سعودی شرطوں نے ایک جملے پر فوکس کرکے تین دن میں متاثرہ فیملی کو کیسا انصاف دلایا ؟

لاہور(ویب ڈیسک ) بدقسمتی سے پاکستان ان بدنصیب ملکوں میں شامل ہے جہاں بچوںکے خلاف جرائم کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہاہے۔ 2017ء میں ہر روز 9 عدد وارداتیں رپورٹ ہوتی تھیں جن کی تعداد 2018ء میں روزانہ 12 تک پہنچ گئی۔ یہ وہ کیسز ہیں جو تھانوں تک پہنچ پائے۔۔۔۔۔۔

سینئر صحافی ریاض احمد سعید اپنے کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پردۂ اخفا میں رہنے والوں کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔ اس سے زیادہ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ ان کیسز میں سزا یاب ہونے والوں کی شرح خوفناک حد تک کم ہے۔ لوگ حیلے بہانے عدالتوں سے چھوٹ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے نام پر حاصل کی جانے والی ریاست میں ایسی ایسی داستانیں جنم لیتی ہیں کہ ڈوب مرنے کو جی چاہے۔ کوئی چار برس قبل قصور کے نواحی گائوں حسین خانوالہ میں 20/25 درندوں پر مشتمل ایک گینگ برسوں اپنی مذموم کارروائیوں میں مشغول رہا جہاں کچی عمر کے 300 کے لگ بھگ بچوں کو نہ صرف ہوس کا نشانہ بنایا‘ ان کے ہزاروں ویڈیو کلپس کو فحش سائٹس اور مارکیٹ میں فروخت بھی کیا اور پھر نہایت ڈھٹائی سے متاثرین اور ان کے پیاروں کو بلیک میل کرتے رہے۔ یوں پولیس اور بعض بااثر افراد کی سرپرستی میں یہ سلسلہ برسوں چلتا رہا۔ اس قسم کی حرکت کی مہذب ملک میں ہوتی تو قیامت آ جاتی۔ سیاسی جماعتیں اور حکومتیں اکھڑ جاتیں۔ مگر قربان جائیے مجرمانہ چشم پوشی کی ہماری دیرینہ روایت کہ کسی کا بال بھی بیکا نہ ہوا۔ اور پھر قصور میں ہی ایک اور بم شیل پھٹا۔ چھ سالہ زینب پر بیت جانے والی قیامت کی چیختی چنگھاڑتی کہانی ہفتوں دنیا بھر کے چینلز پر ہاٹ ٹاپک رہی۔ جس کے نتیجے میں انتظامیہ پر پریشر اس قدر بڑھا کہ مجرم کو نشان عبرت بنائے بغیرچارہ نہ رہا، اور وہ پھانسی چڑھ گیا۔

جناب وزیراعظم نے برسر اقتدار آنے کے بعد پہلی تقریر میں بچوں کے خلاف بہیمانہ جرائم کی بیخ کنی کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ چھ ماہ بیت چکے، مگر اس حوالے سے کوئی بھی اقدام منظر عام پر نہیںآیا۔ مسائل یقیناً اور بھی ہیں، مگر بچوں کے تحفظ کے حوالے سے مؤثرقانون سازی حکومت کی ترجیح ہونا چاہئے۔ معاشرے کی جانکاری اور حساسیت کو بڑھا وہ دینے کے علاوہ عدلیہ، انتظامیہ ، پولیس کے شعبہ میں ضروری اصلاحات از بس ضروری ہیں۔ بچوں ، اساتذہ اور والدین کی رہنمائی اور آگہی کے لئے چائلڈ پروٹیکشن سنٹر بنائے جائیں۔ یہ ذمہ داری ضلعی حکومت کو بھی سونپی جا سکتی ہے کہ سکولوں میں جا کر اساتذہ اور والدین کی ضروری تربیت کریں۔ تسلیم کہ بعض معاشرتی قدغنوں کے سبب اس موضوع پر مکمل کھل کر بات نہیں کی جا سکتی۔ جس کا مداوا کارٹونز اور اینیمٹڈ فلموں کے ذریعے کیاجا سکتا ہے۔ تمام سٹیک ہولڈرز پرواضح کیا جائے کہ یہ قبیح حرکت کوئی سوشل ٹیبو نہیں بلکہ دیگرجرائم کی طرح کا ایک جرم ہے۔ جس کے مرتکبین کو عبرتناک سزا ملے گی۔ اکثر اوقات پولیس ایسے مواقع پر متاثرہ فریق کواس درجہ خوف زدہ کر دیتی ہے کہ وہ سرے سے معاملہ کو دبانے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ قانون سازی کے ذریعے پولیس کے اس قسم کے منفی روئیے کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اسے عزت/ بے عزتی کا نام دینے کی بجائے ایک سنگین جرم کے طور پر لیا جائے۔

