وفات کے کتنے عرصے بعدتک میت کی نماز جنازہ پڑھائی جاسکتی ہے۔سعودی مفتی کے بیان سے نئی بحث چھڑ گئی

ریاض(ویب‌ڈیسک) ممتاز سعودی عالم شیخ صالح الفوزان نے ایک مذہبی پروگرام کے دوران بتایا ہے کہ اگر کوئی شخص وفات پا جائے تو اس کی نمازِ جنازہ فوری طور پر بھی پڑھی جا سکتی ہے، لیکن اگر کسی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکے تو وفات کے بعد تیس دِن تک نماز جنازہ پڑھنے کی گنجائش ہوتی ہے، اس کے بعد پڑھنا مناسب نہیں. کیونکہ اس مُدت کے بعد میت گل سڑ جاتی ہے.

اُنہوں نے یہ وضاحت ٹی وی چینل پر فتوؤں سے متعلق ایک پروگرام میں ایک سوال کے جواب میں کی.ایک شخص نے اُن سے سوال کیا تھا کہ اُن کے ایک عزیز کا انتقال ایسے وقت میں ہوا جب وہ سفر میں تھا. اُس کی وفات کے ایک ہفتے بعد ساتھیوں کی واپسی پر حادثے کی اطلاع مِلی. کیا وہ قبرستان جا کر اپنے مردہ عزیز کی قبر پر نمازِ جنازہ ادا کر سکتا ہی.اس پر الفوزان نے کہا کہ وفات کے بعد ایک ماہ تک ایسا کیا جا سکتا ہے،

اس کے بعد نہیں، کیونکہ پھر میت گل سڑ جاتی ہے.شیخ صالح الفوزان سے ایک اور سوال کیا گیا کہ کیا قبرستان جا کر اپنے وفات پا گئے عزیزوں کی قبر پر کھڑے ہو کر اُنہیں اہلِ خانہ کے حالات بتانا جائز ہے؟ تو اس کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ ایسا کرنا جائز نہیں، کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا. لوگوں میں یہ غلط بات رواج پا چکی ہے کہ مُردے اپنوں کی آوازیں سُنتے ہیں. اس بات میں کوئی صداقت نہیں ہے. اس لیے ایسا کرنا ازروئے اسلام جائز نہیں. واضح رہے کہ شیخ صالح الفوزان ممتاز سعودی علماء کے بورڈ کے رُکن ہونے کے علاوہ دارالافتاء کے ممبر بھی ہیں.

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں