- Advertisement -

اس وقت ہماری ترجیح ملک کو ڈیفالٹ نہ ہونے دینا ہے، مفتاح اسماعیل

- Advertisement -

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ہم نے سخت فیصلے لیے جس کا ہمیں نقصان بھی ہوا ، ملک کیلئے ضروری ہوا تو آئندہ بھی سخت فیصلے لیں گے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پارٹی اگر ساتھ نہ کھڑی ہوتی تو کیا میں آج یہاں بیٹھا ہوتا یا قیمتوں میں اضافہ کرسکتا؟
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ’یقین دلاتا ہوں کہ بجلی پر فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کم لگیں گے ، پنجاب میں 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بل نہیں دینا پڑے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ہم ڈیفالٹ سے بچ گئے اور ملک کے دیوالیہ ہونے کا اب خدشہ نہیں ، ہم نے امپورٹ کو کافی حد تک کم کرلیا ہے، آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوچکا، ایک دوست ملک سے تیل کی خریداری میں سہولت ملنے لگی ہے، ایک دوست ملک سے اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ آرہا ہے، ہماری پوری کوشش ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کریں۔
وزیرخزانہ نے مزید کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ایکسپورٹ کو بڑھائیں ، مسئلہ اس وقت ڈالر کی طلب اور رسد کا نہیں، مسئلہ اس وقت عدم استحکام ، سٹے بازی اور قیاس آرائیوں کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4سال میں 20 ہزار ارب روپے کا قرض لیں گے اور مِس گورننس ہوگی تو خمیازہ تو بھگتنا ہوگا، اس وقت ہماری ترجیح ملک کو ڈیفالٹ نہ ہونے دینا ہے، حکومت تو آتی جاتی رہتی ہے ریاست پاکستان تو یہیں رہے گی۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ریکورڈک میں بھی سرمایہ کاری آرہی ہے ، شوکت ترین نے جہاں سے چھوڑا تھا وہاں سے میں نے آکر شروع کیا، عدم استحکام ہے لیکن ہماری معیشت کی بنیادیں چار ماہ سے بہتر ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاور سیکٹر کے اندر 1500 ارب روپے کا نقصان کیا گیا اس لیے ملک یہاں پہنچا، ہم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور جب موقع ملا تو کمی بھی کی، اگر ہماری حکومت چلتی رہے گی تو یہ پاکستان کیلئے اچھا ہوگا، اگر نگران حکومت بھی آتی ہے تو آئی ایم ایف کا نیا پروگرام نہیں کرنا اسی کو جاری رکھنا ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اگر ہم صحیح کام نہیں کرسکتے تو پھر عمران خان کو برا کہنے کا کیا حق ہے؟ قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک بہتر کام کر رہے ہیں ان کو آئی ایم ایف کے ساتھ کام کا اچھا تجربہ ہے۔
علاوہ ازیں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال آئی ایم ایف پاکستان کو 4 ارب ڈالر دے گا، سیاسی عدم استحکام روپےکی اچانک بےقدری کا سبب بنا، پنجاب میں الیکشن ہارنے کے باعث سیاسی عدم استحکام آیا۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی شرائط پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائیں،آئی ایم ایف کی شرائط مان لیں اب آئی ایم ایف راضی ہو گیا ہے، آئی ایم ایف کاوعدہ ہے پاکستان کو معاشی میدان میں گرنے نہیں دیا جائےگا، جلد ہی عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر مالیاتی ادارے بھی پاکستان کو فنڈز دیں گے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ بیرونی ادائیگیوں اور درآمدی بل بڑھنےکی وجہ سے پاکستانی کرنسی پر دباؤ ہے، رواں ماہ کےدوران ابھی تک درآمدی بل 2.60 ارب ڈالر ریکارڈ ہوا، درآمدی بل میں کمی کی صورت میں روپے پر پریشر کم ہوگا، گزشتہ ماہ کی نسبت کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 ارب ڈالرسےکم ہوکرایک ارب ڈالر رہ جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اگست میں ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد آئی ایم ایف سے رقم جاری ہو جائے گی، ملک پر قرضوں کے بوجھ کے باعث معاشی میدان میں مشکلات کا سامنا ہے، آئی ایم ایف کو سستا پیٹرول اور سستا ڈیزل اسکیم پر کوئی اعتراض نہیں۔