قومی اسمبلی اجلاس: فیصل واوڈا اور شاہد خاقان آمنے سامنے تلخ جملوں کا تبادلہ

قومی اسمبلی میں آج چور چور کا شور سنائی دیا، فیصل واوڈا نے وقفہ سوالات میں بتایا گزشتہ حکومت نے نہ صرف پورا ملک لوٹا بلکہ صوبوں کاپانی بھی چوری کیا گیا، جواب دیتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا پنجاب نے کسی کا پانی چوری نہیں کیا، کمیٹی بنا دی جائے، حقائق سامنے آ جائیں گے۔
شاہد خاقان عباسی سے مخاطب ہوتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے دور میں ہر چیز چوری ہوئی اور ڈاکہ ڈالا گیا، اگر آپ غیر پارلیمانی کام کریں گے تو غیر پارلیمانی زبان بھی استعمال ہوگی اور آپ کے خلاف غیر پارلیمانی ایکشن بھی ہوں گے، اور ہم کرکے دکھائیں گے آپ کو، اب کسی چوری اور ڈاکے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
جواب میں شاہد خاقان عباسی اسلمبلی فلور پر کھڑے ہو کر کہا کہ اگر مجھے چور کہیں گے تو میں آپ کو اور آپ کے والد کو چور کہوں گا، جو ایک لفظ بولے گا دس لفظ سنے گا، آپ ابھی کمیٹی بنائیں تاکہ عوام کو پتا چلے کہ الیکشن چوری کرنے والے آج اپنی چوری پر پردہ ڈالنے کیلئے ہر دوسرا لفظ چور کا استعمال کرتے ہیں۔
فیصل واوڈا نے جواب دیا کہ یہ آپ کی پرورش ہوگی کہ آپ میرے والد کو چور کہیں گے مگر جواب میں میں ایسا کچھ نہیں کہوں گا، میں شاہد خاقان عباسی صاحب کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ میں مجرم نہیں ہوں یا میں کٹہرے میں نہیں کھڑا، نواز شریف صاحب، ان کی بیٹی، داماد اور سمدھی یا تو مفرور ہیں یا جیل میں ہیں۔

تبصرے
Loading...