روسی شہریوں کی نفرت کی انتہا، اسٹالن کے نام سے کھلنے والا نیا ریستوران بند کرا دیا

0

روس میں سویت یونین دور کے کمیونسٹ رہنما جوزف اسٹالن کے خلاف شہریوں کی نفرت انتہا کو پہنچ گئی، اسٹالن کے نام سے کھلنے والا نیا ریستوران بند کرا دیا گیا۔

روسی دارالحکومت ماسکو میں جوزف اسٹالن برانڈ ریستوران کھلنے کے ایک ہی دن بعد ہوگیا، ریستوران کے دروازے پر اسٹالن کی بہت بڑی تصویر بھی نصب تھی۔ حکومتی تنبیہ اور شہریوں کی نفرت کو مدنظر رکھتے ہوئے مالک نے اپنا کاروبار بند کردیا۔

یہ ایک شوراما ریستوران کے ساتھ ایک کیفے بھی تھا لیکن اس کی جوزف اسٹالن کے نام سے تشہری کی جارہی تھی جس پر عوام نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ اسٹالن برانڈ ریستوران میں کام کرنے والے ایک ملازم کی جرسی سویت دور کے سیکیورٹی اہلکاروں جیسی تھی جبکہ کھانوں کے نام بھی کمیونسٹ رہنماؤں سے منسوب تھے۔

اسٹانسلاو وولٹ نامی مالک کا کہنا ہے کہ کاروبار کے آغاز والے دن ہی دو سو سے زائد لوگ کھانا کھانے آئے، لیکن بہت سے شہریوں کو نام اور جوزف اسٹالن کی تصویر پر اعتراض تھا۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس اور حکومت کی جانب سے دباؤ کے بعد میں نے اپنا ریستوران مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا حالانکہ قانونی طور پر کوئی جواز بھی نہیں تھا، اس کے علاوہ مجھے سوشل میڈیا پر بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، میری سوچ اس کے برعکس شہرت حاصل کرنا تھی۔

سویت یونین کے دور میں اسٹالن کا اقتدار جبر اور قحط کی یادوں میں گھرا ہوا ہے، ان کا دور 1936 سے 1938 تک رہا، ان دو ڈھائی سالوں کے دوران 7 لاکھ شہریوں کی اموات بھی ہوئیں، البتہ بعض طبقہ اسٹالن کی حمایت کرتا ہے کیوں کہ انہوں نے دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی کو شکست دے کر سوویت یونین کی ریاستی بقا کو یقینی بنایا تھا۔

تبصرے
Loading...