- Advertisement -

کراچی میں موسلا دھار بارش، کرنٹ لگنے سے 2 افراد جاں بحق

- Advertisement -

کراچی میں دوسرے دن بھی وقفے وقفے سے موسلادھار بارش جاری ہے جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لیاری اور سائٹ کے علاقے میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والے 2 شہریوں کی لاشیں سول ہسپتال کراچی لائی گئی ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز سے کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش جاری ہے جس کے نتیجے میں کراچی کے مختلف علاقوں میں کرنٹ لگنے سے 4 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ گهر کی چھت گرنے سے دو بچوں سمیت 4 افراد زخمی بھی ہوئے۔
 
بارش کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت سندھ نے صوبے میں ‘رین ایمرجنسی’ نافذ کردی ہے، جبکہ آج کراچی اور حیدرآباد میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے اعداد و شمار سے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پی اے ایف مسرور بیس میں 200 ملی میٹر کے ساتھ سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
اس کے بعد کیماڑی میں 188 ملی میٹر، صدر میں 164 ملی میٹر، سرجانی ٹاؤن میں 153 ملی میٹر، گلشن حدید میں 154 ملی میٹر، ڈی ایچ اے فیز ٹو میں 124 ملی میٹر، گڈاپ ٹاؤن میں 103 ملی میٹر، قائد آباد میں 111 ملی میٹر اور ناظم آباد میں 106 ملی میٹربارش رکارڈ کی گئی ہے۔
مسلسل بارش کی وجہ سے شہر کے متعدد علاقے و سڑکیں زیر آب آچکی ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف شہریوں کو سخت تکلیف کا سامنا ہے بلکہ ٹریفک کی روانی بھی بہت متاثر ہوئی ہے۔
آج ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شاہین کمپلیکس اور سندھ اسمبلی کے پاس برساتی نالوں کا دورہ کیا اور کہا کہ ابھی تک وہ پانی کی مکمل رفتار سے بہہ رہے ہیں۔
بجلی کے 70 فیڈرز بند
دریں اثنا ‘کے الیکٹرک’ کے ترجمان نے کہا کہ شہر میں وقفے وقفے سے بارش جاری ہے مگر بارش رکنے کے بعد بجلی کی فراہمی بحال کرنے کی کوششیں شروع کی جائیں گی۔
کے الیکٹرک ترجمان نے کہا کہ 1900 فیڈرز میں سے 70 کو احتیاطی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ محمود آباد، صرافہ بازار، کورنگی سیکٹر 10، گلستان جوہر بلاک 10/11/12، کے ڈی اے ایمپلائرز سوسائٹی اور فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم میں فیلڈ ٹیموں کی جانب سے کلیئرنس ملنے کے بعد بجلی کی فراہمی بحال کر دی گئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ الیاس گوٹھ، بسم اللہ کالونی، مدینہ کالونی، شاہ فیصل ٹاؤن اور لانڈھی کے مختلف سیکٹرز میں بجلی کی فراہمی بحال کردی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو علاقے زیر آب ہیں وہاں بجلی کی فراہمی عارضی طور پر معطل کردی گئی ہے اور جیسے ہی پانی نکالنے کا عمل مکمل ہوگا تو بجلی بحال کردی جائے گی۔
اس کے علاوہ کراچی ٹریفک پولیس نے کہا کہ ایوان صدر، ایم اے جناح روڈ، حقانی چوک، ایم آر کیانی روڈ، گرو مندر، لیاقت آباد، غریب آباد، شفیق موڑ، سہراب گوٹھ، ڈی ایچ اے، تین تلوار، کلفٹن اور قائد آباد میں بارشی پانی زیادہ ہونے کی وجہ سے سڑکیں بند ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک میں مشکلات کا سامنا ہے۔