شریف خاندان کی سزا معطلی کا فیصلہ کیوں نہ کالعدم کردیں: چیف جسٹس

سپریم کورٹ کا شریف خاندان کی سزا معطلی کے خلاف نیب کی اپیل پر فریقین کو تحریری معروضات دینے کا حکم،کیا اثاثے درختوں پر اگائے گئے تھے یا من و سلویٰ اترا؟پاناما اسکینڈل کو ٹرائل کورٹ میں جانا ہی نہیں چاہئیے تھا،کیا ضمانت دینے کا فیصلہ ایسا ہوتا ہے؟چیف جسٹس کے شریف خاندان کی سزا معطلی کے خلاف کیس کی سماعت میں ریمارکس

اسلام آباد (ویب ڈیسک) : سپریم کورٹ میں شریف خاندان کی سزا معطلی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔نیب پراسیکوٹر اکرم قریشی نے دلائل دئیے ہوئے کہا کہ نیب قانون کے تحت ہارڈ شپ کیسز یعنی شدید علیل اور جان لیوا بیماری میں مبتلا ملزم کی سز ہی معطل ہو سکتی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اب باتوں کو مدِ نظر نہیں رکھا۔چف جسٹس نے خواجہ حارث کو دلائل دینے کی ہدایت کی۔خواجہ حارث نے کہا کہ آپ کو آرام کرنا چاہئیے تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ڈاکٹرز کمرہ عدالت کے باہر موجود ہیں۔ ڈاکٹرز نے مجھے کام کرنے سے روکا ہے اور آرام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ لیکن عدالتی ذمہ داریوں سے کیسے بری ہو سکتا ہوں؟۔
اہم ترین معاملہ ہونے کے باعث سماعت کر رہا ہوں۔

یہ کسی ایک شخص کا کیس نہیں ہے۔اصل معاملہ عدالتی فیصلے سے وضع کا اصول ہے۔ اور کہا کہ ہائیکورٹ نے نے میرٹ اور شواہد پر فیصلہ دیا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا،اس لیے آج آنا مناسب سمجھا،مقدمے کی سمت کا تعین ہو جائے تو مزید مقدمہ اگلی سماعت تک موخر کر دیں۔خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اثاثے درست طریقے سے بنائے یا نہ ہونے سے متعلق یہ مقدمہ مکمل تحقیقات کا تقاضہ کرتا ہے کیونکہ اثاثے نواز شریف کے بڑے بیٹے کی ملکیت ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا یہ بات ثابت کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔کیا من و سلویٰ اترا تھا،اثاثے ہوا میں نہیں آئے ہوں گے ،کیا ہوا میں اثاثے بن گئے؟۔وکیل صفائی نے کہا کہ اس سلسلے میں آپ کو قانون بتاؤں گا،جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے واضح کیا کہ قانون وہ ہے جو ہم ڈکلئیر کریں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ پاناما اسکینڈل کو ٹرائل کورٹ میں جانا ہی نہیں چاہئیے تھا۔
سپریم کورٹ کو خود دستاویزات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنا چاہئیے تھا۔سپریم کورٹ نے مقدمہ ٹرائل کورٹ بھیج کر مہربانی کی،چار مرتبہ موقف تبدیل کیا گیا ،پہلے قطری اور پھر بعد میں دوسرا مقوف اختیار کیا۔چیف جسٹس نے ہائیکورٹ کے فیصلے پر ریمارکس دئیے کہ ہائی کورٹ نے مقدمے کے تمام حقائق پر بات کی،کیا ہائیکورٹ نے ضمانت کی درخواست پر حتمی فیصلہ دیا؟کیا ضمانت دینے کا فیصلہ ایسے ہوتا ہے؟ ہائیکورٹ کے فیصلےکی آخری سطر دیکھیں،ہائیکورٹ نے کس طرح سے الفاظ استعمال کیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بظاہر ماضی کے فیصلوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔بظاہر ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔کیا ایسی کوئی مثال ہے جس میں نیب کورٹ کے فیصلے کے نقائص بیان کیے گئے ہوں۔جس پر وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ آپ نے سوال کیا تو مجھے جواب دینے کی اجازت دیں،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اپنے نکات اور معروضات ہمیں لکھ کر دیں۔آپ کو دلائل کے لیے صرف ایکی دن ملے گا۔شریف خاندان کی سزا کے خلاف نیب کی اپیل کی سماعت 12 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔

تبصرے
Loading...