میرے والد نے آخری دن تک فوج کی خدمت کی ،خود کشی کرنیوالے بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر کی بیٹی نے آرمی چیف سے بڑا مطالبہ کردیا

اسلام آباد (آن لائن)ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ نیب کے خلاف میری جدوجہد جاری رہے گی ،نیب سے متاثرہ افراد سے ملنے کیلئے پورے پاکستان جائوں گا ، میری تحریک استحقاق آج بھی موجود ہے، اگر کوئی سمجھتا ہے تحریک استحقاق واپس ہوگا تویہ غلط فہمی ہوگی۔ہفتہ کے روز ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے مرحوم بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر کے گھر آمد اوراہلخانہ سے اظہار تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں برگیڈئیر اسد منیر کے گھر تعزیت کے لیے آیا ہوں ،مرحوم بریگیڈئر اسد منیر نے نیب کیسز

کی وجہ سے خودکشی کی،مرحوم بریگیڈئر کی اہلیہ نے بتایا کہ نیب نے ان کو کس طرح ٹارچر کیا، نیب نے نوٹسز بھیج بھیج کر پانچ سال ٹارچر کیا گیا، ایک مرتبہ انہوں نے پہلے بھی خودکشی کی کوشش کی لیکن بیگم نے بچا لیا، یہ معاملہ ہم ہیومن رائٹس کمیشن لے کر جائیں گے، سینیٹ میں بھی یہ معاملہ اٹھاؤں گا، میرے خیال میں خودکشی کی وجہ نیب کا ٹارچر تھا،نیب مجھے روک نہیں سکتا اور میری جدوجہد جاری رہے گی، میں پورے پاکستان جاؤں گا نیب سے متاثرہ افراد سے ملوں گا،نیب اس وقت تھانے سے بھی برا ادارہ بن گیا ہے، چاہتا ہوں یہ تمام چیزیں عدالت کے سامنے رکھی جائیں،پلاٹس کے حوالے سے کہوں گا کوئی حکومت کا پلاٹ نہیں ہے۔یہ تعلق بنتا ہے تو ایف بی آر کا بنتا ہے اور یہ پلاٹس 1960 کے ہیں، چیئرمین نیب کو خارجہ کمیٹی بھی طلب کر چکی ہے، یہ آئیں گے چیرمین نیب اور افسران اور اپنا احتساب دیں گے ،انہوں نے کہا کہ کل میں اکاؤنٹ جنرل خرم ہمایوں کے گھر بھی جاؤں گا، برگیڈئیر صاحب کے حوالےسے آرمی چیف کو نوٹس لینا چاہئیے، کل کسی بھی ریٹائرڈ فوجی کے کے کچھ بھی ہوسکتا ہے، میری تحریک استحقاق آج بھی موجود ہے، اگر کوئی سمجھتا ہے تحریک استحقاق واپس ہوگا تو یہ غلط فہمی ہوگی، حالات ایسے بن گئے ہیں کہ میں مختلف اسٹیپس لوں گا۔اس موقع پر مرحوم بریگیڈیئراسد منیرمینا کی بیٹی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے ساتھ کھڑی ہوں، ہیومین رائٹس کمیٹی نے اگر مجھے بلایا تو جاؤں گی، والد نے ایک ہی دن دو مرتبہ خود کشی کی کوشش کی، آرمی چیف جنرل جاوید باجوہ سے درخواست کرتی ہوں کہ میرے والد نے آخری دن تک فوج کی خدمت کی ہے ، معاملے کا نوٹس لیں اور انسانی حقوق کا تحفظ بھی کروائیں۔

تبصرے
Loading...