- Advertisement -

2 ارب لیٹر سے زیادہ ڈیزل ملک میں موجود ہے اور یہ 60 دنوں کیلئے ہے: مفتاح اسمٰعیل

- Advertisement -

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا ہے کہ 2 ارب لیٹر سے زیادہ ڈیزل ملک میں موجود ہے اور یہ 60 دنوں کے لیے لہٰذا ڈیزل درآمد کرنے کی کم سے کم ضرورت ہے، فرنس آئل بھی پورےسیزن کے لیے موجود ہے اور مزید فرنس آئل درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے وزیرخزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ 17 تاریخ کے بعد سے ڈالر کی مارکیٹ بڑھی ہے اور اب آہستہ آہستہ کنٹرول میں آگئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مہینے کی درآمدات پچھلے سال اور پچھلے مہینے کے مقابلے میں کم ہیں، ڈالر میں دباؤ کی وجہ سیاسی کشیدگی ہے لیکن جیسے ہی اعلان ہوا کہ وفاقی حکومت جاری رہے گی تو مارکیٹ میں ٹھہراؤ آگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے مہینے 7.5 ارب ڈالر کی تاریخی زیادہ درآمدات ہوئی تھیں، میں 3.7 ارب توانائی اور 3.7 ارب دیگر اشیا تھیں، اس کی ادائیگوں کی وجہ سے روپے پر دباؤ آرہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے بہت قدغنیں لگائی ہیں، اس کی وجہ سے بہت کم ایل سیز کھلی ہیں، اسی لیے اگلے مہینے بھی درآمدات کم ہوں گی اور پچھلے مہینے قدغنیں لگائی تھی تو اس مہینے درآمدات کم ہوئی ہیں۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ 2 ارب لیٹر سے زیادہ ڈیزل ملک میں موجود ہے اور یہ 60 دنوں کے لیے لہٰذا ڈیزل درآمد کرنے کی کم سے کم ضرورت ہے، فرنس آئل بھی پورےسیزن کے لیے موجود ہے اور مزید فرنس آئل درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ موٹرگیسولین کی طلب میں کم ہوئی ہے، موٹر گیسولین، فرنس آئل اور ڈیزل کی درآمد میں خاطر خوا کمی آئی ہے اور اس کی وجہ سے روپے پر دباؤ کم ہوگا اور اس کے اثرات اگلے ہفتے اور اگلے مہینے سے نظر آئیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بینکوں میں ڈالر کی طلب ہے اور ڈالر کی سپلائی سے کم ہوگی اور یہ چیزیں حکومت کے کنٹرول میں ہے، ایکسچینج ریٹ کے علاوہ معیشت ٹھیک چل رہی ہے۔
مفتاح اسمٰعیل نے ایک سوال پر کہا کہ ہم اگلے ہفتے کے اندر اسٹیٹ بینک کے نئے گورنر نامزد کریں گے اور آج ہی اسٹیٹ بینک کے بورڈ کے نام بھی جاری کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ڈالر کو قید نہیں کر سکتے کیونکہ ہم ڈبلیو ٹی او اور سب سے اہم آئی ایم ایف سمیت بین الاقوامی معاہدوں میں ہیں، ڈالر کی ٹریڈنگ ہورہی ہے لیکن ہم دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں ٹھیک کھڑے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پنجاب میں 20 سیٹوں کا الیکشن تھا، اس میں 7 سیٹوں پر پچھلی دفعہ ہمارے پاس امیدوار نہیں تھے اور ہم نے 13 حلقوں میں الیکشن لڑا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ حلقوں میں 2018 کے مقابلے میں شیر کے نشان پر 2 لاکھ کے قریب اس دفعہ زیادہ ووٹ لیے ہیں، جو سیٹیں ہمارے پاس نہیں تھی وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) یا آزاد امیدواروں کے پاس تھیں، ان میں سے ہم نے 5 سیٹیں بھی حاصل کر لیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حلقے بھی ہیں جہاں ہم نے پچھلی دفعہ 6 ہزار ووٹ لیا اور اس دفعہ 45 ہزار ووٹ لیا، ایسے حلقے بھی جہاں پچھلی دفعہ مسلم لیگ(ن) کا نام و نشان نہیں تھا وہاں مریم نواز نے بھرپور مہم چلائی اور پارٹی کی شناخت بنائی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بعض جگہوں پر ہمارے روایتی امیدوار تھے جنہوں نے 2023 میں الیکشن لڑنے کا ذہن بنایا تھا، ان کی دل شکنی ہوئی کہ ہم نے ان کی جگہ پی ٹی آئی کے لوگوں کو الیکشن لڑوایا اور اس کی وجہ سے دراڑیں پڑی لیکن مجموعی طور پر یہ ہماری کامیابی ہے کیونکہ ہم نے اپنی پوزیشن بہتر کی ہے بلکہ نہیں کھوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ کامیابی اس لحاظ سے ہے ہم نے ووٹ بھی زیادہ حاصل کیا اور نشستیں بھی حاصل کیں اور 5 نشستیں ملی ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پچھلی دفعہ پنجاب میں تھوڑے سے فرق کی وجہ سے جہاز چلے اور لوگوں کو خریدا گیا، اس کے بعد میں نے نہیں کہا کہ پرویز الہیٰ ڈاکو ہے لیکن عمران خان نے یہ کہا تھااور ان کو حکومت دے رہا ہے، اپنے 178 ارکان قربان اس لیے کر رہا کہ اقتدار حاصل کرنے کے ضمیر سمیت جو بھی بک جائے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم پر الزام لگا رہے ہیں کہ بندے خریدے رہے ہیں لیکن ایک ہی بندے سے اسٹامپ خریدے اور ایک ہی وکیل نے تصدیق کی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے حصے میں یہ عزت آئی ہے کہ اس انتخابات میں کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا ہے کہ یہاں دھاندلی ہوئی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نے ضمنی انتخابات میں ووٹ کو پامال نہیں ہونے دیا باوجود اس کے کہ ہمارا اقتدار داؤ پر لگا ہوا تھا حالانکہ ہمیں اس چیز کا پورا احساس تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اپنی پارٹی اور قیادت کے ساتھ وفاداری کی وجہ سے ہمارے خلاف ادارے استعمال ہوئے اور اس ادارے کے سربراہ کی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں۔