حلقہ این اے75 کے انتخابی نتائج جاری کرنے سے متعلق فیصلہ آج متوقع

0

الیکشن کمیشن آف پاکستان آج سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے حلقہ این اے75 کے انتخابی نتائج جاری کرنے کے متعلق فیصلہ کرے گا۔

ضمنی انتخاب سے متعلق کیس سماعت کیلئے مقرر ہے اور چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن سماعت کرے گا۔ ڈسکہ میں نون لیگ کی امیدوار نوشین افتخار کو نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

این اے 75 ڈسکہ میں ن لیگ کی امیدوار نوشین افتخار اور پی ٹی آئی کے علی اسجد کے درمیان مقابلہ تھا۔

غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی سیدہ نوشین افتخار کو تحریک انصاف کے امیدوار علی اسجد خان پر برتری حاصل ہے اور حلقے کے 23 پولنگ اسٹیشنز کا نتیجہ آنا ابھی باقی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نون کی جانب سے مبینہ دھاندلی کے الزامات اور ’23 پریذائیڈنگ افسران کے کئی گھنٹوں تک ’غائب‘ رہنے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنے اعلامیے میں کہا تھا ہے کہ 20 پولنگ سٹیشنز کے نتائج پر شبہ ہے لہذا مکمل انکوائری کے بغیر غیر حتمی نیتجہ جاری کرنا ممکن نہیں ہے۔

ای سی پی کے مطابق پولنگ عملہ ‘لاپتہ’ ہونے کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ معاملے کی اطلاع ملتے ہی آئی جی پنجاب ،کمشنر گجرانوالہ اور ڈی سی گجرانوالہ سے رابطے کی کوشش کرتے رہے لیکن رابطہ نہ ہوا۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ چیف سیکریٹری پنجاب سے رات تین بجے رابطہ ہوا اور ان کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ گمشدہ افسران اور پولنگ بیگز کی تلاش کی جائے گی لیکن بعد میں ان سے دوبارہ رابطہ ممکن نہ ہو سکا اور کئی گھنٹوں کے بعد ‘تقریباً صبح چھ بجے پریزایئڈنگ افسران پولنگ بیگز کے ہمراہ حاضر ہوئے۔’

ای سی پی نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے کوتاہی برتنے پر اور پولنگ میٹریل میں ردوبدل کی صورت میں متعلقہ افسران کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے این اے75 میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کیا تھا۔

مریم نواز نے کہا کہ الزام لگایا تھا کہ پریذائیڈنگ آفیسرکواغوا کیا گیا اور20 پولنگ اسٹیشنز پر نتائج بدلے گئے۔ ن لیگی رہنما کے مطابق عطا تارڑ نے پریذائیڈنگ آفیسر کو ووٹوں کا تھیلا لے کر بھاگتے دیکھا۔

مریم نواز نے الزام لگایا کہ کہ سرکاری افسران ٹھپے لگا رہے تھے۔ تھیلے اٹھانے کے بعد انہوں نے الیکشن کمیشن کاعملہ ہی اٹھالیا۔

تبصرے
Loading...