- Advertisement -

عمران خان وہ شخص ہے جو ملک میں افراتفری، خانہ جنگی چاہتا ہے: وفاقی وزیر اطلاعات

- Advertisement -

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان موصوف بارودی سرنگیں بچھا کر پوری تیاری کرکے گئے تھے کہ ملک دیوالیہ ہو جائے اور سری لنکا بن جائے، یہ وہ شخص ہے جو ملک میں افراتفری، خانہ جنگی چاہتا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان موصوف بارودی سرنگیں بچھا کر پوری تیاری کرکے گئے تھے کہ ملک دیوالیہ ہو جائے اور سری لنکا بن جائے، یہ وہ شخص ہے جو ملک میں افراتفری، خانہ جنگی چاہتا ہے، ہٹلر کی ذہنی سوچ کا حامل ہے کہ جن 20 نشستوں پر الیکشن تھا موصوف چاہتے تھے کہ میں بیس کی بیس جیتوں اور اگر بیس نہیں جیتوں گا تو الیکشن کمیشن کو آگ لگا دوں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ 3 اپریل کو جب یہ شخص آئین کو توڑ رہا تھا تو صدر، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے آئینی عہدے سے آئین شکنی کرائی، ایک شخص اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے آئین پر حملہ آور تھا، وہی شخص امپورٹڈ حکومت، بیرونی سازش کا پرچہ لے کر آیا جو اس کے مطابق 7 مارچ کو مل گیا تھا جب یہ پاگل شخص ملک کا وزیر اعظم تھا۔
انہوں نے سوال کیا کہ جب 7 مارچ کو سائفر ملا تو اس دن جوڈیشل کمیشن کیوں نہیں بنایا، اسی دن قوم کو بیرونی سازش کا کیوں نہیں بتایا، اسی دن اسمبلی تحلیل کر کے الیکشن میں کیوں نہیں گئے؟
مریم اونگزیب نے کہا کہ یہ شخص اب ہر تقریر میں افواج پاکستان ہو یا ریاستی ادارے ہوں، ہر تقریر میں ان پر منظم طریقے سے حملہ کرتا ہے، ان کو کہتا ہے کہ میری حکومت کیوں نہیں بچائی، وہ حکومت جو پاکستان کے عوام نے تم سے چھینی ہے، یہ وہ اقتدار تھا جس نے پاکستان کے عوام کو غریب، بے روزگار اور مفلوج کیا، ملکی معیشت کو تباہ کیا، ملک کی داخلہ اور خارجہ پالیسی کو تباہ کیا، اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو جاوید اقبال بنانا چاہتا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کا فیصلہ دینا ہے، جس ممنوعہ فنڈنگ کو غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر اپنے ملازمین کے ذریعے اپنے پارٹی عہدیداروں کے اکاؤنٹس میں پیسے منگوا کر اربوں کی منی لانڈرنگ کی اور آج جو ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے وہ اسی منی لانڈرنگ سے پہنچ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ شخص الیکشن کمیشن پر اس لیے حملہ آور ہے کہ یہ چیف الیکشن کمشنر سے کہتا تھا کہ مجھے چور دروازے سے ملو جیسے ایف آئی اے کے ڈی جی کو ملنے کی کوشش کی، جیسے جاوید اقبال کو ملتا تھا اور اب یہ اسی الیکشن کمشنر پر حملہ آور ہیں جس کا تقرر انہوں نے خود کیا تھا، ہر ضمنی الیکشن میں ہار ہوئی لیکن ایک بھی درخواست لے کر الیکشن کمیشن کے دفتر نہیں گئے، دھاندلی کا الزام نہیں لگا سکے، آج اگر ادارہ تمہاری بات نہیں سنتا، الیکشن کمشنر اگر چور دروازے سے ملتا نہیں ہے تو تم الیکشن کمیشن پر حملہ آور ہوتے ہو۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ ان کے خلاف فیصلہ سنائے تو یہ کہتا ہے کہ سپریم کورٹ پر حملہ آور ہو جاؤ، آج یہ الیکشن کمشنر کا استعفیٰ مانگ رہا ہے، کل کہے گا کہ چیف جسٹس استعفیٰ دیں، جو سیاسی مخالف اس کے خلاف بات کرے اسے سزائے موت کی چکی میں ڈال دو، جو ادارہ اس کے خلاف بات کرے اس ادارے کا سربراہ استعفیٰ دے، جو میڈیا اس کو آئینہ دکھائے ان کی زبانیں بند کردو، سینسرشپ کرو، پارلیمان سوال کرے تو پارلیمان کو تالا لگاؤ، یہ ہٹلر مائنڈسیٹ کا شخص ہے جو ملک میں خانہ جنگی اور افراتفری چاہتا ہے اور ملک کے ہر ادارے تباہ کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ملک میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے معاشی عدم استحکام کی طرف اشاریے جارہے ہیں اور یہ سب صرف عمران خان کی وجہ سے ہے، اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر معاشی تباہی کی، معاشی بارودی سرنگیں بچھائیں، ملک کو بھوکا کیا، کارٹیلز اور مافیا کی حکومت کو مسلط کیا، اداروں کو مفلوج اور کمزور کیا، انہیں استعمال کر کے سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنایا اور آج جب اقتدار میں نہیں ہیں تو اداروں کو گالی دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو جتنا کھلا چھوڑیں گے، یہ اتنا اداروں پر حملہ آور ہوگا، اداروں کو چاہیے کہ بالکل قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی کریں، یہ ممنوعہ فنڈنگ کا کیس 8 سال تاخیر کا شکار کیوں ہوا، کیوں فیصلہ نہیں آیا، اسٹیٹ بینک کا ریکارڈ آج بھی وہی ہے جو 8 سال پہلے جمع کرایا گیا تھا، یہ سمجھتا ہے کہ یہ ہر قانون اور آئین سے بالاتر ہے، مغربی جمہوریت کی مثالیں دیتا ہے لیکن جب تمہارے پاس اختیار تھا تو تم نے الیکشن چوری کیا کیونکہ آر ٹی ایس کی پیداوار تھے، تمہارے پاس اقتدار تھا تو تم نے آئین توڑا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ تو یہ بات سمجھنی پڑے گی کہ نہ الیکشن کمشنر سکندر سلطان، جاوید اقبال بنے گا، تمہارا ممنوعہ فنڈنگ کا فیصلہ آئے گا، تم آئین شکن ہو جس کا فیصلہ سپریم کورٹ دے چکی ہے، آپ نے اپنے عہدے کا استعمال کر کے صدر، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے ذریعے ملک کا آئین توڑا۔