کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے اب ویکسینز کا استعمال شروع

متعدد ممالک میں کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے اب ویکسینز کا استعمال شروع ہوچکا ہے، تاہم عالمی ادارہ صحت نے انتباہ کیا ہے کہ 2021 میں اس بیماری کے خلاف اجتماعی مدافعت کا حصول ممکن نہیں ہوسکے گا۔
دنیا بھر میں ممالک کی جانب سے ویکسینز کا استعمال اس توقع کے ساتھ کیا جارہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں زندگی ماضی کی طرح معمول پر آجائے گی۔
مگر عالمی ادارہ صحت کی چیف سائنسدان سومیا سوامی ناتھن نے خبردار کیا ہے کہ حالات 2019 کی طرح معمول پر آنے میں وقت لگے گا اور وائرس کی روک تھام کے لیے ویکسینز کی مناسب مقدار کی ضرورت ہوگی۔
جنیوا میں پریس بریفننگ کے دوران انہوں نے کہا ‘ 2021 میں ہم آبادی کی سطح پر بیماری کی روک تھام یا اجتماعی مدافعت کو کسی سطح پر حاصل نہیں کرسکیں گے’۔
انہوں نے کہا کہ مختلف اقدامات جیسے سماجی دوری، ہاتھوں کو دھونا اور فیس ماسک کو پہننا جاری رکھنا ہوگا۔
انہوں نے سائنسدانوں کی جانب سے ایک سال سے بھی کم وقت میں ایک بالکل نئے وائرس کے خلاف متعدد محفوظ اور موثر ویکسینز کی تیاری کو شاندار پیشرفت قرار دیا۔
تاہم انہوں نے زور دیا کہ ویکسینز کی فراہمی میں وقت درکار ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا ‘بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے یے وقت درکار ہوگا، کیونکہ ہم کروڑوں کی نہیں بکہ اربوں افراد کی بات کررہے ہیں، تو لوگوں کو کچھ صبر کرنا ہوگا’۔
سومیا سوامی ناتھن نے کہا کہ بتدریج ویکسینز سامنے آئیں گی اور تمام ممالک تک پہنچیں گی، تاہم اس وقت تک احتیاطی تدابیر کو بھولنا نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ویکسین کی دستیابی تک عوامی صحت اور سماجی اقدامات کو پر عملدرآمد جاری رکھنا ہوگا تاکہ 2021 کے آخر تک وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کی جاسکے۔
گزشتہ ماہ ایک انٹرویو میں سومیا سوامی ناتھن نے برطانیہ میں دریافت ہونے والی نئی قسم کے بارے میں بھی بات کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ غیرمعمولی ہے کیونکہ اس میں بہت زیادہ میوٹیشنز ہوئی ہیں اور اس وجہ سے وہ عام اقسام سے مختلف ہے۔
ان کا کہنا تھا ‘زیادہ فکرمندی کی بات یہ ہے کہ 8 میوٹیشنز اسپائیک پروٹین کے حصے میں ہوئیں’۔
اسپائیک پروٹین وائرس کا وہ حصہ ہے جو انسانی خلیات کی سطح پر موجود ریسیپٹرز ایس 2 کو جکر کر وائرس کو خلیات میں داخل ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
سومیا سوامی ناتھن نے کہا ‘یہی ممکنہ وجہ ہے کہ اس وائرس کی لوگوں کو بیمار کرنے کی صلاحیت بڑھ گئی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ زیادہ بہتر طریقے سے پھیل رہا ہے، ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ یہ بچوں کو بھی بہتر طریقے سے متاثر کررہا ہے، جن کے جسم میں ان ریسیپٹرز کی تعداد کم ہوتی ہے’۔
تاہم انہوں نے اس نکتے کی جانب توجہ دلائی کہ یہ نئی قسم بیماری کی شدت میں اضافے کا باعث بنتی نظر نہیں آتی۔
سومیا سوامی ناتھن نے کہا کہ ایسی کوئی وجہ نہیں جس سے یہ یقین کیا جاسکے کہ ویکسینز اس کے خلف کام نہیں کریں گی، کیونکہ ویکسینز سے وسیع مدافعتی ردعمل پیدا ہوتا ہے جو ممکنہ طور پر اس نئی قسم کے خلاف موثر ثابت ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ویکسینز میں کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت ہوئی تو ایسا آسانی سے ممکن ہوگا، تاہم اس وقت بیشتر افراد کی طرح ہمارا خیال بھی یہی ہے کہ موجودہ ویکسینز بھی اس کے خلاف کام کریں گی۔

تبصرے
Loading...