رقم چھیننے کی واردات سے اے این پی رہنما کے مبینہ قاتل کا سراغ کیسے ملا؟

کوئٹہ پولیس کی وہ تحقیقات رقم چھیننے کے ایک چھوٹے سے واقعے کے بارے میں تھیں لیکن وہ کنجی ثابت ہوئیں اغوا کے اس ہائی پروفائل کیس کی گتھی سلجھانے میں جس کے باعث بلوچستان حکومت اور پولیس دونوں کو بہت زیادہ پریشانی کا سامنا تھا۔

اغوا کا یہ ہائی پروفائل کیس تھا عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) بلوچستان کے سیکریٹری اطلاعات اسدخان اچکزئی کا جو گذشتہ برس 25 ستمبر سے لاپتہ تھے اور جن کے اغوا کا مقدمہ ایئرپورٹ روڈ پولیس اسٹیشن میں درج ہوا تھا۔

چونکہ عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان میں مخلوط حکومت کا حصہ تھی اس لیے نہ صرف سنہ 2020 میں اغوا کے اس ہائی پروفائل کیس کے حوالے سے بلوچستان حکومت بلکہ حکومت میں شامل ہونے کے باعث خود اے این پی کو بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ 25 ستمبر 2020 کے بعد سے اس کیس کے حوالے سے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کی صدارت میں متعدد اجلاس ہوئے۔

اغوا کا مقدمہ درج ہونے کے بعد سے کوئٹہ پولیس اسد اچکزئی کی بازیابی کے کیس کی براہ راست تحقیق کرتی رہی مگر یہ تحقیقات براہ راست اسد اچکزئی کے قتل کے ملزم تک پہنچنے میں کامیاب ثابت نہیں ہوئیں۔ اس کے بجائے کوئٹہ کے علاقے سریاب میں رقم چھیننے کے ایک واقعے کے بارے میں ہونے والی تحقیقات بہت اہم ثابت ہوئیں۔

سریاب کے علاقے میں چھینی گئی یہ رقم کتنی تھی؟

سریاب کے علاقے سے رقم چھیننے کا واقعہ نو فروری 2021 کو پیش آیا تھا۔

رقم چھیننے کا یہ واقعہ ایک منی پیٹرول پمپ پر پیش آیا تھا۔

اسد خان اچکزئی کے اغوا کے واقعے کی تحقیقات سے وابستہ ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس منی پیٹرول پمپ پر تین افراد ایک کار میں ڈکیتی کے لیے آئے تھے۔

اہلکار کے مطابق پیٹرول پمپ سے چھینی گئی رقم ’زیادہ نہیں بلکہ ایک لاکھ 36ہزار روپے تھی‘ جبکہ اس کے علاوہ یہاں سے تین موبائل فون بھی چھینے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ رقم چھیننے کے واقعے کی تحقیقات کے نتیجے میں ایک ملزم کو کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا جنھوں نے اپنے جن دو ساتھیوں کی نشاندہی کی ان میں سے اسرار احمد کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ کے علاقے کانک کا رہائشی تھا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ اس تحقیقات کی روشنی میں کانک میں اسرار احمد کے گھر پر چھاپہ مار کر اسے گرفتار کیا گیا۔ اسرار احمد بلوچستان لیویز فورس کا ملازم بھی ہے۔

ملزم کے گھر سے گاڑی کی برآمدگی

اسد اچکزئی کے اغوا کی تفتیش سے وابستہ پولیس اہلکار نے بتایا کہ اسرار احمد کے گھر میں سلور رنگ کی ایک کار موجود تھی جو کہ پیٹرول پمپ سے رقم چھیننے کے واردات میں استعمال ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ چھاپے کے دوران ملزم سے ایک پستول کی برآمدگی کے علاوہ کار کو بھی تحویل میں لیا گیا جسے ملزم نے کیمو فلاج کرنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ بہت زیادہ نہیں تھا۔

اہلکار نے بتایا کہ ملزم نے کار کی اصلی نمبر پلیٹ نکال کر اس کی جگہ پر سبز رنگ کی نمبر پلیٹ لگا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ یہ سرکاری گاڑی ہے کیونکہ سرکاری گاڑیوں کے لیے سبز رنگ کی نمبر پلیٹ استعمال کی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ گاڑی کے اگلے حصے میں قومی پرچم بھی رکھا گیا تھا۔

جانچ پڑتال پر معلوم ہوا کہ ملزم کے گھر سے برآمد ہونے والی گاڑی اے این پی کے رہنما اسد اچکزئی کی ہے۔