گھریلو ملازم بچوں کے جنسی جرائم کا نشانہ بننے کے امکانات اور بھی زیادہ ہیں اور وہ بیمار ہے تو اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے آواز بھی نہیں اٹھا سکتے۔ جس کے ازالہ کے لئے لاہورہائیکورٹ نے 15 برس سے کم عمر بچوں کو گھر میں ملازم رکھنے پر پابندی عائد کر دی اور حکومت پنجاب کو اس سلسلے میں قانون سازی کی ہدایت بھی کی ہے۔ ان جرائم کی ہینڈلنگ کے سلسلے میں مہذب معاشروں سے رہنمائی لی جا سکتی ہے۔ جہاں بچوں کے خلاف جنسی جرائم کو نہایت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور ان سے نمٹنے کے لئے اسٹینڈرڈ اوپریشنل پرویسیجرز SOPs موجود ہیں۔ پہلی بات یہ کہ زیادتی کا شکار ہونے والے بچے اور اس کے اہل خانہ کے کوائف کو بہرطور صیغہ راز میں رکھاجاتا ہے۔ پولیس اور دیگر متعلقہ ایجنسیاں برق رفتاری کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ مگر پردے کے پیچھے رہ کر کچی پکی خبریں کسی صورت باہر نہیں نکلتیں، پردہ تب اٹھتا ہے، جب سب فائنل ہو چکا ہوتا ہے اور مجرم کو گرفتار اور بعض صورتوں میں سزا یاب بھی ہو چکا ہوتا ہے۔ یو این کنونشن آن دی رائٹس آف چائلڈ نے بھی اس سلسلے میں رہنما اصول متعین کررکھے ہیں۔ مثلاً یہ کہ ایسی سٹوری کی رپورٹنگ کے سلسلے میں میڈیا کو ہر حال میں متاثرہ بچے کے حقوق و مفادات کو ترجیح دینا ہوگی اور واقعہ کو بچے کے حقوق کی شدید خلاف ورزی کے طورپر پیش کرنا ہوگا۔ سنسنی خیزی‘ بریکنگ نیوز اور غیر ضروری لوگوں کے انٹرویوز کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ خبر کا فالواپ پیشہ ورانہ انداز میں ہوگا اور جرم اور مجرم کو تو کسی طور بھی گلوریفائی نہیں کیا جائے گا۔

متاثرہ بچے کی کونسلنگ کیلئے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ متاثرہ بچے اور اس کے والدین کی شناخت ہرممکن طورپر پردۂ اخفا میں رکھی جائے گی۔ رہا ایسے مجرموں کی سزا کا معاملہ تو وہ اس قدر عبرتناک ہو کہ کوئی بھی شخص ایسی قبیح حرکت سے پہلے ہزار مرتبہ سوچے۔ ایسے مجرموں کیلئے دنیا بھر میں سزائے موت کی بات ہو رہی ہے۔ امریکہ کی بعض ریاستوں میں تو اس پر پہلے ہی عمل کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے ٹیکساس اوکلو ہاما‘ سائوتھ کیرولینا‘ مونٹانا‘ لوزیانہ اور جارجیا والوں نے خصوصی قانون سازی کر رکھی ہے۔سعودیہ میں ریپ کے مجرموں کو بالالتزام موت کی سزا دی جاتی ہے اور ہر برس درجنوں بدنصیب اس غیرانسانی فعل کی وجہ سے گردن کٹوا بیٹھتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے سرکار کے ساتھ جڑے ایک پاکستانی کی ماں اور بیوی کے ساتھ بھی یہ سانحہ ہوا جنہیں دنیائے اسلام کے مقدس ترین شہروں کے درمیان سفر کے دوران اغوا کرکے بے آبرو کیا گیا تھا اور سعودی پولیس اور متعلقہ ایجنسیوں کی محنت شاقہ سے مجرم گھنٹوں میں گرفتار ہوئے تھے۔ جب شناخت وغیرہ ہو گئی تو متعلقہ حکام نے متاثرہ خاندان سے صرف اس قدر پوچھا تھا کہ سانحہ کے وقت وہ مکہ کے قریب تھے یا مدینہ کے؟ جب یہ طے پا گیا کہ جرم مکہ کے قریب ہوا تو اگلے ہی جمعہ کو مقدس شہر کے ایک چوک میں مجرموں کی کٹی گردنیں دھول چاٹ رہی تھیں۔ برصغیر میں بھی ریپ کے مجرموں کو موت کی سزا کوئی نئی بات نہیں۔ حالیہ زینب کیس اور بعض دیگر کیسز میں مجرموں کی سزائے موت سے بہت پہلے ضیاء الحق کے زمانے میں ایسے مجرموں کو سرعام پھانسی دی گئی تھی اور برسوں امن رہا تھا۔ بھارت میں میڈیکل کی طالبہ سے زیادتی کرنے والوں کو سزائے موت بھی ابھی کل کی بات ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں