’میں انہیں بڑے باپ کا بڑا بیٹا سمجھتا تھا لیکن یہ ایک چھوٹے انسان ہیں‘ اقرار الحسن نے جہاز میں سعید غنی سے ہونے والی ملاقات کا احوال سنادیا

اینکر پرسن اقرار الحسن کا کہنا ہے کہ جہاز میں دورانِ سفر وزیر تعلیم سندھ سعید غنی سے ہونے والی ملاقات کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سعید غنی ایک چھوٹے انسان ہیں۔

ٹوئٹر پر اس ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے اقرار الحسن نے کہا کہ ’ آج جہاز میں سعید غنی صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی۔ میں کئی باتوں میں اختلاف کے باوجود انہیں ایک بڑے باپ کا بڑا بیٹا سمجھتا تھا لیکن آج اندازہ ہوا کہ وہ ایک چھوٹے انسان ہیں۔ میں اپنے دوست کے بتانے پر اپنی نشست سے اُٹھ کر خود ان کے پاس گیا۔ یہ بات میں نے خواجہ سعد رفیق سے سیکھی تھی۔ ریلوے کارگو کرپشن پر پروگرام کے بعد ٹیم سرِعام اور اُس وقت کے وفاقی وزیر سعد رفیق کے درمیان اختلافات عروج پر تھے لیکن لندن میں ایک تقریب میں وہ خود چل کر میرے پاس آئے، ہاتھ ملایا اور کہا اختلاف اپنی جگہ انسان کا اخلاق خراب نہیں ہونا چاہیے ۔‘

اقرار الحسن کے مطابق پی ایس ایل کے لاہور میں ہونے والے ایک میچ کے دوران بھی خواجہ سعد رفیق خود ان کے پاس چل کر آئے ۔’ انہوں نے میرا ماتھا چوما اور لیاری سے لڑکی کو بازیاب کروانے والے پروگرام پر شاباش اور مبارک دی۔ آج جب میں نے خود جا کر سعیدغنی صاحب سے ملنے کا سوچا تو مجھے اندازہ ہوا کہ خواجہ سعد رفیق نے کتنی بہادری کا کام کیا تھا۔ بھر پور اختلاف کے باوجود وہ دو بار اپنے سے چھوٹی عمر کے اینکر کے پاس خود چل کر آئے تھے اور اس کے کام کو سراہا بھی تھا، سچ پوچھیں تو مجھے اپنی انا کو مٹا کر سعید غنی صاحب سے ہاتھ ملانے اور اُٹھ کر اُن تک جانے کے لئے بہت ہمت اور اپنے اندر بہت بہادری اکھٹی کرنا پڑی۔‘

اقرار الحسن نے اس ملاقات کے بارے میں بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’میرے خلاف سندھ دشمن کا ٹرینڈ چلوانے والے سعید غنی جن کے حلقے کے سکولوں میں آج بھی گدھے بندھے ہیں میرے اچانک سامنے آ جانے اور ہاتھ ملانے پر یا تو حواس باختہ ہو گئے تھے یا پھر شاید اُن کے چہرے پر تکبر اور غرور تھا۔ ہمارے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کا خلاصہ یہ تھا: میں نے ان سےکہا کہ میں آپ کے بارے میں بہت خوش گمان ہوں، جہاں توقع زیادہ ہو وہاں سےکچھ غلط ہو تو تکلیف بھی زیادہ ہوتی ہے اس لئے آپ پر پہلے بھی تنقید کی ہے اور آئندہ بھی مثبت تنقید کرتا رہوں گا، سعید غنی فرمانے لگے میں نے آپ کے لوگوں سے بھی کہا تھا کہ آپ نے جو کرنا ہےکرتے رہیں۔ اس رویے اور اس جملے کے بعد میں نے ان سے دوبارہ ہاتھ ملانے اور واپس اپنی نشست پر ہی آنے میں عافیت جانی۔ میں نے ایک شخص کو سمجھنے میں غلطی کی تھی۔ ایسے ہی وزیر ہیں جن کی وجہ سے پیپلزپارٹی اور سندھ آج اس نہج پر ہیں۔ اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے اور سندھ کے عوام پر رحم فرمائے۔ آمین‘

تبصرے
Loading...