- Advertisement -

پی ٹی آئی کے پونے 4 سال میں 21 ہزار ارب کا قرضہ بڑھ گیا، وزیر خزانہ

- Advertisement -

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ عمران خان ملک کو دیوالیہ کی طرف لے کر گئے اور ہر سال 3 ہزار 500 ارب روپے کا خسارہ کیا۔
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اپریل میں جو ملک کی حالت چھوڑ کر گئے تھے وہ عوام کو بتانا چاہتے ہیں کیونکہ وہ ملک کو دیوالیہ کی طرف لے کر گئے۔ عمران خان نے پیٹرول پر سبسڈی دی جس سے ملک کو ماہانہ 120 ارب روپے کا نقصان ہو رہا تھا اور یہ ایک دن کی غلطی نہیں بلکہ 4 سال کی نااہلی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پہلے 3 سال میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ہر سال 3 ہزار 500 ارب روپے کا خسارہ کیا اور پی ٹی آئی کے پونے 4 سال میں 21 ہزار ارب روپے کا قرضہ بڑھ گیا۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار پی ٹی آئی کی حکومت میں 4 سال میں 25 ہزار ارب روپے قرض لیا گیا تھا۔ تحریک انصاف نے 4 سالوں میں ملک کو بڑا خسارہ دیا۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان میں گیس کی لوڈشیڈنگ نہیں سنی تھی لیکن یہ بھی عمران خان کی وجہ سے ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے پر عمران خان شمسی توانائی کی طرف نہیں گئے۔
انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں ہم سستا گھی اور سستا آٹا فراہم کر رہے ہیں جبکہ عمران خان کام نہیں صرف باتیں کرتے تھے۔ اب شہباز شریف کی حکومت سولر ٹیوب ویل بھی لگوا رہی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی 9 سال کے پی کے میں حکومت نے سستی چیزیں نہیں بیچیں بلکہ مہنگائی کی، ان کی نیت کیا تھی وہ اللہ جانتا ہے لیکن وہ نااہل تھے جو کام نہیں کر سکے تھے۔
آئی ایم ایف سے ہونے والے معاہدے سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدہ بھی ایک سال کی تاخیر سے کیا گیا اور آئی ایم ایف سے معاہدہ کے مطابق 4 روپے ہر ماہ قیمت بڑھانی تھی۔ ہم نے ڈیزل کی قیمت 120 روپے بڑھائی اور قیمت بڑھانے کے لیے شہباز شریف نے کٹھن دل سے اجازت دی۔
انہوں نے کہا کہ کیا عمران خان پاکستان کو دیوالیہ کرنا چاہتے تھے ؟ ہم تجارتی خسارہ کم کرنے آئے ہیں اور میں نے وزیر اعظم کے بیٹے کی فیکٹری پر بھی ٹیکس لگائے لیکن عمران خان نے اپنے دوستوں کو ٹیکس کی چھوٹ دی۔ پی ٹی آئی نے ہر مرحلے میں ملک کو نقصان پہنچایا۔