فوجی عدالتوں پر توسیع کا ہنگامہ، ڈی جی آئی ایس پی آر کھل کر میدان میں آگئے، واضح اعلان کردیا

راولپنڈی ( آن لائن)ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفو رنے کہاہے کہ فوجی عدالتیں پاک آرمی کی خواہش نہیں اور نہ ہی ان کی فوج کو ضرورت ہے بلکہ یہ قوم کی ضرورت تھیں، فوجی عدالتیں قائم رکھنے کیلئے سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا ، پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا توفوجی عدالتیں قائم رہیں گی، فوجدار ی نظام دہشگردوں کوسزائیں دینے میں نا کام رہا ۔

دنیا نیوز کے پروگرام ”دنیا کامران خان کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے میجر جنر ل آصف غفورنے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی لہر تھی ، دہشت گرد گرفتار بھی ہوتے تھے لیکن ہمارا فواجدارنظام دہشتگردوں کو سزائیں دینے میں نا کام رہا ۔ انہوں نے کا کہ فوجی عدالتوں کاقیام سانحہ اے پی ایس کے بعد پارلیمنٹ کی منظور ی اور اتفاق رائے سے عمل میں لایا گیا تھا، فوجی عدالتیں فوج کی خواہش نہیں بلکہ قومی ضرورت تھیں،ان کے قیام سے دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی، بعد میں دو بار پارلیمنٹ سے ہی توسیع کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اب پارلیمنٹ فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کی منظوری دیتی ہے یہ عدالتیں قائم رہیں گی اور اگر نہیں دیتی تو ختم ہوجائیں گی ۔

انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لانے کا مقصد فوجداری نظام میں بہتری لانا تھالیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان چار سالوں میں فوجداری نظام میں بہتری آئی ہے اورہماری فوجداری نظام دہشتگردی سے نمٹ لے گا ؟ ان کاکہناتھا کہ فوجی عدالتوں سے دہشت گردوں کو سزائیں دینے سے دہشت گردوں اور ان کی تنظیموں پر خوف طاری ہواہے ،ان کوپتہ ہے کہ اب انصاف ہورہاہے ، ہمارا فوجداری نظام بہت سست ہے جس میں اصلاحات کی ضرورت ہے ، جب یہ نظام ٹھیک ہوجائے گا تو پھر یہ مقدمات وہا ں منتقل ہوجائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا تعلق لاپتہ افراد یا ایسے معاملات سے نہیں ہے ، فوجی عدالتوں میں تمام قانونی تقاضے پورے کئے جاتے ہیں، فوجی عدالتوں نے 345ملزمان کو سزائے موت سنائی ہے جن میں سے صرف 56ملزمان کو سزائے موت ہوئی ،چار سال میں فوجی عدالتوں میں 717مقدمات آئے جن میں سے 646مقدمات کے فیصلے کئے گئے ہیں ، فوجی عدالتوں میں ملزموں کو اپیل کاحق ملتاہے ، آرمی چیف اگر سزائے موت دیتے ہیں تو مجرم ملٹری کورٹ میں اپیل کرتاہے اوراگر ملٹر ی کورٹ سے منظور ی نہ ہوتو پھر اپیل صدر مملکت کے پاس جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتیں قائم رکھنے کیلئے سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا ، پارلیمنٹ نے منظور ی دی تو فوج ملٹری کوٹس قائم رکھے گی ۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں