جُڑواں بچے کیوں پیدا ہوتے ہیں؟ چند ایسے راز جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

اولاد قدرت کی عظیم نعمت ہے اور جڑواں اولاد تو خصوصی طور پر منفرد قسم کے تجربے اور خوشی کی وجہ بنتی ہے، زیادہ تر شادی شدہ جوڑے جُڑواں بشوں کی پیدائش کے خواہشمند ہوتے ہیں، تاہم جڑواں بچوں کی پیدائش کے حوالے سے لوگوں کے درمیان بہت زيادہ شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

اور لوگوں کے ذہن میں کچھ اس طرح کے سوالات اُٹھتے ہیں کہ کسی بھی ماں باپ کے گھر میں جڑواں بچوں کی پیدائش کیوں ہوتی ہے؟ اور جڑواں ہونے کے کتنے امکانات ہیں؟

جُڑواں بچوں کی پیدائش کے بارے میں جدید سائنس نے تحقیقات کے بعد کچھ باتیں بتائی ہیں جن کے بارے میں جاننا ہر شادی شدہ جوڑے کے لیے ضروری ہے-

تو آج ہم آپ کو چند ایسی اہم وجوہات بتائیں گے جس کی وجہ سے جُڑواں بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔

وجوہات:
• باڈی ماس انڈیکس کا زیادہ ہونا
حال ہی میں برطانیہ، فرانس نائجیریا اور ڈنمارک کے تحقیقاتی اداروں کی جانب سے کی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جن خواتین کا بی ایم آئی (باڈی ماس انڈیکس) 30 یا اس سے زائد ہو تو ان کے گھر جڑواں بچے پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، واضح رہے کہ باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) سے آپ کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ آ پ کے قد کے حساب سے آپ کا وزن کم ہے؟ سہی ہے؟ زیادہ ہے؟ یا بہت زیادہ ہے؟ ۔

• فیملی ہسٹری
اگر ماں باپ میں سے کسی کی فیملی ہسٹری میں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی ہو تو اگلی نسل میں بھی جڑواں بچوں کی پیدائش کے امکانات میں ساٹھ فیصد تک اضافہ ہو جاتا ہے، تاہم ممکن ہے کہ اگر ماں کے خاندان میں جڑواں بچوں کی ہسٹری ہو تو امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے جبکہ باپ کے خاندان کی ہسٹری میں جڑواں بچوں کی پیدائش کے امکانات کم ہوتے ہیں-

• عمر رسیدگی
سائنس کہتی ہے کہ اگر ماں کی عمر تیس سال سے زيادہ ہو تو اس کے حمل ٹہرنے کی صورت میں بھی جڑواں بچوں کی پیدائش کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ تیس سال سے زیادہ عمر کی عورت میں ایک سے زیادہ انڈے خارج ہوتے ہیں۔

• قد اور وزن

عام طور پر لمبے قد اور صحت مند جسامت والی عورت کے جڑواں بچوں کے پیدا کرنے کے امکانات چھوٹے قد اور کمزور جسامت والی عورت کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں، یعنی وہ عورتیں جن کا وزن اور قد کم ہو ان میں جڑواں بچوں کی پیدائش کے زیادہ امکان ہوتے ہیں، یہ وجہ تھوڑی عجیب ہے تاہم اس وجہ کے بارے میں سائنسی ماہرین حتمی طور پر کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں۔

تو یہ تھیں چند اہم وجوہات جن کی وجہ سے جُڑواں بچوں کی پیدائش ہوتی ہے تاہم کہا جاتا ہے کہ افریقی نژاد امریکیوں میں جڑواں بچوں کی شرح پیدائش زیادہ ہے جبکہ ایشیائی خواتین میں یہ شرح سب سے کم ہے۔

اگر آپ بھی اس کی کوئی وجوہات جانتے ہیں اور لوگوں کو اس کے حوالے سے معلومات فراہم کرنا چاہتے ہیں تو ابھی ہماری ویب کے فیس بُک پیج پر جائیں اور کمنٹ سیکشن میں کمنٹ کر کے اپنی رائے کا اظہار کریں۔

تبصرے
Loading...