گستاخانہ خاکے دکھانے والے ٹیچر کا سر قلم کردیا گیا

سر قلم کیے جانے والے استاد نے کلاس روم میں گستاخانہ خاکے دکھائے تھے اور ساتھ ہی اس پر بحث بھی کرائی تھی

یہ واقعہ جمعے کی شام 5 بجے فرانس کے دارالحکومت پیرس کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کے باہر پیش آیا جہاں چاقو بردار نوجوان نے ’تاریخ‘ کے ایک استاد کا سر قلم کیا۔

رپورٹس کے مطابق قتل کیے جانے والے استاد نے کلاس روم میں گستاخانہ خاکے دکھائے تھے اور ساتھ ہی اس پر بحث بھی کرائی تھی۔

 

متنازع فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو نے گستاخانہ خاکے دوبارہ شائع کردیے
فرانسیسی ٹیررازم پراسیکیوٹر نے بتایا کہ پولیس نے مسلح اور چاقو بردار نوجوان کو جائے وقوع کے قریب ہی گولی مار کر ہلاک کردیا تھا جب کہ اس سے رابطے میں رہنے والے کئی افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

دوسری جانب عدالتی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ چاقو بردار 18 سالہ نوجوان کا تعلق چیچنیا سے تھا۔

حکام نے بتایا کہ سرقلم کیے گئے 47 سالہ استاد کا نام سیموئیل پاٹی ہے تاہم چیچن نوجوان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیا ہے اور چند گھنٹوں بعد ہی وزیراعظم کے ہمراہ اسکول کا دورہ بھی کیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں متنازع فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو نے ایک بار پھر توہین آمیزخاکے شائع کیے تھے۔

میگزین کی جانب سے شائع کیے گئے توہین آمیز خاکے وہی ہیں جن کے ردعمل میں 7 جنوری 2015 کو اس میگزین پر حملہ کیا گیا تھا۔

 

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...