جب بھی ڈیل یا این آر او ہوا، تو دو جماعتوں کو فائدہ پہنچا: شہزاد اکبر

0

وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب اور وزیر داخلہ شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ پاکستان میں جب بھی کوئی ڈیل یا این آر او ہوا تو دو جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کو فائدہ پہنچا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ وزیر اعظم نے اپنی ٹوئٹس میں کہا کہ حالیہ وقتوں میں پاناما پیپرز اور اس کے نتیجے میں ہونے والی قانونی کارروائیوں نے پاکستان کی سیاسی اشرافیہ کو بے نقاب کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ براڈشیٹ کے مقدمے میں جو چیزیں سامنے آئیں اس میں بھی سیاسی اشرافیہ ہی بے نقاب ہوئی اور اس کا موضوع منی لانڈرنگ اور کرپشن تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس سیاسی اشرافیہ نے اپنا سیاسی اثرورسوخ کو این آر او یا ڈیل کی شکل میں اپنا دفاع کرنے کے لیے استعمال کیا اور اگر وہ پکڑے جائیں تو ایک بیانیہ گڑھ سیا جائے کہ انہیں سیاسی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ بنیادی طور پر یہ وہ سیاسی اشرافیہ ہے جس نے مل کر منی لانڈرنگ بھی کی، کرپشن بھی اور یہ سیاسی اشرافیہ لوٹے ہوئے پیسوں کو اپنی جان بچانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ براڈشیٹ کے حوالے سے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ وہ کن لوگوں کو اور ان کی کن چیزوں کی تفتیش کررہی تھی، 200 لوگوں کی فہرست میں کون لوگ ہیں؟، وہ فہرست عمران خان یا شہزاد اکبر نے تو کسی کو نہیں دی، وہ آج سے 20-21 سال پہلے اس معاہدے کے تحت بنائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا گزشتہ 23 سلا سے ایک ہی بیانیہ ہے کہ کرپشن کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور ہم بار بار کے ذریعے ایک ساسی اشرافیہ بن چکی ہے جو ان تمام چیزوں کو اپنے دفاع کے لیے استعمال کرتی ہے۔

وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ سیاسی اشرافیہ میں وہی لوگ ہیں جو اس 200 کی فہرست میں ہیں، آج جب اشرافیہ کی بات ہوئی تو سب سے پہلے مریم اورنگزیب نمودار ہوئیں، انہوں نے ادھر ادھر کی باتیں ماریں لیکن یہ واضح ہو گیا کہ یہ سیاسی اشرافیہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ باتیں روز روشن سے عیاں ہیں کہ 1999 کے بعد جب بھی کوئی ڈیل یا این آر او ہوا یا کسی کو تفتیش سے روکا گیا تو اس سے دو جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کو فائدہ پہنچا۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلی ڈیل انہوں نے خود پرویز مشرف کے ساتھ کی جس کے نتیجے میں یہ سرور پیلس چلے گئے، وہ قوم کو کیوں نہیں بتاتے کہ وہ کیا ڈیل تھی، اس کے تحت کیا کیا چیزیں معاف ہوئی اور کس طرح حدیبیہ پیپر ملز کے کیس پر سمجھوتہ کیا گیا جس میں قاضی فیملی کے نام پر پاکستان میں منی لانڈرنگ ہوئی تھی جس کی دوبارہ ٹرانسمیشن شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے نے اپنئے ٹی ٹی والے کیس میں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسرا این آر او 2007 میں وہا جسے قومی مفاہمتی آرڈیننس کہتے ہیں، اس این آر او سے فائدہ اٹھانے والے کون لوگ ہیں؟، اس کے بعد پہلے بے نظیر واپس آئیں اور اس کے بعد نواز شریف واپس آ گئے لیکن اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تو نہیں تھی، ہم تو اسٹیک ہولڈر نہیں تھے، آپ نے اپنا سیاسی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے اس وقت کے حکمران سے معاہدہ کیا اور بعد میں وہ حکمران ڈیل پر پچھتا بھی رہا تھا کیونکہ یہ باز نہیں آئے۔

انہوں نے کہا کہ اس سیاسی اسٹیٹس کو کو توڑنے کے لیے پاکستان کے عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دیا، وہ اقتدار میں یہ مینڈیٹ لے کر آئے کہ آپ کو پکڑ کر بے نقاب کرنا ہے اور خود بچانے کے لیے سیاسی اثرورسوخ استعمال نہیں کرنے دینا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ مشرف کی حکومت اور ہم میں واضح فرق یہ ہے کہ ماضی میں جو بھی وجہ تھی لیکن آپ نے اس حکومت کے ساتھ دو این آر او کیے، ایک سرور پیلس والا این آر او تھا، دوسرا 2007 والا این آر او تھا، ہمارے نزدیک آپ دونوں ایک ہی تھالے کے چٹے بٹے ہیں، پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں کوئی فرق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے زمانے میں پیپلز پارٹی کا کوئی نظریاتی اساس تھا، کوئی نظریاتی بنیاد تھی جو پچھلے 15 سالوں میں ختم ہو چکی ہے، اب بس لوٹ مار کا نظریہ ہے اور دونوں جماعتوں کا ایک ہی طریقہ واردات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج مریم اورنگزیب نے کہا کہ براڈشیت کے معاملے کو لے کر نقصان پہنچایا گیا، یہ کہہ کر خود کو پھر کر گئے، برڈشیٹ سے معاہدہ 2000 میں کیا گیا، پھر اس معاہدے کو منسوخ کیا گیا جس میں پاکستان تحریک انصاف کہیں بھی نہیں ہے اور کل کابینہ کی ایک کمیٹی بنائی گئی ہے تاکہ یہ پتہ چلایا جا سکے کہ اس سارے معاملے میں کس کی کوتاہی رہی ہے تاکہ ذمے داران کا تعین ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ انجم ڈار کی جانب سے رشوت دینے کی بات سامنے آئی تو نواز شریف کے صاحبزادے نے کہا کہ ہمارا فیملی ٹری دیکھ لیں، وہ ہمارا بھانجا/بھتیجا نہیں ہے لیکن وہ جرمنی میں مسلم لیگ(ن) ا صدر تو ہے ناں، نواز شریف کی انجم ڈار کے ساتھ کتنی تصاویر چاہئیں، کیا اس معاملے کی تحقیق نہیں ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ(ن) کا سوشل میڈیا ونگ پرسوں سے پراپیگنڈا کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ ہماری حکومت میں میرے ساتھ گئی کسی شخص نے اپنا ‘کٹ’ مانگنا تھا لیکن جس اخبار نے یہ خنبر شائع کی اس نے فوراً اپنی غلطی درست کرتے ہوئے اسے ٹھیک کردیا۔

مشیر احتساب نے کہا کہ میں مریم اورنگزیب یا ان کے بڑوں کو چیلنج کرتا ہوں، برطانیہ میں رشوت دینا ایک جرم ہے، میں آپ کو 72 گھنٹوں کا وقت دیتا ہوں، آپ لندن میں میٹرو پولیٹن پولیس کو ایک درخواست دیں کہ کاوے موسوی کو جس رشوت کی پیشکش کی گئی اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ 2018 میں جس نے کٹ مانگا ہے اس کی بھی تحقیق ہونی چاہیے اور لندن کی پولیس اس پر آپ کو اس پر واضح کردے گی، پھر لندن کی پولیس انجم ڈار سے بھی بات کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا مریم اورنگزیب کو کھلا چیلنج ہے، آپ اس کی تحقیق کرا لیں کیونکہ اگر آپ میں ہمت نہیں ہے تو میں یہ کرنے جا رہا ہوں، پھر آپ کو وہاں سے بھی بھاگنا پڑے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہ کہ جنہوں نے این آر دیا تھا وہ بھی کہیں دبئی وغیرہ میں باہر بیٹھے ہیں، سارے ہی باہر ہیں، خود ان کے دو دور گزرے ہیں، اس میں انہوں ان کے ساتھ کیا کیا؟۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے براڈشیٹ کے کیس کو اچھالا، پہلے نواز شریف نے ٹوئت کیا، پھر مریم نے ٹوئٹ کیا اور پھر بیان بھی دیا، یہ خود اس چیز کو لے کر آئے، اصل چیز یہ ہے کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بھی یہ جس چیز کو بیانیہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں وہ الٹاان کے گلے پڑ جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اپنے پول کے ذریعے عمران خان کو دنیا کا سب سے بڑا کرکٹر قرار دیتی ہے اور دوسری جانب کاوے موسوی سے پوچھا گیا کہ شریف خاندان آپ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ کرے گا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہتک عزت اس کی ہوتی ہے جس کی کوئی عزت ہوتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ اگر نیب کو مریم نواز دوبارہ تفتیش کے لیے درکار ہیں، تو ان کی ضمانت منسوخ کرانے کے لیے جا سکتے ہیں، اگر کوئی نیا مقدمہ ہے تو اس کے لیے بھی ان کے پاس آپشن موجود ہے، مریم نواز کو این آر او نہیں دیا گیا، ان کی اس حوالے سے شدید خواہش ہے لیکن این آر او دینے والا کوئی بچا نہیں ہے۔

تبصرے
Loading...