عمران خان کو اپنے پرانے مہربان علیم خان کی گرفتاری پر ذرا بھی صدمہ نہیں ،بلکہ اب کونسے مزید دو بکرے قربان کیے جائیں گے ؟ ہارون الرشید کی دھماکہ خیز پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) شاید یہ پہلی قربانی ہے۔ وزیرِ اعظم کی سیاسی بصیرت پہ کچھ عرض کرنے کی ضرورت نہیں۔ کوشش وہ پوری کریں گے کہ سیاسی فائدہ اٹھائیں۔ خود کو صلاح الدین ایوبی بنا کر پیش کریں۔ جن کے نرغے میں ہیں، ان میں دانا کم اور ناداں زیادہ ہیں۔ ممکن ہے پورا فائدہ اٹھا نہ سکیں۔

نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ لاہور میں اپنے میزبان اور سرمایہ کار کی گرفتاری پہ صدمہ انہیں ہرگز نہ ہو گا۔ امام رضا کی پراسرار شہادت کے باب میں ابو الکلام نے کہا تھا: سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ۔ سیاست کی آنکھ میں حیا بھی کہاں ہوتی ہے؟ کارِ سیاست میں یوں بھی یہ بد لحاظی اور بے حیائی کا موسم ہے۔ اہم یا غیر اہم، معاملے کا یہ ایک پہلو ہے۔ دوسرا یہ کہ اس سڑے بسے پارلیمانی نظام میں سیاسی پارٹیاں کروڑ پتیوں کی آب رسانی سے چلتی ہیں۔ چھوٹے سے ایک جزیرے کا نام برطانیۂ عظمیٰ ہے‘ جہاں ایک خاص سانچے میں ڈھلی اینگلو سیکسن اقوام سانس لیتی ہیں۔ اس دیار کے سوا پارلیمانی نظام دنیا کے کسی خطے میں کبھی نتیجہ خیز نہیں ہو سکا ۔ صدارتی نظام اور چھوٹے صوبوں کی بات ہو تو الزام سہنا پڑتا ہے۔ اس تصور کو اسٹیبلشمنٹ کا بچہ کہا جاتا ہے؛ با ایں ہمہ، جب تک یہ نظام قائم ہے، سیاست زرداروں کی رہے گی، اسٹیبلشمنٹ کی رہے گی اور فریب کاروں کی۔ معاشرے کا کچرا گلزار کہلائے گا اور گلستان کو ویرانہ کہا جائے گا۔ نیم قبائلی ، نیم سرمایہ دارانہ، نیم جاگیردارانہ یہ معاشرہ سرپرستی اور سرپرستوں کا معاشرہ ہے،

تمیزِ بندہ و آقا۔ عدل کی اس میں کیا مجال، انصاف کا یہاں کیا کام۔ ابھی ابھی جاتی امرا سے اطلاع ملی کہ سامان باندھا جا رہا ہے۔ ممکن ہے، محض اس امید پر کہ قانون کرم فرما ہو گا۔ لاہور کے ڈاکٹر تنویر قائدِ اعظم کی بیماری کا راز رکھنے والے معالج کی طرح ضابطۂ اخلاق کے پابند کہے جاتے ہیں۔ تین ہفتے قبل انہوں نے مریض کا معائنہ کیا اور کہہ دیا تھا کہ حالت اچھی نہیں۔ اصول بتا دیا تھا کہ بیمار کو مرضی کے معالج سے علاج کا حق ہوتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ مرضی کے معالج برطانیہ عظمیٰ میں پائے جاتے ہیں۔ میاں محمد نواز شریف کو لندن جانے کی اجازت مل سکتی ہے۔ ایسا ہوا تو مظلومیت کا موثر ہتھیار کند ہو جائے گا۔ ترس کھانے والے شاید طعنہ زنی پہ اتر آئیں ۔ آنے والا کل کیا لائے گا، یہ صرف وہ جانتا ہے، جس نے آدمی کو پیدا کیا، جسے نیند اور اونگھ نہیں آتی۔ تاریک غاروں میں جو چیونٹیوں کے قدموں کی آواز اور انسانی خیالات کی سرسراہٹ سنتا ہے۔ ہم اندازے قائم کرتے ہیں ، جو درست ہوتے ہیں اور نا درست بھی۔ نواز شریف کی ہمت مرجھا گئی تو خاندان کی سیاست پہ بھی خزاں اترے گی۔

