کیا آپ جانتے ہیں فرشتوں کا بھی کعبہ موجود ہے مگر کس جگہ ، یہاں کتنے فرشتے روزانہ نماز پڑھتے ہیں؟ایسی معلومات کہ پڑھ کرآپ بے اختیار سبحان اللہ کہہ اٹھیں گے

زمیں پر خانہ خدا انسانوں کے لئے قبلہ کا درجہ رکھتا ہے تو ساتویں آسماں پر فرشتوں کا بھی خانہ خدا ہے جسے بیت المعمورپکارا جاتا ہے۔ حضرت علامہ جلال الدین

سیوطی ؒ کے مطابق خانۂ خدا کو پہلی بار فرشتوں نے ’’بیت المعمور‘‘ کے عین نیچے زمین پر خانہ کعبہ کے طورتعمیرکیا۔ سورہ طور میں اللہ تعالیٰ نے جو پانچ قسمیں کھائی ہیں ان میں ایک قسم بیت المعمور کی ہے۔’’اور بیت المعمور کی قسم‘‘(وَ البیتِ المَعمْور)۔بیت المعمور ساتویں عرش پر موجود ہے جسے فرشتوں کا قبلہ کہا جاتا ہے۔ فرشتے اسکا طواف کرتے ہیں۔یہ عرش الٰہی کے عین نیچے ہے ۔مسلم شریف میں مذکورمعراج شریف کی طویل حدیث میں سے کچھ حصہ یوں بھی ہے۔ ساتویں آسمان پر رسول اللہﷺ جب تشریف لائے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیت المعمور سے ٹیک لگائے دیکھا جس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں۔جو ایک بار آتے ہیں دوبارہ لوٹ کر نہیں آتے ۔حضرت علیؓ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے ؟ آپؓ نے فرمایا ’’وہ آسمان میں ہے اسے صراح کہا جاتا ہے۔ کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے ، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے‘‘امام

ابی بکراحمد بن الحسین بیہقی کی کتاب دلائلِ النبوۃ میں لکھا ہے’’یہاں تمام انبیاء اورمْرسَلین کے ساتھ نماز پڑھی اوربیت المعمورمیں سب انبیاء اور امت مرحومہ اور پچھلی امتوں کے ایمان والوں نےبھی آپ کی امامت میں نماز پڑھی۔ کچھ لوگ پہلی صف میں تھے کچھ دوسری کچھ تیسری اور کچھ ان صفوں میں تھے جو بیت المعمور کے باہر تھیں، فرق مَراتِب میں تھا ،اْن میں کچھ کے کپڑے سفید تھے اور کچھ کے میلے۔ سفید والے صالحین ہیں اور میلے گنہگار تھے ۔ان سب نے بیت المعمور میں نماز ادا کی‘‘بعض علماء نے اس میں اختلاف بھی کیا ہے کہ معراج کی شب تمام انبیاء نے بیت المقدس میں آپﷺ کی امامت میں نماز ادا کی اور بیت المعمور میں آپﷺ کی امامت میں صرف فرشتوں نے نماز ادا کی۔علامہ محمد باقر المجلسی نے بحار الانوار میں لکھاہے کہ بیت المعمور زمین اور آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے تخلیق کیا گیا۔روایات کے مطابق جبرائیلؑ نے اس کے بارے میں بتایا ہے’’اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں اور جب ایک بار اس سے نکلتے ہیں تو دوبارہ ان کے داخلے کی نوبت نہیں آتی‘‘۔جو فرشتہ ایک بار بیت المعمور کا طواف کرلیتا ہے،قیامت تک اسکی دوبارہ باری نہیں آتی۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں