- Advertisement -

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 100 انڈیکس 900 سے زائد پوائنٹس گر گیا

- Advertisement -

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز بھی شدید مندی رہی اور کے ایس ای 100 انڈیکس 900 سے زائد پوائنٹس گر گیا۔
اسٹاک مارکیٹ بھی روپے کی قدر میں تنزلی کی طرح مندی کا شکار ہے جہاں ڈالر مسلسل دوسرے روز بلندترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی ویب سائٹ کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس آغاز 41 ہزار 376.11 پوائنٹس پر ہوا تھا، جس میں ابتدائی طور پر 176 پوانئنٹس کا اضافہ ہوا۔
تاہم صبح ساڑھے دس بجے کے بعد مارکیٹ میں کمی واقع ہوئی، تقریباَ سہ پہر 3 بج کر 25 منٹ پر انڈیکس 40 ہزار 313.78 پوائنٹس پر پہنچا جس میں ایک ہزار 54.33 پوائنٹس یا 2.55 فیصد کمی آئی۔
کے ایس ای 100 انڈیکس 978.04 پوائنٹس کمی کے ساتھ 40 ہزار 389.07 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ڈائریکٹر عارف حبیب کارپوریشن احسن محنتی کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں کمی کے اثرات مارکیٹ پر پڑ رہے ہیں، آج غیر ملکی سرمایہ کاروں کی توجہ بلو چپس اسٹاکس میں نظر آئی ہے جس کے اثرات مارکیٹ پر آئے ہیں اور آگے بھی دباؤ دکھائی دے رہا ہے۔
انہو نے کہا کہ ڈالر کی قیمت بڑھتی ہے تو افراط زر میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے اثرات مارک اپ ریٹ کو مزید بڑھا سکتے ہیں ایسے ماحول میں سرمایہ کار فکسیڈ انکم میں محفوظ سرمایہ کاری کی طرف جائیں گے یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ کا اوسط کاروباری حجم ایک ماہ سے کم ہو رہا ہے۔
احسن محنتی نے کہا کہ سیاسی غیر یقینی اور پنجاب میں نئی حکومت سازی بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر رہی ہے۔
انٹر مارکیٹ سکیورٹیز کے ریسرچ سربراہ رضا جعفری نے اسٹاک مارکیٹ میں ہونے والی مندی کو ’خوف ناک‘ قراد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کرنسی مارکیٹ سے ایکوئٹی کی طرف منتقلی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں آنے والی کمی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) پروگرام میں مشکلات پیدا کر رہی ہے اور شاید یہ سیاسی طور پر مشکل ثابت ہو۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا اور یہ پہلے سے ہی تشویش کے شکار سرمایہ کاروں کے لیے مشکل حالات ہیں۔
واضح رہے کہ ملک میں پہلے سے سیاسی غیر یقینی ہے اور پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اتحادی حکومت کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کو تاریخی شکست دینے کے بعد یہ غیریقنی مزید بڑھ گئی ہے اور اب پی ٹی آئی اس کامیابی کے بعد قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے۔