تقدیر بگڑ جائے تو ٹائی ٹینک بھی ڈوب جاتے ہیں۔ پھر زرداری رہ جائیں گے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وہ کمزور تر ہوں گے۔ ہر بونے والے کو اپنا بویا کاٹنا ہوتا ہے۔ انہیں بھی کاٹنا ہے۔ سبھی کو کاٹنا ہے۔ انہیں بھی اخبار کی سیاہی اور سکرین کی روشنی میں جن کے نام لب پہ نہیں آتے۔ وہ کھرب پتی بھی ، جو خیالات خرید سکتے ہیں۔ سموچا آدمی نگل جاتے ہیں ۔ قبیلوں کے قبیلے جن کے سامنے سپر انداز ہوتے ہیں۔ زبانِ حال سے جو یہ کہتے ہیں: ان کی محنت بھی مری، حاصلِ محنت بھی مرا ۔۔ ان کے بازو بھی مرے، قوّتِ بازو بھی مری ۔۔ میں خداوند ہوں اس وسعتِ بے پایاں کا ۔۔ موجِ عارض بھی مری، نکہتِ گیسو بھی مری ۔۔۔ امریکہ اور اشرف غنی نے ماسکو مذاکرات کا بائیکاٹ کیا۔ طالبان ، کرزئی اور حکمت یار کے نمائندے موجود تھے۔ امریکہ بہادر چاہتا یہ ہے کہ کم از کم دو تین ہزار فوجی اپنے باقی رکھے۔ اس کے حواری شریکِ اقتدار ہوں۔ کھربوں کھربوں ڈالر کی معدنیات چینی اٹھا نہ لے جائیں۔ پڑوسی روس عظمتِ رفتہ کی بحالی چاہتا ہے۔ امریکیوں نے جان لیا ہے کہ پاکستان کے بغیر خطے میں ان کی بات بنے گی نہیں؛

لہٰذا ایک بار پھر پیار کی پینگیں ہیں۔ طالبان بڑا فریق ہیں‘ مگر واحد نہیں‘ وسطی افغانستان میں تاتاری ہیں، جن کے بارے میں اقبالؔ نے کہا تھا: ہے یاں یورشِ تاتار کے افسانے سے/ پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے۔ ایران ان کے ساتھ ہے۔ شمال میں ترکمان ہیں، استنبول کے سائے میں۔ حکمت یار بھی ایک مؤثر فریق ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ آنے والا کل کیا لائے گا؟ تخم بوئے جا چکے۔ پاکستان اب ویسا نہیں رہے گا۔ اگرچہ نائن الیون جیسا واقعہ نہیں مگر دنیا بھی اب ویسی نہ رہے گی۔ عہدِ آخر کے بارے میں اللہ کے آخری پیغمبرﷺ کے فرامین میں سے ایک کا خلاصہ یہ ہے: سال مہینوں کی مانند، مہینے دنوں کی طرح اور دن چولہے میں جلتے تنکوں کی طرح گزرتے جائیں گے۔ کلجگ ہے یہ کلجگ۔ شاید وہ دن اب چند عشروں کی مسافت پہ ہے، جب صور پھونکا جائے گا، ستارے بجھ جائیں گے اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑیں گے۔ عارف کا کہنا یہ ہے: آخری زمانے کے فتنے ہیں، یہ آخری زمانے کے۔ فرمایا ”جو کچھ اس زمین پہ ہے‘ فنا ہونے والا ہے‘ باقی رہے گا تیرے رب کا چہرہ‘ عظمت اور بزرگی والا‘‘۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں