس کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیلئے اپنا مقام اور کام سمجھنا بہت ضروری ہے، رضاکارانہ فوج کا معاشرے میں بڑا مقام ہوتا ہے کیونکہ شہریوں کی ضروریات اور حقوق کی حفاظت کرنا آپ کا سب سے بڑا کام ہے، زندہ معاشرے میں جب مشکلات پیش آتی ہیں تو شہری حکومت کی مدد کیلئے آ جاتے ہیں اور پاکستانی قوم مشکل وقت میں ہمیشہ کھڑی ہوتی ہے، میں جب کینسر ہسپتال بنانے نکلا تو مجھے بڑی مشکل پیش آئی اور مجھے کسی نے کہا کہ عوام کی مدد مانگو، سکول کے بچوں، کالج سٹوڈنٹس کی مدد مانگو اور بالآخر یہ معجزہ ہوا اور آج کسی بھی ملک میں اس کی مثال نہیں ملتی کہ کینسر ہسپتال پیسہ اکٹھا کر کے بنا دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا گواہ ہے کہ شوکت خانم دنیا کا واحد کینسر ہسپتال ہے جہاں 75 فیصد مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے، دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں ہے اور یہ ہماری قوم کی وجہ سے ہے جو بڑے دل کی مالک ہے، جب انہیں احساس ہو جائے کہ ملک کو ان کی ضرورت ہے تو یہ قوم کھڑی ہو جاتی ہے، آپ کی ضرورت ملک میں شجرکاری اور ذخیرہ اندوزوں سمیت دیگر معاملات پر پڑے گی، اگلے تین سالوں میں ہمیں 10 ارب درخت لگانے ہیں، ہم نے اپنا پانی صاف کرنا ہے، دریا صاف کرنے ہیں کیونکہ دریا جیسے جیسے نیچے جاتا ہے، پانی کی بیماریاں بڑھ جاتی ہیں، اس وقت ہمارے ملک میں مہنگائی ہے جس کی کئی وجوہات ہیں۔ جب ہمیں حکومت ملی تو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ تھا، 60 ارب ڈالر کی باہر سے چیزیں لے رہے تھے اور 20 ارب ڈالر دنیا کو بھیج رہے تھے، جب یہ خسارہ ہوتا ہے تو ڈالر کی کمی ہو جاتی ہے اور روپیہ نیچے آ جاتا ہے، جب روپیہ گرتا ہے تو جو بھی چیزیں باہر سے خریدتے ہیں وہ مہنگی ہو جاتی ہیں، جیسا کہ گیس، پیٹرول، بجلی یہ سب چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں اور کھانے پینے کی چیزیں بھی مہنگی ہو جاتی ہیں جبکہ کورونا وائرس کی وجہ سے بھی مہنگائی ہوئی، 60 فیصد دالیں باہر سے لیتے ہیں، گندم کی کٹائی کے موقع پربارشیں ہوئیں اور گندم کی کمی کا سامنا بھی کرنا پڑ گیا، ہمیں پتہ دیر سے معلوم ہوا اور جب تک ہم نے باہر سے گندم منگوائی یہاں ذخیرہ اندوزی شروع ہو گئی، قائداعظم نے 72 سال پہلے کی گئی تقریر میں بھی ذخیرہ اندوزی کو لعنت قرار دیا، اس لئے مجھے آپ کی ضرورت ہے اور ان ذخیرہ اندوزوں کی نشاندہی کرنی ہے۔ آپ نے کہیں خود جا کر مداخلت نہیں کرنی بلکہ اپنے موبائل فون کے ذریعے تصاویر لیں اور ایڈریس کیساتھ اسے ٹائیگر فورس پورٹل پر ڈال دیں، باقی کام انتظامیہ کرے گی۔ آپ پر یہ ذمہ داری بھی ہے کہ دکانوں پر جانا ہے جہاں قیمتوں کی فہرست نہیں لگی، وہ بھی تصویر لے کر ہمیں بھیج دینی ہے، اس سے آپ انتظامیہ کی مدد کریں گے لیکن آپ نے خود ہرگز مداخلت نہیں کرنی کیونکہ اگر ایسا کیا تو پھر وہ لوگ بھی ٹائیگر فورس میں شامل ہو جائیں گے جو پیسہ بنانے کیلئے دکانداروں کو بلیک میل کریں گے، چینی کا مسئلہ ہوا اور بدقسمتی سے ہمارے ہاں تھوڑے سے لوگ چینی بنانے والے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر سب سے طاقتور بھی ہیں، شریف خاندان کی اور زرداری کی بھی شوگر ملیں ہیں اور آج تک انہیں کسی نے نہیں پوچھا تھا اور وہ اپنی مرضی سے قیمت دیتے تھے، ہم نے پہلی دفعہ تفصیلی انکوائری کر کے تمام چیزوں کا پتہ چلا لیا ہے، میں اپنی قوم کے سامنے کہتا ہوں کہ جو ہم پلان لے کر آ رہے ہیں، اس پر عملدرآمد سے آپ کو اس طرح مہنگی چینی نہیں ملے گی۔

اس موقع پر وزیراعظم نے گزشتہ روز گوجرانوالہ میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے 11 سال پہلے کہا تھا کہ یہ اکٹھے ہو جائیں گے اور اپنے بیان کی ویڈیو بھی انہوں نے کنونشن میں چلائی۔ انہوں نے مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کا نام لئے بغیر کہا کہ میں دو بچوں کی تقریر پر بات نہیں کرنا چاہتا، ایک ان میں سے نانی ہو گئی ہے لیکن میرے لئے بچے ہی ہیں، انسان جب تک زندگی میں محنت نہیں کرتا، وہ لیڈر بن ہی نہیں سکتا، ان دو بچوں نے آج تک زندگی میں ایک گھنٹہ حلال کا کام نہیں کیا لیکن آج لیکچر دے رہے ہیں، دونوں نے اپنی زندگی میں پیسے بنانے کیلئے ایک گھنٹہ بھی حلال کا کام نہیں کیا اور اپنے باپ کی حرام کمائی پر پلے، ان پر تبصرہ کرنا فضول ہے۔

انہوں نے نواز شریف کی تقریر سے متعلق گفتگو کرنے سے پہلے نواز شریف کی علاج سے قبل پاکستان میں لی گئی تصویر اور علاج کی غرض سے لندن جانے کے بعد کی تصاویر بھی کنونشن سینٹر میں دکھائیں اور کہا کہ یہ شکل جب شیریں مزاری نے دیکھی تو اس بیچاری کی آنکھوں میں آنسو آ گئے حالانکہ ان کی آنکھوں میں آنسو آنا بہت مشکل ہے، میری بھی آنکھوں میں آنسو آ جاتے اگر میں اسے اچھی طرح نہ جانتا۔ اس موقع پر انہوں نے شہباز شریف کی گفتگو کی ویڈیو بھی چلوائی اور کہا کہ بالی ووڈ میں بھی ایسی کوئی ایکٹنگ نہیں کر سکتا، اب سوچیں کہ ہماری کابینہ کے سامنے جب یہ ایکٹنگ ہو رہی تھی تو شیریں مزاری رونا شروع ہو گئیں، اس سب پر ہم نے اسے واپس لندن جانے ہی دینا تھا۔

وزیراعظم نے کہا برصغیر کی تاریخ میں کبھی بھی ہندوستان میں ایسی حکومت نہیں آئی جو مسلمانوں سے اور پاکستان سے اتنی نفرت کرتی ہے جتنی نریندرا مودی کی کرتی ہے، وہ مسلسل ہمارے فوجیوں کے اوپر حملے کر رہے ہیں، ہر روز ہمارے فوجی اپنی جان کی قربانیاں دے رہے ہیں، پرسوں پاکستان سیکیورٹی فورسز کے 20 اہلکاروں نے شہادت حاصل کی، انہوں نے ہمارے لئے اور اس ملک کیلئے اپنی جانیں قربان کیں لیکن ان کیخلاف زبان استعمال کرنے والا نواز شریف جنرل جیلانی کے گھر کے اوپر سریا بناتے ہوئے وزیر بنا تھا، یہ وہ آدمی ہے جو ضیاءالحق کے جوتے پالش کرتے کرتے چیف منسٹر بنا تھا، یہ وہ آدمی ہے جس نے اس وقت الیکشن لڑنے کیلئے بینک سے کروڑوں روپے لئے جب جنرل درانی فوج کے سربراہ تھے، لیکن اس ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک کی عدالتوں نے ہمیشہ اس کی مدد کی، یہ وہ آدمی ہے جس نے آصف زرداری کو دو دفعہ جیل میں رکھا تھا اور اسے پاکستان کا کرپٹ ترین آدمی کہتا تھا، وہ زرداری جس نے حدیبیہ پیپر مل کا کیس بنایا، جنرل باجوہ نے وہ کیس نہیں بنایا، یہ وہ زرداری نواز ہیں جن کے بارے میں ریمنڈ بیکر نے اپنی کتاب میں لکھا کہ کیسے اس ملک کا پیسہ چوری کر کے باہر لے گئے، وہ کتاب جنرل باجوہ نے نہیں لکھی تھی، اس کے بعد تین اور کتابیں آئیں جس میں یہ بتایا گیا کہ انہوں نے ملک کیساتھ کیسے غداری کی، دیگر ممالک میں قانون بہت سخت ہیں جہاں آپ کوئی کتاب لکھیں تو اس کا ایک ایک لفظ وکیل دیکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ آپ اسے ثابت بھی کر سکتے ہیں یا نہیں، ایک اور کتاب میں لکھا ہے کہ نواز شریف امریکیوں سے کہہ رہا ہے کہ اپنی فوج یہاں لے آﺅ اور مجھے تحفظ دو، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنا چوری کیا ہوا پیسہ بچانے کیلئے اس ملک کو بیچ سکتے ہیں، پیسہ ان کا خدا ہے، انہوں نے جو اس ملک کیساتھ کیا ہے، وہ میر جعفر اور میر صادق نے اپنی قوموں کیساتھ کیا ہوا تھا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...