مواخذےکی کوشش عوام میں سخت ناراضی کاباعث بن رہی ہے، صدر ٹرمپ پھٹ پڑے

0

امریکی صدر ٹرمپ اپنے دوسرے ممکنہ مواخذے کے خلاف پھٹ پڑے۔صدر نے خبردار کیا ہے کہ اُن کے مواخذےکی کوشش عوام میں سخت ناراضی کاباعث بن رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے مواخذے کو انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے بلوائیوں کو اُکسانے کے بیان پر اظہار ندامت سے انکار کردیا۔

ٹرمپ نے اپنے بیان کو درست قرار دیا اور ٹیکساس میں خطاب میں کہا یہ وقت پرامن رہنے اور اپنے جذبات پر قابورکھنے کا ہے۔
ادھر امریکہ کے نائب صدر نے کہا میں نہیں سمجھتا کہ25ویں آئینی ترمیم امریکی آئین سےمطابقت رکھتی ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ 25ویں آئینی ترمیم سے مجھے بالکل خطرہ نہیں یہ بائیڈن کےخلاف استعمال ہوگی۔

خیال رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کہا تھا کہ ڈیموکریٹک پارٹی اسی ہفتے صدر کے مواخذے کی کارروائی کا آغاز کرنے کے لیے تیار ہے۔

اسپیکر کا کہنا تھا کہ اگر نائب صدر مائیک پینس ترمیم کی اطلاق کی درخواست پر راضی نہیں ہوتے تو ہم ایوان میں مواخذے سے متعلق قانون سازی کرنے کے لیے آگے بڑھیں گے۔

ڈیموکریٹک ارکان نے اشارہ دیا ہے کہ ایوان نمائندگان میں مواخذے کی کارروائی پر منگل یا بدھ کو ووٹنگ کرائی جا سکتی ہے۔

امریکہ میں صدرکو 25ویں آئینی ترمیم سے جسمانی اور دماغی بیماری کے بعد عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ اس کیلئے کابینہ کے اکثریت رہنماؤں کے علاوہ نائب صدر مائیک پینس کی حمایت درکار ہوگی۔ اس معاملے میں سب سے اہم کردار نائب صدر پنس کا ہوگا۔

تبصرے
Loading...