”یہ سعودی شخص صحراءمیں بھٹک گیا اور جب بھوک لگی تو 4 میں سے 2 بیویاں ہی کھا گیا لیکن پھر۔۔۔“ حقیقت جان کر آپ کے غصے کی انتہاءنہ رہے گی

لاہور (ویب ڈیسک) گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک خبر سامنے آئی کہ ایک سعودی شخص اپنی چار بیویوں کیساتھ 13 روز کیلئے صحراءمیں بھٹک گیا اور جب بھوک لگی تو وہ اپنی 2 بیویوں کا گوشت ہی کھا گیا۔ یہ خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر کروڑوں لوگوں تک جا پہنچی۔

رپورٹ کے مطابق 41 مصطفی علی حماد اپنی چار بیویوں کیساتھ صحراءمیں سے گزر رہا تھا کہ ریت کے طوفان کے باعث گاڑی غلط جانب موڑ دی اور پھر حادثہ پیش آ گیا جس کے باعث اس کی ایک بیوی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی ۔

تین روز تک وہ صحراءکی تپتی دھوپ میں بغیر پانی اور خوراک کے بھٹکتے رہے اور پھر حماد نے اپنی دو بیویوں کو مدد کی تلاش کیلئے بھیج دیا ۔ دونوں خواتین صحراءمیں بھٹکتی بالآخر ایک گاﺅں میں پہنچ گئیں اور جب مدد لے کر پہنچیں تو تمام لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ صرف حماد ہی زندہ بچا تھا اور اس کی دو بیویاں ہلاک ہو چکی تھیں اور وہ زندہ رہنے کیلئے ان کا گوشت کھاتا رہا۔

حماد نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس کمزور لمحے میں وہ اپنی بیویوں کا گوشت کھا گیا کیونکہ میں خود پر قابو نہیں رکھ پایا مگر امید ہے کہ اللہ اسے معاف کر دے گا۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں لیکن میری تمام بیویاں نیک مسلمان تھیں اس لئے مجھے یقین ہے کہ ان کا گوشت بھی حلال تھا۔

مگر ٹھہرئیے ، اوپر آپ نے جو کچھ بھی پڑھا اس پر یقین کرنا مشکل ہے لیکن جس طرح یہ ساری رپورٹ بیان کی گئی اسے دیکھ کر حقیقت کا گمان ہونے لگتا ہے اور ہم نے بھی کچھ ایسا ہی سوچا مگر یہ جان کر آپ کو افسوس بھی ہو گا اور شدید غصہ بھی آئے گا کہ یہ خبر بالکل جعلی ہے جو ایک اسرائیلی ویب سائٹ نے بنائی اور پھر اسے وائرل کر دیا اور لوگوں نے بھی بغیر تصدیق اس خبر کو آگے پھیلانا شروع کر دیا۔

حقیقت تو یہ ہے کہ جس شخص کی تصویر پھیلائی جا رہی ہے وہ سعودی عرب کا باشندہ ہی ہے مگر اس کا نام مصطفی علی حماد نہیں بلکہ خالد محسن ہے اور وہ انسانی گوشت کھانے والا شخص نہیں بلکہ شدید حد تک موٹاپے کا شکار ہے اور سعودی عرب میں موٹاپے کی وباءکا شکار لوگوں کیلئے ایک مثال بن چکا ہے۔ ذیل میں اس کی تصویر اور اصل خبر کا سکرین شاٹ ملاحظہ فرمائیں۔

خالد نے علاج کے بعد اپنے وزن پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے اور اب وہ ایک نارمل زندگی جینے میں مصروف ہے تاہم قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی خبر کو بغیر تحقیق و تصدیق پھیلانے سے اجتناب کریں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں