- Advertisement -

راولپنڈی اور غذر کے درمیان چلائی جانے والی بسیں سفر کیلئے غیر محفوظ قرار

- Advertisement -

راولپنڈی اور غذر کے درمیان چلائی جانے والی بسیں سفر کے لیے غیر محفوظ قرار دی گئیں، عوام نے مجرمانہ غفلت پر متعلقہ ادارے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
گلگت بلتستان کی آبادکاری کے لحاظ سے سب سے بڑی آبادی والے ضلعوں میں سے ایک ضلع غذر کیلئے نہایت بوسیدہ اور سفر کے لیے انتہائی غیر محفوظ بسیں سالوں سے چلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
ناردرن ایریاز ٹرانسپورٹ کارپوریشن(نیٹکو) کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ضلعی ہیڈکوارٹر گاہکوچ کے لیے مختص تقریباً تمام بسیں اپنی میعاد مکمل کرچکی ہیں اور کسی بھی وقت انسانی سانحہ کا باعث بن سکتی ہیں۔ بسیں سیفٹی اینڈ مینٹیننس کے معیارات پر بھی پورا نہیں اترتیں۔
عہدیدار نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ متعلقہ انتظامیہ کے عہدیداران کے علم میں یہ بات برسوں سے ہونے کے باوجود کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔
اشکومن کے رہائشی ایک مسافر، جو ملازمت کی غرض سے اسلام آباد اور گاہکوچ کے درمیان باقاعدگی سے سفر کرتے ہیں، نے بتایا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے سہولیات کی عدم موجودگی کی وجہ سے مجبوراً ان بسوں پر سفر کرنی پڑتی ہے، انتظامیہ کسی بڑے حادثے کے انتظار کے بجائے بروقت اقدامات اٹھائے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ بسیں اب بسیں کم موت کے پیعامبر زیادہ لگتی ہیں۔
نیٹکو عہدیدار نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ حال ہی میں نئی خریدیں گئیں آٹھ بسوں میں سے گلگت، سکردو اور ہنزہ کو دیے جانے کی تیاری کی گئی ہے مگر غذر کاروبار کے لحاظ سے سب سے زیادہ منافع بخش ضلع ہونے کے باوجود اسے نظر انداز کیا گیا۔ اس حوالے سے مذکورہ بالا علاقوں کے ڈرائیورز کو کراچی سے گاڑیاں لانے کی زمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔
اس تمام معاملے کے سامنے آنے سے علاقے کے سیاسی نمائندوں کی عدم دلچسپی اور نااہلی بھی صاف کھل کر سامنے آئی ہے جو دن رات بلند و بانگ دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر علاقے کو درپیش درینہ مسائل کے حل کے لیے کوششیں کرنے میں ناکام ہیں۔
گلگت بلتستان کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی واحد شاہراہِ، شاہراہِ قراقرم پر ٹریفک حادثات میں پچھلے چند سالوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
متعلقہ اداروں میں رشوت ستانی اور بدعنوانیوں کے باعث ٹرانسپورٹرز حفاظتی اصولوں کو چکمہ دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ گاڑیوں کی ناگفتہ بہ حالت کے پیش نظر سفری حادثات نے مسافروں کو خوف اور ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔
علاقہ مکینوں نے وزیراعلیٰ خالد خورشید اور ایم ڈی نیٹکو سے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے نئی خریدیں گئیں بسوں میں سے چند بسیں فوری طور پر غذر سے راولپنڈی کے درمیان چلانے کی ہدایت کرنے کے ساتھ ساتھ پرانی بسوں کو تلف کرنے کا حکم دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
عوام نے تنبیہ کی ہے کہ خدا نخواستہ کسی بھی حادثے کی صورت میں نیٹکو کے سربراہ اور متعلقہ حکام زمہ دار ہونگے۔