”خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں میری نانی کا ذکر کیا جس کے بعد سے ۔۔“ حامد میر نے ٹویٹر پر پیغام جاری کر دیا ‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )قومی اسمبلی سے خطاب کے دوران سینئر لیگی رہنما خواجہ آصف کے حامد میر کی نانی کا ذکر پر سینئر صحافی نے پیغام جاری کر دیا ۔تفصیلات کے مطابق سینئر اینکرپرسن حامد میر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ ’’مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ محمد آصف نے آج قومی اسمبلی میں 1947 میں جموں وکشمیر سے آنے والے کشمیریوں پر ظلم بیان کرتے ہوئےمیری نانی کا بھی ذکر کیا جو آج تک لاپتہ ہیں کئی لوگوں نے نانی کے متعلق مجھے پوچھا ہے انکے بارے میں یہ تحریر کچھ سال پہلے میں

نےلکھی تھی۔ روزنامہ جنگ میں شائع سینئر صحافی حامد میر اپنی تحریر’’1947ء؁ سے لاپتہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں غلام فاطمہ کو دیکھا نہ ان سے ملا لیکن میرے لئے وہ آزادی کی علامت ہیں۔ میں نے ان کا ذکر پہلی مرتبہ 1971میں سنا، جب میں پانچ برس کا تھا۔ میں کسی کے ہلکے ہلکے رونے کی آواز سے نصف شب کو جاگ گیا اور مجھے اندازہ ہوا کہ یہ میری والدہ ہیں۔ میرے والد سابق مشرق پاکستان اور موجودہ مغربی پاکستان کے خیر سگالی دورے پر ڈھاکا میں تھے۔ میں نے سوچا کہ غالبا میری والدہ میرے والد کی کمی محسوس کر رہی تھیں، لہذا میں ان کے بستر میں چھلانگ لگا کر پہنچا اور انہیں اپنے ننھے بازوؤں سے لپٹا لیا۔ میرے گال ان کے آنسوؤں سے تر ہوگئے۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیوں رو رہی ہیں۔ انہوں نے میرے گالوں پر پیار کیا اور آہستگی سے کہا کہ جاؤ جاکر سو جاؤ۔ لیکن جب میں نے اپنا سوال دھرایا تو وہ ایک مرتبہ پھر رونے لگیں اور کہا کہ ’’1947 ختم ہی نہیں ہوتا، یہ خون خرابہ کب رکے گا؟‘‘ میں چکرا گیا اور ان سے پوچھا کہ ’’امی جی 1947کیا ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا کہ اس سال پاکستان آزاد ہوا تھا، اس وقت بہت سے لوگ قتل اور اغوا ہوئے تھے۔ جب میں نے پوچھا کہ ’’اغوا کیا ہوتا ہے‘‘تو ایسے لگا کہ جیسے میری والدہ کے جسم میں کوئی ڈیم پھٹ پڑا ہوا، انہوں نے بلند آواز سے رونا اور سسکیاں لینا شروع کردیں اور اپنے دکھ پر قابو پانے کیلئے اپنے ہاتھسے منہ کو دبا لیا۔ اس وقت تک میں شدید دہشت اور حیرت کی کیفیت میں آچکا تھا۔ کچھ دیر بعد جب ان کی ہچکیاں کم ہوئیں تو انہوں نے حوصلہ کر کے مجھے غلام فاطمہ کے بارے میں بتایا۔ وہ ان کی والدہ تھیں، میری نانی۔ اگست 1947سے چند ہفتوں قبل پنجاب کو ہلا کر رکھ دینے والے پاگل پن میں انہوں نے اپنے خاندان کے ہمراہ جموں میںاپنے آبائی گھر سے نکل کر سیالکوٹ جانے والی بس پکڑی جو اس سے بہت زیادہ دور نہیں تھا جسے بین الاقوامی سرحد بننا تھا۔ نانی کے والد ان کے ساتھ ان کے ہمراہ نہ آسکے کیوںکہ وہ دیگر رشتے داروں کی ہمارے نئے وطن پاکستان نقل مکانی میں مدد دینے کا انتظام کر رہے تھے۔ لیکن جیسے ہی میری نانی کی بس جموں شہر سے باہر نکلی، اسے مسلح ہندو اور سکھوں کے جتھے نے روک لیا۔ انہوں نےبے رحمی سے تمام مرد مسافروں کو عورتوں اور بچوں کے سامنے قتل کر دیا۔ میری والدہ چھوٹی بچی تھیں۔ جب حملہ آوروں نے خواتین سے کہا کہ وہ بس سے باہر آئیں تو میری نانی غلام فاطمہ نے میری والدہ ممتاز سے کہا کہ وہ لاشوں کے نیچے چھپ جائیں۔ انہوں نے اپنی دو چھوٹی بچیوں جمیلہ اور شمیم کو بھی لاشوں کے نیچے چھپا دیا۔ ایک بچہ ان کی گود میں رو رہا تھا۔ وہ اتنا چھوٹا تھا کہ اسےچھپایا نہیں جاسکتا تھا لہذا وہ اس کے ساتھ قریبی جنگل میں بھاگ گئیں۔ دوسری جانب میری والدہ خود کو اور اپنی چھوٹی بہنوں کو خون کے تالاب میں چھپانے میں کامیاب ہوگئیں اور اس طرح بچ گئیں۔ جہاں تک غلام فاطمہ اور ان کے معصوم بیٹے کا تعلق ہے تو میری والدہ نے روتے ہوئے وہ بتایا جو ایک رشتے دار نے بعد میں بتایا تھا کہ کس طرح غلام فاطمہ کو اپنے دائیں ہاتھ میں ایک چھڑی اور بائیں ہاتھمیں چھوٹے بیٹے کو پکڑ کر حملہ آوروں سے اپنا دفاع کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا لیکن ان پر آسانی سے قابو پالیا گیا اور حملہ آور انہیں گھسٹتے ہوئے لے گئے۔ میں اپنے ذہن سے اپنی نانی کی کہانی کو کھرچ نہ پایا۔ چند برس کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میری والدہ اور ان کی بہنوں کو نومبر 1947بلوچ رجمنٹ نے کٹھوعہ کے قریب سڑک پر بھری ہوئی لاشوں میں سے نکالا تھا۔ انہیں مہاجر کیمپ بھیج دیا گیا،جہاں میرے نانا نے انہیں چند ہفتوں کے بعد تلاش کر لیا۔ انہوں نے اپنی بیوی کو کئی سال تک تلاش کیا۔ کسی مرحلے پر میرے نانا نے چند مغوی ہندو خواتین کو مغوی مسلم خواتین سے تبادلے کا بھی اہتمام کیا لیکن غلام فاطمہ کبھی واپس نہ آئیں۔ مجھے یہ بات سمجھنے میں کئی برس لگے کہ 1971میں اس رات میری والدہ اتنی شدت سے کیوں رو رہی تھیں۔ وہ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کےدوران قتل اور اغوا کی کہانیاں سن چکی تھیں، جس سے وہ دردناک یاددیں پھر عود کر آئیںجنہیں وہ اس وقت سے دبانے کی کوشش کر رہی تھیں جب وہ بچی تھیں۔ میں اپنی ماں کے بہت قریب تھا۔ میں اپنی والدہ کے ساتھ ان متعدد صوفیوں کے مزاروں پر جایا کرتا تھا جہاں جا کر وہ اپنی لاپتہ والدہ اور بھائی کی واپسی کیلئے بہت اخلاص سے دعا کیا کرتی تھیں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...