فارن فنڈنگ کیس کا مرکزی ملزم عمران خان ہے: مولانا فضل الرحمٰن

0

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج میں عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس کا مرکزی ملزم عمران خان ہے اور مدر آف این آر او لے کر پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرلیا۔

اسلام آباد میں پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد مریم نواز اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اتحاد کی اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا اور الیکشن کمیشن کے سامنے مظاہرے کی حکمت عملی کے حوالے سے غور و خوض ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ طے ہوا ہے کہ کل پی ڈی ایم کی قیادت الیکشن کمیشن کے سامنے فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے بھرپور احتجاج کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا اسکینڈل ہے، جس کا مرکزی ملزم عمران احمد نیازی ہے، پوری دنیا سے کروڑوں روپے غیرقانونی طور پر پارٹی کے نام پر اکٹھے کیے اورہنڈی اور دیگر ذرائع سے ملک میں منگوا کر سیاسی انتشار اور الیکشن میں دھاندلی کے لیے استعمال کیا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 6 برسوں سے یہ کیس زیرالتوا ہے، عمران خان نے مدر آف این آر او لے کر پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کیا اور چندوں کے نام پر حاصل کیے جانے والے فنڈز کو غیر قانونی طور پر خفیہ اکاؤئنٹس کے ذریعے ذاتی کاروبار اور انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کیا جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرنے جائیں گے کہ جس جرم کا اعتراف ہوچکا ہے اس کو فوراً فیصلہ سنائے، مزید تاخیر سے شکوک و شبہات پیدا ہورہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قوم کو اس تذبذب سے نکالنے کے لیے اس پارٹی اور اس کی قیادت کے خلاف فیصلے میں تاخیر کیوں کی جارہی ہے۔

صدر پی ڈی ایم نے کہا کہ کبھی تو ایک منتخب وزیراعظم کے خلاف 6 مہینے کے اندر اندر فیصلے دے جائیں اور آج سلیکٹڈ وزیراعظم کے خلاف کیس زیرالتوا پڑا ہوا ہے، یہ کہاں کا انصاف ہے۔

جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ میں تمام محب وطن پاکستانیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ قومی سلامتی کی حفاظت کے لیے اور ملک دشمن لابیوں سے فنڈز حاصل کرنے والوں کے خلاف احتجاج میں شامل ہوں، تمام نوجوانوں، خواتین، سیاسی کارکن اس احتجاج میں شریک ہوں اور پاکستان دشمن فنڈنگ کی مذمت کرنے کے لیے اپنا قومی فریضہ انجام دیں۔

انہوں نے کہا کہ آج کے اجلاس میں ملک بھر میں احتجاجی ریلیوں اورمظاہروں کے شیڈول کو حتمی شکل دی گئی ہے، 21 جنوری کو کراچی میں اسرائیل نامنظور ملین مارچ میں پی ڈی ایم کی قیادت شرکت کرے گی، 5 فروری کو جہاں پورے ملک میں کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کا دن منایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی لیاقت باغ میں ایک بڑے بڑا جلسہ کیا جائے گا، جس میں کشمیر کی سیاسی جماعتوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے اور پی ڈی ایم کی جماعتیں بھی شرکت کریں گی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس سال 5 فروری ماضی کی نسبت مختلف ہوگا، کشمیر بیچا گیا، کشمیر فروشی کے خلاف عوام کے غیض و غضب، ان کی ناراضی اور کشمیر کیس کا سودا کرنے کے حوالے سے بھرپور احتجاج اس میں شامل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ 9 فروری کو حیدر آباد میں پی ڈی ایم کا بڑا جلسہ، ریلی ہوگی، 13 فروری کو سیالکوٹ، 16 فروری کو پشین بلوچستان، 23 فروری کو سرگودھا اور27 فروری کو خضدار میں بہت بڑا اجتماع اور بڑی ریلی منعقد کی جائے گی اور اس کے بعد اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا فیصلہ کیا جائے گا اور پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں حتمی تاریخ کا فیصلہ کیا جائے گا۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں، ہماری اصطلاحات آئین و قانون کے تابع ہیں، ہمارے اقدامات بالکل آئین و قانون کے دائرے میں ہوتے ہیں اور ہم ملک میں جمہوریت کی بحالی کی بات کرتے ہیں تو اس کے معنی یہی ہیں کہ یہی آئین اور ملکی قانون کا تقاضا ہے اور اسی کے لیے ہم اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔

صدر پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ ہم بعض دفعہ فیصلوں میں آئینی مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے وکلا سے مشورہ لیتے ہیں اور تمام جماعتوں کے وکلا ایک رائے بناتے ہیں جس کی وجہ سے بعض فیصلے تبدیل کرنے پڑتے ہیں اور ہم صحیح طور اور باہمی اعتماد سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم پی ڈی ایم کی طرف سے ایک یاد داشت الیکشن کمیشن کو دیں گے اور مختلف اطراف سے ریلیاں کشمیر چوک میں پہنچیں گی اورقیادت جلسہ گاہ میں شریک ہوگی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر اس طرح کے کیس کو لٹکائے اورجانب داری کا مظاہرہ کرے، اس کو غیر جانب دار ہو کر فیصلہ کرنا چاہیے، شواہد مکمل طور پر ان کے سامنے آگئے ہیں اور اس پر اب لیت و لعل کی گنجائش باقی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی رہنما کی شرکت کو لازمی قرار نہیں دیا گیا ہے اس لیے کسی عدم شرکت پر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

تبصرے
Loading...