گوگل پر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بڑھنے کی وجہ کیا تھی؟

پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں گزشتہ ایک سال کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے مگر گزشتہ شب گوگل کے نظام میں ایک غلطی نے پاکستانیوں کو خوش کردیا۔

منگل کو رات گئے گوگل کے آن لائن کرنسی کنورٹر میں آنے والی خامی کے نتیجے میں متعدد افراد الجھن کا شکار اور حیرت زدہ ہوگئے۔

درحقیقت اس وقت گوگل نے پاکستانی روپے کی قدر کو اتنا بڑھا دیا کہ ڈالر کی قیمت لگ بھگ 50 فیصد تک کم ہوگئی۔

یعنی ایک ڈالر 76 روپے کا شو ہونے لگا، بلکہ لگ بھگ تمام کرنسیاں پاکستانی روپے کے مقابلے میں سستی ہوگئیں جیسے ایک انڈین روپیہ ایک روپے 7 پیسے کا ہوگیا۔

اور صاف ظاہر ہے یہ بات سوشل میڈیا سے دور نہیں رہ سکی اور وائرل ہوگئی جہاں کچھ لوگوں نے تفریحاً نئی حکومت کی ‘تبدیلی’ قرار دیا اور وہ بھی اتنے کم وقت میں۔

درحقیقت صرف گوگل نہیں بلکہ مائیکروسافٹ کے بنگ سرچ انجن میں آن لائن کرنسی کنورٹر بھی پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی یہی قیمت دکھا رہا تھا۔

لوگ حیران تھے کہ آخر پاکستانی روپیہ اچانک اتنا زیادہ مضبوط کیسے ہوگیا ؟

بعد ازاں گوگل اور بنگ میں اسے درست کردیا گیا اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی صحیح قدر ظاہر ہونے لگی۔

گوگل کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان تو جاری نہیں ہوا مگر ممکنہ طور پر یہ اس تھرڈ پارٹی سروس کی خامی ہوسکتی ہے جو گوگل اور بنگ کی جانب سے کرنسی ایکسچینج ریٹ کے لیے استعمال کی جارہی ہے۔

جیسا ایک ٹوئیٹ میں اس امکان پر روشنی ڈالی گئی۔

خیال رہے کہ گوگل نے اپنی پالیسی میں لکھا ہے کی اس کی آن لائن کرنسی کنورٹر سروس صرف سہولت کے لیے ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس میں دیئے جانے والے نمبر درست ہوں گے، بلکہ لوگوں کو کسی قسم کی ٹرانزیکشن سے قبل ان کی تصدیق کرنی چاہئے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں