- Advertisement -

چیف جسٹس آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے فل کورٹ بنچ تشکیل دے: وفاقی وزیر قانون

- Advertisement -

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح پر اب فل کورٹ سماعت کرے تاکہ ملک کو موجودہ آئینی بحران سے نکالا جا سکے۔
لاہور میں وزیر داخلہ پنجاب عطا تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پچھلے کچھ ماہ سے مخلتف نوعیت کے مقدمات میں عدالت عظمیٰ گئے جن میں ایک مقدمہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا ہے جو گزشتہ حکومت میں عمران خان نے اپنی تجویز پر بذریعہ صدر پاکستان سپریم کورٹ کو ریفرنس کی شکل میں بھیجا تھا کہ سپریم کورٹ حکومت پاکستان کو بتائے کہ اگر آرٹیکل 63 اے کے تحت کچھ ممبران اپنی پارٹی کی ہدایت سے ہٹ کر ووٹ دیتے ہیں تو کیا انکا ووٹ گنتی میں شمار ہوگا یا نہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جب وہ مقدمہ زیر سماعت تھا تو اس میں استثنیٰ لینے کی کوشش کی گئی اور عدالت عظمیٰ کو بار بار یہ استدعا کی گئی کہ حکم امتناحی جاری کیا جائے کہ اگر کوئی منحراف رکن ووٹ ڈالتا ہے تو وہ ووٹ گنا نہ جائے لیکن اس میں سپریم کورٹ نے استثنیٰ جاری نہیں کیا تھا اور اس عرصے میں قومی اسمبلی میں تحریک عدم اطمینان پر ووٹنگ ہوگئی تھی اور اس کے بعد پنجاب میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے حمزہ شہباز نے 197 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پھر یہ معاملہ بھی عدالت عظمیٰ میں گیا کہ یہ انتخاب درست ہے یا نہیں اور پھر عدالت کی پانچ رکنی بینچ نے سماعت کی جس میں سے تین ججز نے کہا تھا کہ اگر ایسے اراکین جو کو پارٹی سربراہ سے ہدایت آئی تھی اور وہ اس کے برعکس ووٹ ڈالتے ہیں تو ان کا ووٹ شمار نہیں کیا جائے گا اور پھر اس فیصلے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے اس فیصلے کی روشنی میں اپنا فیصلہ دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں پرسوں وزیر اعلیٰ کا جو انتخاب ہوا اس میں پھر ڈپٹی اسپیکر کے سامنے یہ صورتحال آئی کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ کی طرف سے ڈپٹی اسپیکر کو خط لکھا جس میں انہوں لکھا کہ 63 اے کے تحت 10 اراکین کو یہ ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ اپنا ووٹ حمزہ شہباز کو دیں اور پھر ڈپٹی اسپیکر نے ان اراکین کے ووٹ خارج کیے جس کے بعد پرویز الہٰی کے 186کے بجائے 176 ووٹ بنے جبکہ حمزہ شہباز 189 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔
اعظم تارڑ نے کہا کہ اسی رات چوہدری پرویز الہیٰ نے سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں درخواست دائر کی اور رات کو عدالت کھولی گئی اور اب معاملہ عدالت میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی اتحاد میں شامل تمام جماعتوں نے یک زباں ہوکر کہا کہ کیا یہ مناسب ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ووٹ ڈالے جانے اور نہ گنے جانے پر تشریحی حکم کو نظرثانی میں چلینج کیا اس کو اور موجودہ مقدمے سمیت پہلے نااہل قرار دیے جانے والے اراکین کی درخواستوں سمیت آرٹیکل 63 اے کی تشریح جیسے بنیادی مقدمات کو یکجا کرکے فل بینچ ان پر سماعت کرے تاکہ ملک کو اس آئینی بحران سے فوری طور پر نکالا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی کی طرف سے بھی یہ مطالبہ آیا کہ سیاسی نوعیت اور اہم آئینی نوعیت کے مقدمات کے لیے لارجر بینچ یا فل کورٹ ہونا چاہیے تاکہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 12 کروڑ عوام کے نمائندے کو اگر عدالتی فیصلے سے گھر بھیجنا ہے تو میں یہ ضرور سمجھوں گا کہ جو منصفانہ اور آزادانہ تقاضا ہے عدالت اس کو سنجیدگی سے سنے اور اب تمام سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی کا بھی یہی خیال ہے۔