27 فروری کو جس روز ملزم کو گرفتار کیا گیا تھا اسی شب ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ اظہر اکرام نے ایک پریس کانفرنس بھی کی تھی۔

ڈی آئی جی نے بتایا تھا جب ملزم سے برآمد ہونے والی گاڑی کے انجن اور چیسز نمبر چیک کیے گئے تو وہ اس گاڑی کے تھے جو کہ اسد اچکزئی کے زیر استعمال تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزم نے تفتیش کے دوران یہ اعتراف کیا تھا کہ انھوں نے اسد اچکزئی کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش نوحصار کے علاقے میں ایک کنویں میں پھینک دی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزم کی نشاندہی پر اسی کنویں سے اسد اچکزئی کی لاش برآمد کی گئی۔

کنویں کی گہرائی کتنی تھی؟

جس کنویں سے اسد خان اچکزئی کی لاش برآمد ہوئی اس کی گہرائی زیادہ تھی۔ کنویں سے لاش کو سول ڈیفنس کے اہلکاروں نے نکالا تھا اور گہرائی زیادہ ہونے کے باعث اس کے لیے کرین کا استعمال کیا گیا تھا۔

لاش کو نکالنے کے لیے سول ڈیفنس کے دو اہلکار کنویں میں اترے تھے۔

کنویں میں اترنے والے ایک اہلکار سلیم الدین ناصر کے مطابق کنویں کی گہرائی اندازاً دو سو فٹ تھی۔ گہرے کنویں میں گرنے کے باعث لاش کی ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں۔

لاش کو کنویں سے نکالنے کے بعد پوسٹ مارٹم کے لیے بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

ہسپتال کے پولیس سرجن ڈاکٹر علی مردان نے بی بئ سی کو بتایا کہ لاش گل گئی تھی اور یہ تین سے چار ماہ پرانی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ گہرے کنویں میں پھینکنے کے باعث لاش کی سر کی ہڈی کے علاوہ جسم کی دیگر ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں۔

پولیس سرجن کا کہنا تھا کہ لاش کی سر کی ہڈی پر ایک گولی کا نشان تھا۔

جس روز اسد اچکزئی کی لاش برآمد ہوئی تھی اسی روز عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان سینٹ انتخاب کی مشاورت کے سلسلے میں کوئٹہ میں تھے

اسد اچکزئی کے قتل کے خلاف احتجاج اور جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ

اسد اچکزئی کے قتل کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے قتل کے خلاف اتوار کو کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد دیگر علاقوں میں شٹر ڈائون ہڑتال کی گئی تھی جبکہ پیر کو وکلا نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔

جس روز اسد اچکزئی کی لاش برآمد ہوئی تھی اسی روز عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان سینٹ انتخاب کی مشاورت کے سلسلے میں کوئٹہ میں تھے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران ایمل ولی خان نے اس واقعے کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ کیا تھا کہ اسد خان اچکزئی کے اغوا اور قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل انکوائری قائم کیا جائے۔

اسدخان اچکزئی کون تھے؟

اسد خان اچکزئی کا تعلق بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن سے تھا۔ ان کے خاندان کی وابستگی عوامی نیشنل پارٹی سے رہی ہے۔

وہ عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے موجودہ صدر اور رکن بلوچستان اسمبلی اصغر خان اچکزئی کے چچازاد بھائی تھے۔ وہ خود بھی عوامی نیشنل پارٹی کے عہدیدار اور پارٹی کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات تھے۔

اسد خان زمانِہ طالب علمی سے قوم پرستی کی سیاست سے وابستہ رہے ہیں۔

ایئرپورٹ روڈ پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے کے مطابق اسد خان اچکزئی کو 25 ستمبر 2020 کو چمن سے کوئٹہ آتے ہوئے اغوا کیا گیا تھا۔

وہ عوامی نیشنل پارٹی کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے چمن سے کوئٹہ آ رہے تھے۔ مقدمے کے مطابق انھیں ایئرپورٹ روڈ سے اغوا کیا گیا تھا۔

گذشتہ پانچ ماہ کے دوران ان کے اغوا کے خلاف چمن اور کوئٹہ میں احتجاج ہوتا رہا۔ عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے اسد اچکزئی سمیت دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے چند روز قبل ملکی سطح پر بھی احتجاج کیا گیا تھا
بشکریہ بی بی سی اردو

تبصرے
Loading...