گرم پانی میں شہد اور لیموں کو ملا کر پینا صحت کیلئے کتنا فائدہ مند؟ جانیے تفصیل

0

شہد اور لیموں دونوں لگ بھگ ہر گھر میں موجود ہوتے ہیں جو غذاؤں اور مشروبات کا ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

مگر کیا پانی میں لیموں اور شہد کو ملا کر پینا فائدہ مند ہوتا ہے؟

درحقیقت ایسے دعوؤں کی کمی نہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ یہ مشروب چربی گھلانے، کیل مہاسوں سے نجات اور جسم سے زہریلے مواد کے اخراج میں مدد فراہم کرتا ہے۔

یہ دونوں ہی متعدد طبی فوائد کے حامل ہوتے ہیں تو کیا ان کا امتزاج واقعی صحت کے لیے مفید ہوتا ہے؟

شہد چینی کا قدرتی متبادل ہے اور صحت کو مختلف فوائد پہنچاتا ہے۔

اسی طرح لیموں کا استعمال بھی صحت کے فائدہ مند ہوتا ہے اور وٹامن سی سمیت متعدد نباتاتی مرکبات کی وجہ سے صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔

شہد کے سائنسی طور پر ثابت شدہ فوائد

شہد کا استعمال غذا اور دوا دونوں طریقوں سے ہوتا ہے اور دنیا کی قدیم ترین غذاؤں میں سے ایک ہے۔

خالص شہد سے خراشوں اور جلنے کے زخم جلد بھرنے میں مدد فراہم کرتا ہے اور جلدی امراض کے لیے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔

کھانسی کی روک تھام کے ساتھ ساتھ شہد ایک ایسے جراثیم کش محلول کا کام بھی سرانجام دیتا ہے جو گلے کی تکلیف میں فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

لیموں کے فوائد

لیموں کا استعمال گردوں کی پتھری سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، جبکہ امراض قلب کا خطرہ بھی کم کرتا ہے۔

لیموں اور شہد کو پانی میں ملا کر استعمال

شہد اور لیموں کے طبی فوائد تو ثابت شدہ ہیں اور ان دونوں کو پانی میں ملا کر جزوبدن بنانا بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی

زیادہ پانی پینا بشمول شہد اور لیموں ملا پانی، جسمانی وزن میں کمی میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

متعدد تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوتا ہے کہ پانی کا استعمال بڑھانا میٹابولزم کو تیز کرتا ہے، پیٹ بھرے ہونے کا احساس بڑھتا ہے، یہ دونوں ہی جسمانی وزن کم کرنے میں مددگار ہے۔

اس مشروب سے جسم میں پانی کی مناسب مقدار کو برقرار رکھنا بھی صحت مند جسمانی وزن مستحکم رکھنا ممکن بناسکتا ہے۔

اسی طرح کھانے سے قبل لیموں اور شہد کو پانی میں ملا کر پینا زیادہ کیلوریز کے استعمال سے روکتا ہے۔

بیماری پر قابو پانے میں مددگار

شہد کی سکون پہنچانے والی خصوصیات اور لیموں میں وٹامن سی کی زیادہ ممقدار ہونے کی وجہ سے اس مشروب کو پینا بیماری کے دوران صحتیاب ہونے کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔

وٹامن سی جسم کے مدافعتی نظام کو صھت مند رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے کیونکہ اس سے خون کے سفید خلیات کی پروڈکشن بڑھتی ہے جو بیماریوں کے خلاف لڑتا ہے۔

کچھ تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا ہے کہ وٹامن سی عام نزلہ زکام کا دورانیہ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

شہد بچوں میں کھانسی کی شدت کم کرتا ہے جبکہ بالائی نظام تنفس کی بیماریوں کی روک تھام بھی کرتا ہے۔

تو شہد اور لیموں کو گرم پانی میں ملا کر پینا گلے کی سوجن کو سکون پہنچانے کا ٹوٹکا چابت ہوسکتا ہے اور بیمار ہونے پر اس کا استعال فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

نظام ہاضمہ بہتر بنائے

پانی کی مناسب مقدار کا استعمال نظام ہاضمہ کو صحت مند رکھتا ہے، جبکہ پانی کی کمی قبض کا باعث بنتی ہے جو ایک بہت عام مسئلہ ہے۔

شہد اور لیموں کا یہ مشروب جسم کو ہائیڈریشن فراہم کرکے قبض سے ریلیف پہنچا سکتا ہے۔

تحقیقی رپورٹس سے عندیہ ملتا ہے کہ شہد کا استعمال معدے میں موجود صحت کے لیے مفید بیکٹریا پر مثبت اثچرات مرتب کرتا ہے جس سے نظام ہاضمہ صحت مند رہتا ہے۔

اس مشروب کے ایسے مقبول دعویٰ جو ثابت شدہ نہیں

زہریلے مواد کا اخراج : ایسے سائنسی شواہد موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ یہ مشروب جس سے زہریلے اخراج میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

کیل مہاسوں سے نجات : شہد کو براہ راست جلد پر لگانا اس مسئلے کے حوالے سے فائدہ مند ہوسکتا ہے، مگر ایسے شواہد موجود نہیں جن سے معلوم ہو کہ شہد اور لیموں کو پانی میں ملا کر پینا کیل مہاسوں کی روک تھام یا علاج میں مدد فراہم کرتا ہے۔

چربی گھلانا : یہ دعویٰ بہت مقبول ہے کہ اس مشروب کا استعمال چربی کو گھلاتا ہے، مگر یہ درست نہیں، تاہم اس سے جسمانی وزن میں کمی لائی جاسکتی ہے جس کی وضاحت اوپر کی جاچکی ہے۔

دماغی کارکردگی میں اضافہ : کچھ افراد دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ مشروب یاداشت کو بہتر یا دماغی افعال تیز کرتا ہے، تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی سائنسی شواہد سامنے نہیں آسکے ہیں۔

اس مشروب کو کیسے بنائیں اور کب استعمال کریں؟

اس کو بنانا بہت آسان ہے، یعنی آدھے لیموں کا عرق ایک اور چائے کا چمچ خالص شہد گرم پانی میں ملائیں۔

اس مشروب کو زیادہ تر افراد گرم حالت میں ہی پیتے ہیں مگر اسے ٹھنڈا کرکے بھی پیا جاسکتا ہے۔

اس مشروب کو کسی بھی دن پیا جاسکتا ہے، سونے سے قبل پینے سے جسم کو سکون ملتا ہے جس سے اچھی نیند کا حصول ممکن ہوسکتا ہے۔

چونکہ اس میں لیموں کا عرق ہوتا ہے تو اسے پینے کے بعد کلی ضرور کرلیں تاکہ ایسڈ سے دانوں کی سطح کو نقصان نہ پہنچ سکے۔

تبصرے
Loading...